انقلابی گاؤں بسودھ: قتل عام کی 164 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیشکش

ڈنلپ لکھتا ہے کہ تمام اشخاض جو ہتھیار اٹھانے کے قابل تھے انہیں گولی مار دی گئی یا تلواروں سے قتل کر دیا گیا صرف 15 آدمی ہی باقی بچے تھے جنہیں ملٹری کمانڈنٹ کے حکم سے شام کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا‘‘۔

بسودھ گاؤں کے باہر موجود دروازہ / تصویر شاہد صدیقی علیگ
بسودھ گاؤں کے باہر موجود دروازہ / تصویر شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

پہلی ملک گیر جنگ آزادی کے اوراق گردانی کرنے پر عظیم انقلابی شخصیات کے ناموں کے ساتھ ان مقامات کے نام بھی سامنے آتے ہیں جنہوں نے برطانوی نوآبادیاتی شکنجہ سے بازیابی حاصل کرنے کے لیے اہم کردار کیا، ایسا ہی ایک مقام ہے انقلابی موضع بسودھ، جسے میرٹھ کا جلیاں والا باغ کہنا بیجا نہ ہوگا، کیونکہ باغپت ضلع وجود میں آنے سے قبل بسودھ ضلع میرٹھ کا ہی ایک حصّہ تھا، مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے دلّی میں چلنے والی انقلابی تحریک میں بسودھ کا بھی اہم کردار ہے۔

انقلابی گاؤں بسودھ: قتل عام کی 164 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیشکش

دلّی میں بہادر شاہ ظفر کے عنان حکومت سنبھالنے کے بعد انقلابیوں نے بسودھ کو رسد کی سپلائی کے لئے سب سے مناسب جگہ تسلیم کی، لہٰذا مجاہدین اور اہلیان بسودھ نے مل کر علاقہ کو غلّے کی منڈی میں تبدیل کر دیا اور نواحی دیہاتوں سے اناج دستیاب کرکے بسودھ کی جامع مسجد کے احاطہ میں جمع کیا جاتا تھا، جسے پھر دلّی روانہ کیا جاتا، علاوہ ازیں جو انقلابی سردھنہ سے مغربی جمنا نہر سے گزر کر دلّی پہنچتے تھے، ان کا بھی ساکنان بسودھ ہر ممکن سہولت، کھانے پینے اور ٹھہرنے کا خاص انتظا م کرتے تھے۔ قرب وجوار کے انقلابی رہنماؤں کی بھی بسودھ میں خفیہ میٹنگیں ہوتی رہتی تھیں۔


اس وقت میرٹھ کا کلکٹر رسوائے زمانہ رابرٹ ڈنلپ تھا، جس نے اپنے مخبروں کا جال چپہ چپہ پر بچھا رکھا تھا، جو بسودھ کی ہر سرگرمی کے بارے میں متواتر اطلاعات دے رہے تھے۔ جیسے ہی اسے اپنے جاسوس نول سنگھ سے معلوم ہوا کہ بسودھ کی جامع مسجد میں 8000؍ من خوردنی اشیاء کا ذخیرہ ہے اور اس کے نیچے گولہ بارود بھی چھپا ہوا ہے، جو دلّی بھیجا جانا ہے۔ اس کے علاوہ رابرٹ ڈنلپ کو یہ خبر بھی ملی کہ شاہ مل اور اس کے ساتھی بسودھ میں مقیم ہیں اور اگلے روز دولہ پر یلغار کرنے والے ہیں۔ اس نے فوراً ہیڈ کوارٹر سے اجازت لے کرپہلی مرتبہ صرف گوری پلٹن کرنل سرولسن کی قیادت میں 50؍ گھوڑ سوار، 40؍ کنگ رائل رائفلس سپاہی، دو توپیں، 20؍ سلخ پوش موسیقی کار اور 27؍ نجیب سے لیس انگریزی فوج بسودھ بھیجی۔ جس نے 16؍جولائی 1857ء کی رات 2؍بجے میرٹھ سے چل کر ڈوڈا ہیڈا ہنڈن ندی پر بسیرا کیا۔ دولہ کے انگریزی خیر خواہ چودھری نول سنگھ نے انگریزی سپاہ کی رہنمائی کی۔ اس حملہ کی جانکاری پہلے ہی بسودھ کے باشندوں کو خفیہ ذرائع سے مل چکی تھی۔ اس لیے انہوں نے تمام خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ شاہ مل وران کے ساتھی رات کے اندھیرے میں ہی یہاں سے نکل گئے، لیکن انقلابیوں کے جانے کے بعد ساکنان بسودھ نے ہمت نہ ہاری بلکہ اپنی استعاعت کے مطابق انگریزی لشکر کا مقابلہ کرنے کا قصد کیا۔

علی الصباح 17؍ جولائی کو یہ فوج ڈولہ گاؤں پہنچ کر مشرقی جمنا نہر کے کنارے چلتے ہوئے بسودھ پہنچی، جہاں پہنچتے ہی سیدھے جامع مسجد پر حملہ کر دیا، یہاں موجود لوگوں نے لاٹھی، ڈنڈے، بلم اور فرسوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔ جامع مسجد کی سیدھی لڑائی میں بڑی تعداد میں مرد اور دلّی سے آئے دو غازی لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ مسجد میں اناج کے زبردست ذخیرے کو ضبط کرلیا۔ یہ ذخیرہ اتنا تھا کہ فوج کی تمام لاریاں اس کا فقط ایک ہی حصہ ڈھوسکتی تھیں۔ غلہّ کو انگریزوں نے نذرآتش کرنے کی کوشش بھی کی مگر نمی ہونے کی وجہ سے اس میں آگ نہ لگ سکی۔


انگریزی ٹکڑی کینن کی کمان میں دس گھوڑسوار چھوڑ کر بسودھ سے باہر نکل گئی۔ بسودھ کے لوگوں نے جب اپنے عزیزو اقارب کی نعشوں کو دیکھا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انتقام کی آگ میں جھلس کر انہوں نے کینن سمت دس گھوڑسواروں کو موت کی نیند سلا دیا، اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی واپس جا رہی گورہ پلٹن نے قصاص لینے کے لیے دوبارہ آکر حملہ بول دیا۔ بسودھ کے بہادر جوانوں نے پیٹھ نہ دکھا کر 10؍ گھنٹے طویل مقابلہ آرائی کی۔ درندہ صفت فرنگیوں نے تالاب میں چھپی خواتین اور معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا اور انہیں وہیں گولیوں سے بھون دیا جو آج بھی خونی تالاب کے نام سے مشہور ہے۔ پورے گاؤں پر اپنا قہر برپا کر اس کو تہس نہس کر دیا، دوسرے مرحلہ کی لڑائی میں 180؍ جانباز شہید ہوئے۔ انگریزوں کا جورو جفا یہیں نہیں تھما بلکہ بسودھ کو آگ لگا کراپنا انتقامی جوش ٹھنڈا کیا۔ انگریزوں نے ایک نام لیوا وپانی دیوا بھی نہ چھوڑا۔ اس دلگذاز منظر کے بارے میں ضلع مجسٹریٹ ڈنلپ لکھتا ہے کہ : ’’وہ تمام اشخاض جو ہتھیار اٹھانے کے قابل تھے انہیں گولی مار دی گئی یا تلواروں سے قتل کر دیا گیا صرف پندرہ آدمی ہی باقی بچے تھے جنہیں ملٹری کمانڈنٹ کے حکم سے شام کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا‘‘۔

انگریزی جیش بربریت کا مظاہر ہ کرکے ڈولہ گاؤں چلی گئی۔ شہیدوں کو بسودھ کی بہادر عورتوں نے صبر وتحمل سے گاؤں کے تالاب میں اجتماعی سپرد خاک کیا۔ انگریزوں نے بسودھ میں کچھ عرصہ تک لوگوں کی گرفتگی کر کے کولہو میں بھی پلوانے کا کام رواں رکھا۔

تعداد ایک سو اسی (180) شہدا کی تھی وطن پر

قربانی دے کے جان کی نذر وطن کیا تھا

اہل بسودھ سارے مارے گئے وطن پر

سب عورتوں نے مل کر ان کو دفن کیا تھا

( ڈاکٹر عبدالرؤف شادؔ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔