حسرت موہانی: عظیم مجاہد آزادی...یوم وفات کے موقع پر خصوصی پیشکش

تاریخ اردو ادب میں حسرت موہانی کا شمار منفرد اور ممتاز شاعر کی حیثیت سے ہوتا ہے، مگر وہ سرفروش حریت پسند، نمائندہ نثرنگار، حق گو اور بیباک مقرر، محقق، روشن ضمیر صاحب الرائے اور نڈر صحافی بھی تھے

حسرت موہانی: عظیم مجاہد آزادی / سوشل میڈیا
حسرت موہانی: عظیم مجاہد آزادی / سوشل میڈیا
user

شاہد صدیقی علیگ

عظیم مجاہد آزادی حسرت موہانی کے بارے میں لکھنا گویا ہشت پہلو شخصیت کو کسی چھوٹے سے ڈبے میں محبوس کرنا ہے۔ ان کی ذات اور مقام کا تعین کرنا ناممکن تو نہیں دشوار کام ضرور ہے۔ اگرچہ تاریخ اردو ادب میں ان کا شمار ایک منفرد اور ممتاز شاعر کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر علاوہ ازیں وہ سرفروش، حریت پسند، نمائندہ نثر نگار، حق گو اور بے باک مقرر، محقق، روشن ضمیر صاحب الرائے اور نڈر صحافی تھے۔ آپ نے مرتے دم تک ملک و قوم کی خدمت کا بیڑا اٹھائے رکھا۔ حسرت موہانی کی پیدائش 13 اکتوبر 1881 کو ضلع اناؤ کے قصبہ موہان میں ہوئی تھی۔ انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد ایم اے او (محمڈن اینگلو اورینٹل) کالج کی راہ لی اور بی اے کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں اقامت خانہ سے نکال دئیے گئے لیکن کالج کے پرنسپل ماریسن کی خصوصی نظر کرم کی بدولت انہیں بی اے کے امتحان میں شامل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔

ان کی عزیزہ رابعہ بیگم کہتی ہیں کہ بی اے پاس کرنے سے پہلے ہی وہ سیاست میں دلچسپی لینے لگے تھے اور تین مرتبہ نعرہ حریت بلند کرنے پر ایم اے او کالج (ہاسٹل) سے نکالے گئے۔ 1903 میں بی اے مکمل کیا، ایل ایل بی میں داخلے کے بعد وظیفے کی درخواست دی جس کو ماریسن نے مسترد کر دیا۔ دل برداشتہ ہوکر حسرت نے تعلیم کو خیرباد کہہ دیا اور صحافت کو اپنی زندگی کا ذریعہ معاش بنالیا۔ یکم جولائی 1903 کو ’اردو معلی‘ جاری کیا جس کا واحد مقصد غفلت اور سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرکے ان میں جذبہ حریت پسندی پیدا کرنا تھا۔ تحریک آزادی میں حسرت نے خود کو تحریر یا مضمون نگاری تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ عملی سیاست میں بھی کھل کر حصہ لیا۔ حسرت نے 26، 27، 28 دسمبر 1906 کو بمبئی میں منعقد ہوئے کانگرس کے اجلاس میں شرکت کرکے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔


حسرت نے اردو معلی کو کانگریس کے رنگ میں ایسا رنگا کہ وہ کانگریس کا ترجمان معلوم ہونے لگا۔ حسرت اپنے مزاج کے مطابق کانگریس کے شدت پسند گروپ سے وابستہ رہے۔ حسرت نے بال گنگا دھر تلک جیسے ہندو ہردیے سمراٹ کو اپنا محرک مانا۔ 1905 میں آل انڈیا انڈسٹریل کانفرس کی سرگرمیوں میں پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ اس کے بعد سودیشی تحریک کے زبردست اور سرگرم مبلغ بن گئے۔ سودیشی تحریک کو فروغ اور عوام میں مقبول بنانے کے لئے رسل گنج (علی گڑھ) میں خود ایک سودیشی اسٹور بھی کھولا جو وسائل کی کمی کے باوجود محض ان کی تگ و دو اور جدوجہد کے سبب خوب چلا۔ سودیشی تحریک انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی ایک مرتبہ انہیں شدید سردی کے عالم میں اپنے کسی عزیز کے یہاں رات گزارنی پڑی تو بستر پہ جو کمبل رکھا تھا اس پر ’میڈ اِن انگلینڈ‘ لکھا تھا، لہذا انہوں نے پوری رات سکڑ کر گزار دی مگر کمبل کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ان کی سودیشی جنون کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے ینگ انڈیا میں لکھا تھا کہ ’’حسرت کے سر ہر وقت سودیشی کا بھوت سوار رہتا ہے۔‘‘

ان کی بیگم نشات انساء نے بھی حسرت کا قدم سے قدم ملا کر ساتھ دیا۔ حسرت 1904-1907 تک منعقد کانگریس کے سبھی اجلاسوں میں پابندی سے شریک ہوتے رہے۔ 1907 میں سورت کے اجلاس میں بعض نکات پر اختلاف ہونے کی بنا پر ان کے سیاسی مرشد تلک کے گروپ سے کچھ مدت کے لئے کانگرس سے کنارہ کشی اختیار کرلی، تو حسرت نے بھی کانگرس سے تلک کی تقلید میں قطع تعلق کر لیا۔ 1908 میں اردو معلی میں مصر میں برطانیہ کی پالیسی پر ایک مضمون شائع ہوا، اس مضمون کو حسرت نے مضمون نگار کا نا نہ بتا کر سارا الزام اپنے سر لے لیا، جس کی بنا پر 23جون 1908 کو ان کی پہلی گرفتاری عمل میں آئی اور 1909 برٹش زندان خانہ سے رہائی حاصل ہوئی۔


ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبعیت بھی

حسرت اپنے سیاسی عزائم، مقصد اور نصب العین حاصل کرنے لئے ہر اس پارٹی سے عقیدت رکھتے تھے جو ان کے مقاصد پورے کر سکے۔ مسلم لیگ نے 1914 میں سلف گورنمٹ کو اپنا آخری مقصد تسلیم کرلیا تھا۔ بمبئی میں پہلی مرتبہ 1915 میں مسلم لیگ اور کانگریس کا اجلاس ہوا حسر ت نے اس میں شامل ہوئے پہلی عالمی جنگ کے دوران ان کے گھر کی خانہ تلاشی ہوئی، اگرچہ کوئی ممنوع یا ایسا ثبوت پولیس کے ہاتھ نہیں لگا مگر پھر بھی انہیں برٹش حکومت نے دو سال کی قید بہ مشقت کی سزا سنا دی۔ دسمبر1918 کو انہیں قید فرنگ سے نجات حاصل ہوئی۔ 1918 کے سور ت کانگریس جلسہ میں چیمسفورڈ نے ہوم رول کی تجویز رکھی جسے کانگریس کے اعتدال پسند گروپ نے قبول کرلیا مگر حسرت نے اسے قبول نہیں کیا۔ 1919 میں امرتسر کے کانگریس اجلاس میں حسرت نے گاندھی جی کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ محض ولایتی کپڑوں کے بائیکاٹ کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ برطانوی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چائیے۔

27 دسمبر 1921 کو احمد آباد کے اجلاس میں حسرت سبجیکٹ کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس اجلاس میں حسرت نے گوریلا وار اور کامل آزادی کی تجویز پیش کر دی۔ اس وقت تک کانگریسی لیڈران کے وہم وگمان میں کامل آزادی کا تصور بھی موجود نہیں تھا۔ حسرت روشن ضمیر تھے انہیں معلوم تھا کہ ان کے ریزولیشن کو سب کی تائید و حمایت نہیں مل سکے گی، چنانچہ وہ اپنی قرارداد کی حمایت کے لئے اپنی بیگم نشاط النساء کو بھی ساتھ لے گئے تاکہ مستقبل میں کوئی مورخ یہ نہ لکھے کہ جب کامل آزادی کی تجویز پیش ہوئی، کانگریس کے اتنے بڑے مجمع میں ایک بھی ہاتھ ریزولیشن کی تائید میں نہیں اٹھا۔ گاندھی جی نے یہ تجویز کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ ایسا قدم اٹھانے سے قبل اس کے عواقب پر پچاس بار غور کرنا لازم ہے جس سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا امکان ہو- ہم کو اتنے گہرے پانی میں نہیں اترنا چاہیے جس کی گہرائی کا علم نہ ہو اور حسرت موہانی کی قرارداد ہمیں اتنے گہرے پانی میں لے جانا چاہتی ہے جس کی گہرائی اتھاہ ہے ۔پورے اعتماد کے ساتھ اسے مسترد کر دینے کی میں آپ سے اپیل کرتا ہوں‘‘۔ اسی سال مسلم لیگ کا بھی اجلاس ہوا اس میں بھی حسرت نے کامل آزادی کی قراردا د پیش کی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جب 1929 میں جب پنڈت نہرو نے اس تجویز کو پیش کیا تو اس کا سہرا حسرت کے بجائے پنڈت نہرو کے سر گیا۔ حسرت کی تیسری گرفتاری 1923 میں ہوئی اس وقت ان کی اکلوتی دختر کی شادی مقرر ہوچکی تھی۔ باپ کی غیرموجودگی میں بیگم نشاط النساء کو ہی ماں باپ دونوں کی ذمہ داری نبھانی پڑی۔


12اگست 1924 کو انگریزی قید وبند سے چھوٹے۔ 1927-1928 میں آل انڈیا پارٹیز کانفرس میں جب نہرو کمیٹی کی مجوزہ آئین کی سفارشات پر تبادلہ خیال کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تو اس میں درجہ نو آبادیات کی تجویز رکھی گئی جس کو حسرت نے خارج کر دیا کیونکہ حسرت کامل آزادی سے کم کسی چیز کو کسی بھی حالت میں منظور نہیں کرسکتے تھے۔

موہانی کئی سالوں تک انڈین نیشنل کانگریس کے رکن رہے اور 1919 میں اس کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی شامل ہوگئے۔ انہوں نے تقسیم ہند کی مخالفت کی۔ 3 جون 1947ء کو پارٹیشن پلان کے اعلان کے بعد حسرت موہانی نے آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا اور جب ملک کی تقسیم واقع ہوئی تو انہوں نے آزاد ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیا اور ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن بنے جس نے ہندوستانی آئین کا مسودہ تیار کیا۔ انہوں نے آئین میں اقلیتوں کے تئیں اپنی تشویش کے مدنظر اس پر دستخط نہیں کیے۔


حسرت موہانی نے وزیر اعظم پنڈت نہرو کی متعدد مرتبہ درخواست کرنے کے بعد کوئی سرکاری بتھہ قبول نہیں کیا اور نہ ہی سرکاری رہائش گاہوں پر قیام کیا۔ اس کے بجائے وہ مساجد میں ہی رہتے تھے اور تانگہ میں پارلیمنٹ جاتے تھے او ہمیشہ تھرڈ کلاس ریلوے ڈبے میں سفر کیا۔ مولانا متعدد بار حج (مکہ مکرمہ ، سعودی عرب) کی سعادت حاصل کیں۔

تحریک آزادی میں انقلاب زندہ آباد اور کاملی آزادی کا نعرہ لگانے والے حسرت موہانی 13 ؍مئی 1951ء کوجہدوجد کی تھکاوٹ سے فارغ ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کی راحت پاگئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 13 May 2021, 11:42 AM