گمنام مجاہد آزادی شہید چودھری محمد علی خاں، یوم شہادت کے موقع پر خصوصی پیش کش

محمد علی خاں اور ان کے تمام اعزاء و اقربا نے برطانوی غلامی سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے لیے جو جان ومال کی قربانیاں پیش کیں وہ تاریخ ہند میں سنہرے الفاظ سے لکھنے کے قابل ہیں۔

تصویر شاہد صدیقی علیگ
تصویر شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

پہلی ملک گیر جنگ آزادی1857ء میں ہراول دستہ کا کردار ادا کرنے والے انقلابیوں پر بعض مورخین انگشت نمائی کرتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان کی ریاستیں غصب کرلیں تھیں یا ان کا دین ومذہب خطرے میں تھا یا ان کا وظیفہ بند کر دیا تھا۔ جس کے ردعمل میں انہوں نے فرنگیوں کے خلاف بڑھ چڑھ کرحصہ لیا تھا، لیکن اس تحریک میں ایسے بھی مجاہدین شامل تھے جو پرسکون زندگی گزار رہے تھے لیکن جیسے ہی مادر ہند کو انگریزی خونی آشام پنجوں سے چھڑانے کی جدوجہد کا آغاز ہوا تو وہ فوراً اس میں کود پڑے، ایسے ہی عظیم جانباز کا نام شہید چودھری محمد علی خاں ہے۔ جنہوں نے مادر ہند کی آزادی کی خاطر اپنی جان ومال، متعلقین اور تعیشات کو قربان کر دیا اور جابر انگریز وں کے آگے سر خم کرنے کے بجائے جام شہادت نوش کرلیا، چودھری صاحب کے ساتھ ساتھ عزیز و اقارب حمایت علی خاں، ولایت علی خاں، ناصر علی اور مظہر علی خاں وغیرہ کو بھی موت کی سزا دے دی گئی۔

چودھری محمد علی خان کے جد امجد یوسف علی سلطان محمود یا مسعود کی فوج کے ہمراہ ہند میں وارد ہوئے، جو شاہی فوج کے جنرل تھے، جنہیں شجاعت اور عزم کی بدولت چودھری کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ چودھری محمد علی خاں تحصیل سہاور ( ضلع ایٹہ اب کاس گنج) کے مختار اور بڑے زمیندار تھے۔ جن کے تعلقہ کا لگان 15000؍روپیہ سالانہ تھا جو اس عہد میں کافی بڑی رقم تھی۔ چودھری محمد علی خاں حلیم، رحم دل، انصاف پسند، زہد، تقویٰ اور سخاوت کے پیکر تھے۔ ان کے والد کا نام خواجہ علی خاں تھا، ان کی ابتدائی تعلیم مروجہ دستور کے مطابق ہوئی جو اردو فارسی اور قرآن مجید پر مشتمل تھی، ان کے خطوط جو اب ایشیاٹک لائبریری میں موجود ہیں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے گواہ ہیں۔


1802ء میں ایٹہ اور قرب وجوار پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا مسخر ہوگیا تو انگریز حکام کا اکثرو بیشتر علاقہ میں آمد ورفت کا سلسلہ ہوگیا جو چودھری صاحب کے خوش اخلاق اور ذکاوت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، لہٰذ ا انگریزی افسران سے گہرے رشتہ قائم ہوگئے جو ان سے انتظامی اور قانونی امور پر وقتاً فوقتاً تبادلہ خیال اورخط وکتابت کر تے رہتے تھے۔ چودھری صاحب رفاء عام کے لیے ہر دم تیار رہتے تھے، چودھری صاحب کی حیثیت انگریزوں اور سہاور کے باشندوں کے درمیان پل کی تھی، لیکن جیسے ہی 1857ء کی جنگ آزادی کا بگل بجا، چودھری محمد علی خاں نے بھی انگریز حکام سے اپنے دیرنیہ رشتوں کو درکنار کر نواب تفضل علی خاں کی آواز پہ لبیک کہہ کر جدوجہد آزادی کی عنان سنبھال لی اور نو اب تفضل علی خاں کے ساتھ مل کر انگریزوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا فرخ آباد اور گردو پیش کے تمام اضلاع انگریزی غلامی کے خلاف برسرپیکار ہوگئے اور ضلع ایٹہ کے علی گنج، کاس گنج، پٹیالی اور سہاور بھی انگریزی عمل داری سے جو لائی 1857ء تا دسمبر1857ء آزاد رہے۔ قابل ذکر امر ہے کہ جب 4؍ جون 1857ء کو انگریز افسران فلیپس، ہال اور براملے جائے پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے تو چودھری محمد علی کی حویلی پر بھی دستک دی، لیکن انہوں نے کسی طرح کی اعانت کرنے سے انکار کر دیا، لیکن اس کے باوجود فلیپس ان کی صلہ رحمی اور انسانی ہمدردی کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ پایا۔ وہ لکھتاہے کہ:

ہم نے چوہدری محمد علی خان کے تعلقہ سہاور کی طرف مارچ کیا، جہاں مسٹر ہال پہلے مقیم تھے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ان کا استقبال بہت ہی خوشگوار تھا لیکن میں اس پناہ گاہ کے لیے ان کا مقروض ہوں جنہوں نے میرے خادموں اور کچھ جائیداد کو کئی مہینوں تک رکھا۔


چودھری صاحب نے اس پر آشوب حالات میں بڑی دانشمندی اور اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تعلقہ کے تمام دیہات میں خوشحالی، امن و قانون اور ملکی نظام نسبتاً ملحق علاقوں سے بہتر رہا، سہاور کا بازار ایک لمحہ کے لئے بند نہیں ہوا، حسب معمول تاجرو ں نے اپنی دوکانیں کھولیں۔ اردگرد کی ریاستوں کی بھی بھرپور معاونت کی۔

دسمبر 1857 ء میں نواب فرخ آباد کی فوجوں اور انگریزی لشکر میں گھمسان لڑائی ہوئی مگر غداروں کی بدولت بازی انگریزوں نے ماری۔ حالات کے مدنظر 29؍ جنوری 1858ء کو نواب تفصل خاں اور بعض سرداروں نے اچانک ہتھیار ڈال دئیے لیکن چودھری محمد علی خاں نے سپر اندازی سے انکار کر دیا، لہٰذا چودھری محمد علی خاں کے ساتھ قریبی اعزاء کو بھی جس انگریزی عتاب کا شکار ہونا پڑا، اس کی داستان رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے۔ انگریزی کرنل سیٹن چودھری محمد علی خاں کی گڑھی کے صدر دروازے کے بند پھاٹک کو ہاتھیوں سے توڑواکر اندر داخل ہوا اور انہیں حراست میں لے کر بریلی جیل بھیج دیا۔ انگریز افسران نے ان کے اٹھارہ سالہ اکلوتے فرزند چودھری نور اللہ کو گرفتار کرنے کی انتھک کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ انگریز سپاہی ان کے عزیز قمر علی خاں کے گھر میں خانہ تلاشی کے بہانے سے داخل ہوئے تو ہیبت زدہ قمر علی اٹاری پر کپاس کے بوروں میں گھس گئے تو جابر سپاہیوں نے بوروں کو نذرآتش کر دیا محمد قمر علی خاں اس میں جل کر شہید ہوگئے۔ ان کے بھائی ناصر علی خاں جو نامہ بر کی ذمہ داری بخوبی انجام دیتے تھے، وہ چودھری صاحب کا خط لیکر نواب تفضل حسین خاں کے پاس شمس آباد گئے تھے، جنہیں راستے میں ہی محصور کرنے کی کوشش کی گئی، انگریز سپاہیوں نے ان کی گھوڑی کو گھیر کر گولیوں سے ناصر علی خاں کو زخمی کردیا جو بچتے بچاتے گھر پہنچے، ان کی تلاش میں انگریزی سپاہ وہاں پھی پہنچ گئیں تو ان کے نوجوان لخت جگر مظہر علی خاں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، تو سپاہیوں نے اسے اپنی گولی کا نشانہ بنایا۔ زخمی ناصر علی جس کا صدمہ برداشت نہ کرسکے اور کچھ دیر بعد انہوں نے بھی داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ ان کے دو بھتیجے حمایت علی خاں اور ولایت علی کو گرفتار کرکے بریلی بھیج دیا۔ جہاں ان کی شناختی پریڈ کرائی گئی۔ حسب روایت چودھری محمد علی پر اسپیشل کمشنر کلاسیٹ وارن کی عدالت میں فرضی بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا ۔سرکاری وکیل نے ان دستاویزات کو بطور استغاثہ پیش کیا جو انہوں نے نوا ب تفضل علی خاں، نواب ولی داد خاں، اسماعیل خاں اور عظیم الدین فرخ آباد کو خود لکھے تھے۔ بعد ازیں جے سی ولسن مشنر کی عدالت میں بھی سر کاری وکیل نے دہلی جاکر بہادرشاہ ظفرؔ کو مبارک باد دینے کا الزام ان کے اوپر عائد کیا، جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت اور تمام جائداد بحق سرکار ضبطی کا حکم صادر کر دیا۔ جس پر عمل کرتے ہوئے 16 ؍مئی 1858ء کو چودھری محمد علی خاں کو بریلی جیل میں گولی مار کرشہید کر دیا گیا۔


محمد علی خاں اور ان کے تمام اعزاء و اقربا نے برطانوی غلامی سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے لیے جو جان ومال کی قربانیاں پیش کیں وہ تاریخ ہند میں سنہرے الفاظ سے لکھنے کے قابل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔