گمنام مجاہد آزادی: انگریزوں کے خلاف کھلے عام جہاد کا اعلان کرنے والے مولوی احمد اللہ عرف ڈنکا شاہ

عوام الناس کے درمیان ڈنکا شاہ کی ایسی عظمت تھی کہ اودھ پولیس نے ان کو حراست میں لینے سے انکار کر دیا تھا۔

مولوی احمد اللہ عرف ڈنکا شاہ اور ان کا مزار / شاہد صدیقی علیگ
مولوی احمد اللہ عرف ڈنکا شاہ اور ان کا مزار / شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

5؍جون1858ء یوم شہادت پر خصوصی پیش کش

1857ء کی پہلی ملک گیر جنگ آزادی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ناکوں چنے چبوانے والوں میں مولوی احمد اللہ عرف ڈنکا شاہ بھی تھے۔ انگریز ان سے اتنے مرعوب تھے کہ گورنر جنرل نے انہیں پکڑوا نے کے لیے پچاس ہزار روپے کے انعام کا اعلان کر دیا تھا۔ مولوی احمد اللہ کے والد محترم محمد علی مصاحب ٹیپو سلطان اور چنیاپٹن (مدراس) کے نواب تھے۔ ان کی پیدائش تقربیاً 1787ء میں ہوئی۔ شہ سواری کے علاوہ سپہ گری کے فنون پر دسترس حاصل کی۔ لیکن 16 یا 17 سال کی عمر میں دنیاداری سے دل متنفر ہوگیا تو درویشی اختیار کرلی۔ جے پور کے ’’حضرت میر قربان الہٰی سے بیعت کی جنہوں نے ان کا نام احمد اللہ رکھا اور خلافت عطا کی۔ دہلی آکر مفتی آزردہ سے نیاز حاصل کیا جن کی ایماء پر آگرہ چلے گئے، کھلے عام آگرہ میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ مجمدار کے نزدیک جنوری 1857ء کی شروعات میں چنئی (مدراس) میں انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے باغیانہ اشتہار وں میں مولانا ڈنکا کا ہی ہاتھ تھا۔

مالیسن کے مطابق چپاتی بھی مولانا کی ذہنی پیداوار ہے۔ ایک عرصہ تک شہر در شہر انگریزوں کے خلاف جہاد کی تبلیغ کرکے فیض آباد میں نمودار ہوئے اور اعلانیہ کہتے کہ انگریزوں کو غارت کرنے آیا ہوں۔ عوام الناس کے درمیان ڈنکا شاہ کی ایسی عظمت تھی کہ اودھ پولیس نے ان کو حراست میں لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 16؍فروری 1857ء کو شام کے وقت لیفٹنینٹ ٹربن کو مولوی صاحب کے سرائے میں قیام اور حامیوں کی آمدورفت کے بارے میں کوتوال نے مطلع کیا۔ کوتوال نے کہا ان کی سرگرمیوں سے فیض آباد کی فضا خراب ہونے کے امکانات ہیں۔ اس کے اگلے روز ہی 17؍فروری 1857ء کو 22 ویں نیٹیو انفینٹری کے لیفٹنینٹ تھامس نے ان کا محاصرہ کر لیا معمولی جھڑپ کے بعد مولانا زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔ کرنل لیناکس نے احمد شاہ کو سزائے موت کی سزا سنائی، اس سے قبل کہ اس پر عمل ہوتا بغاوت پھوٹ پڑی۔ کیونکہ قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔

8؍جون 1857ء کو فیض آباد میں صوبہ دار دلیپ سنگھ کی رہنمائی میں دیسی فوج کے ہمراہ عوام نے کمپنی کے خلاف ہتھیار اٹھالئے۔ ڈنکا شاہ کو قید فرنگ سے چھڑا کر اپنا رہنما تسلیم کیا۔ انگریز افسران کو فیض آباد سے مع ذاتی اسلحہ اور سامان کے ساتھ نکلنے کا حکم صادر کر دیا گیا۔ مولانا نے اس بات کا پورا لحاظ رکھا کہ کسی خاتون یا بچہ کو کسی طرح کی ایذا یا ضرر نہ پہنچے۔ ڈنکا شاہ سے فیض آباد کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی التجا کی گئی مگر مولانا نے مان سنگھ کو یہ ذمہ داری سونپ کر فرنگیوں کو بے دخل کر نے کے لئے لکھنؤ کوچ کرگئے، ان کی آمد نے انگریزوں کے دلوں پہ ہبیت طاری کر دی۔ 30؍جون چنہٹ میں انہوں نے کمپنی فوج کو پسپا کر کے ان کے سامان حرب پر قبضہ کرلیا، انگریزوں نے لکھنؤ کے قریب بیلی گارد اور مچھلی بازار کو اپنے قبضہ میں رکھتے ہوئے ڈنکا شاہ کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن دونوں ہی مقامات انہیں منھ کی کھانی پڑی۔ 5؍جولائی کو اودھ کی مسند پر’’برجیس قدر کی تخت نشینی کی گئی اور امور معاملات کی ذمہ داری بیگم حضرت محل کے سپرد کی گئی۔ ڈنکا شاہ نے بیگم حضرت محل کے ساتھ مل کرانگریزوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔

آوٹرم ہولاک، نیل اور تین ہزار سپاہ کو لیتے ہوئے کانپور سے 23؍ستمبر کو لکھنؤ پہنچ گیا۔ ایک ایک انچ زمین کے لئے خطر ناک جنگ ہوئی۔ ستمبر تا دسمبر ڈنکا شاہ کی انقلابی فوج نے جنرل آوٹرم، جنرل ہیولاک کو لکھنؤ اور بیلی گارد میں الجھائے رکھا۔ لیکن انگریزوں نے اپنے بہی خواہوں نیپال کے راجہ رانا جنگ بہادر، گورکھوں، بھوٹانیوں اورسکھوں کے ساتھ مل کر لکھنؤ کو تخت وتاراج کرنے کا منصوبہ بنایا جس کے بموجب ہندوستانیوں کو برطانوی فوج کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی۔ علاوہ ازیں محاذ لکھنؤ پر ایک نہیں بلکہ دو انگریزی جاسوس انگد تیواری اور قنوجی لال جیسے موجود تھے جو انگریزوں کو اپنا ضمیر بیچ چکے تھے۔

فروری 1858 سے لے کر اپریل 1858ء تک مولانا جنرل اوٹرم، جنرل ہیولاک اور کیمپ بیل اور ہوپ گرانٹ کی فوجوں سے مسلسل مقابلہ کرتے رہے اور کئی مرتبہ ایسے موقعہ بھی آئے کہ کامیابی ان کے قدم چومتی، لیکن بدقسمتی انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن وہ پھر بھی تھک کر نہیں بیٹھے۔ 21؍مارچ کو مولانا نے سعادت گنج میں لیوگارڑ سے نبردآزما ہو کر منھ توڑ جواب دیا۔ یوں تو جنگ کا فیصلہ انگریز تاجروں کے حق میں ہوچکا تھا مگر مولانا امید کا دامن تھامے خیرآباد پہنچے جہاں کچھ دن ٹھہر کر باڑی چلے گئے اورراجہ نواب علیؔ محمودآباد کے تعاون سے ایک بڑی فوج جمع کی اور پھر اپریل میں بیگم حضرت محل کے سا تھ مل کر لکھنؤ پر دوبارہ قبضہ کرنے کی آخری کوشش کی، لیکن یہاں بھی ناکام رہے۔ ایسے حالات میں جب کہ پورے ملک پر انگریز اپنے کاسہ لیسوں کی وساطت سے یکے بعد دیگرے علاقوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے مگر ڈنکا شاہ بھی کہاں چپ بیٹھنے والے تھے۔ وہ انقلابیوں کی کمان سنبھالنے شاہجہاں پور پہنچ گئے۔

28؍اپریل کو بمقام اللہ گنج ( بپچوریہ) انگریزوں سے مقابلہ ہوا۔ دریں اثناء کانپور اور گوالیار پر انگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد ناناصاحبؔ شاہجہاں پور آ گئے۔ خبر لگتے ہی چیف آف اسٹاف سرکولن کیمپ بیل وال پول کے ساتھ انہیں پکڑنے خود آگے بڑھا، مگر جب تک یہ دونوں برطانوی افسر شہر کی گھیرا بندی کرتے تب تک یہ عظیم مجاہد ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر شاہجہاں پور کو خیر باد کہہ چکے تھے مگر شہر چھوڑنے سے قبل مولوی صاحب نے ایک خاص عمارت کو نذر آتش کر دیا جو آج بھی جلی کوٹھی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ لو اور چلچلاتی دھوپ کے عالم میں انگریزی فوج کو کھلے آسمان کے نیچے خیمہ نصب کرنے پڑے، جس کے سبب انگریزوں کو متعدد سپاہیوں کی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 18مئی 1858ء کو لن سر کیمپ بیل سقوط بریلی کے بعد شاہجہاں پور پہنچ گئے، جہاں دونوں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوئے، ان کی شجاعت کو دیکھ کر انگریزوں کے اوسان خطا ہوگئے لیکن بر یلی سے فوجی ٹکڑی کے آ جانے سے برطانوی قوت میں اضافہ ہو گیا۔

انگریزوں کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی تلاش میں ان کی نگاہ شا ہجہاں پور میں واقع پوایاں راجہ جگن ناتھ کی چھوٹی سی مملکت پر پڑی، احمد اللہ شاہ نے راجہ سے تعاون اور قلعہ میں انگریز تحصیل دار اور تھانہ دار کو ان کے سپرد کرنے کے لئے اپنا قاصد بھیجا، راجہ کے مثبت جواب کے بعد عظیم المرتبت جنگجو 5 جون 1858ء کو ہاتھی پر اس کے قلعہ پر پہنچے۔ لیکن سرخ قالین کے بجائے قلعے کا دروازہ بند اور سخت پہرا تھا کیونکہ راجہ پچاس ہزار روپے کے لالچ میں انگریزوں سے سودے بازی کرچکا تھا، راجہ اور اس کا بھائی بلدیو سنگھ سپاہیوں کے ہمراہ قلعے کی فصیل پر موجود تھا جو صدر دروازے کے طرف لالچ بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ راجہ کا منفی ردعمل دیکھ کرسر یع الفہم ڈنکا شاہ نے مہاوت کو قلعہ کا در وازہ توڑنے کا حکم دیا لیکن اس سے پیشتر راجہ کے اشارے پر اس کے بھائی بلدیو سنگھ نے مولانا کو گولی مار کے شہید کر دیا ان کے ساتھ شفیع اللہ خاں نجیب آبادی بھی وطن کی آبرو پہ نثار ہوگئے۔ راجہ اور اس کے بھائی نے احمد شاہ کا سر تن سے جدا کرکے لال رومال میں لپیٹا اور 13 میل کا فاصلہ طے کرکے انگریزی مجسٹریٹ کی خدمت میں پیش کر دیا۔

آزادی کے سرخیل جس نے انگریزوں کے اعلیٰ افسران کو دن میں تارے دکھا دئیے تھے ان کے سر کو ہیبت طاری کرنے کے لئے کوتوالی کے دروازے پر آویزاں اور جسم کو شاہ راہ پر نذر آتش کیا گیا، لیکن ان کے حواریوں نے اپنی جان پر کھیل کر ان کے سر کو وہاں سے اتار کر لودی پور گاؤں کے کنارے پورے ادب و احترام کے ساتھ سپرد لحد کر دیا۔

کرنل مالیسن ان کو یوں خراج عقیدت پیش کرتا ہے کہ ’’اگر محب وطن کی تعریف یہی ہے کہ وہ آزادی کی خاطر جنگ کرتا ہے اور حکمت عملی تیار کرتا ہے، اس کو آبائی وطن سے بلاجواز محروم کیا گیا تو مولوی یقیناً ایک سچا محب وطن تھا، اس نے اپنی شمشیر کسی کوعیاری سے قتل کرکے رنگین نہیں کی اورنہ ہی کسی کو ہلاک کرنے میں کسی شعبدہ بازی سے کام لیا۔ اس نے میدان جنگ میں جواں مردی، قابل احترام اور صدق وصفائی سے اجنبی لوگوں کا مقابلہ کیا جنہوں نے اس کا مادر وطن چھین لیا تھا، شہادت اور صداقت کی قدر کرنے والے خواہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں اس کی یاد کو ہمیشہ عزیز رکھیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔