طنز و مزاح: آتم نربھر بھارت، بھوک پیاس، تھکان اور حادثوں سے ’اموات کا پیکیج‘...وشنو ناگر

مودی جی خوبصورت پیکیجنگ کے بڑے ماہر ہیں، جب ٹی وی پر آتے ہیں تو اپنی بہترین پیکیجنگ کر کے آتے ہیں، دو لاکھ کی گھڑی، سوا لاکھ کا پین اور جانے کتنے کا کرتا و پایہ جامہ اور جیکٹ پہن کر آتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشنو ناگر

مجھے چھوڑ کر میرے قریب سبھی دوست و احباب مودی جی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں (میں جھوٹ تو نہیں بول رہا!)۔ چھ سال سے ایک آدمی ان کے بولوں کے لٹھ پر لٹھ کھائے جا رہا ہے۔ غور کرو اس کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہوگی؟ اب مودی جی نے ’آتم نربھر بھارت ابھیان‘ (خود انحصار ہندوستان مہم) کے تحت بیس لاکھ کروڑ کے پیکیج کا اعلان کیا تو دوست و احباب نے پھر سے اپنے اپنے لٹھ اتھا لئے اور پھر سے شروع ہو گئے۔

اٹل جی ہوتے تو کہتے، یہ اچھی بات نہیں ہے، مگر آج کی تاریخ میں یہ کہنے والا بھی کوئی نہیں ہے، تو لوگ بے لگام ہوئے جا رہے ہیں۔ اس ہندوستان میں لگتا ہے کہ رحم اور مامتا بالکل ختم ہو چکی ہے۔ سوچیے جس ملک میں لوگ وزیر اعظم کے تئیں بھی ذرا رحم نہ رکھتے ہوں، اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ اسے جو لوگ آج نہیں سمجھ رہے ہیں انہیں وقت کل سمجھا دے گا۔ کچھ کو ابھی سے سمجھا دیا ہے اور کچھ کی باری ابھی آنی ہے!

ارے جب مزدور مع خاندان دو دو ہزار کلو میٹر کے سفر پر شہر سے گاؤں کے لئے نکل پڑتے ہیں، راستے میں کٹتے، مرتے اور پولیس کے ڈنڈے کھاتے ہیں، تو تمہارا بڑا دل پگھل جاتا ہے لیکن جب ملک کے وزیر اعظم ملک کے 130 کروڑ باشندگان کے مفاد میں آتم نربھر بھارت ابھیان چلاتا ہے، بیس لاکھ کروڑ کے پیکیج کا اعلان کرتا ہے تو تمہارا دل پتھر کا ہو جاتا ہے!

تم نے کبھی یہ کہا کہ پا پیادہ چلنے والے لوگ در اصل ہندوستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں؟ تم نے ایک بار بھی کہا، ہو تو ایک مثال دے کر بتاؤ۔ یہ بھی بے چارے بھگتوں کو ہی کہنا پڑا ہے! ارے آزادی کے لئے دیس بھگتوں نے بڑے بڑے تیاگ (قربانیاں ) کیے تھے، یہ لوگ مہینے دو مہینے اپنے کھانے کا تیاگ نہیں کر سکتے تھے؟ اپنا نام بلیدانیوں (شہیدوں) کی فہرست میں سنہرے الفاظ میں نہیں لکھوا سکتے تھے؟

چلو مان لیتے ہیں کہ آتم نربھر بھارت ابھیان بھی محض ایک کھوکھلا نعرہ ہے، اس سے ہونا جانا کچھ نہیں ہے اور لوگوں کو اس سے جھنجھنا ہی ملے گا، پھر بھی بھلے آدمیوں، تم لوگوں کو بیٹھے بیٹھے وزیر اعظم نے ایک نعرہ تو دے ہی دیا ہے، تو کیا آرام سے اس کا ورد ایک منتر سمجھ کر نہیں کر سکتے تھے؟ اور کیا اس ملک کے وزیر اعظم کو اپنی رہائش گاہ لوک کلیان مارگ کے بنگلے میں بیٹھ کر لوگوں کے کلیان کے نئے نئے نعرے گڑھنے کا حق بھی نہیں ہے؟ ارے اس کے علاوہ انہوں نے بیس لاکھ کروڑ کا پیکیج بھی تو دیا ہے۔ یہ نعرہ مع پیکیج ہے۔ ہندوستان کی ستر سالہ تاریخ میں کوئی ہے جس نے ایسا کیا ہو؟ یہ ہے کہ نہیں نیو انڈیا کا نیو آئیڈیا!

اب وزیر اعظم کی ہر بات میں کھوکھلا پن ڈھونڈنے والے آج پوچھ رہے ہیں کہ 2015 میں وزیر اعظم نے سوا لاکھ کروڑ کا جو پیکیج بہار کو دیا تھا، اس کا کیا ہوا؟ کیوں جی نتیش کمار جی، مل گیا کیا آپ کو یہ پیکیج؟ لوگ سمجھتے ہی نہیں بات کو۔ وہ بہار میں انتخابی جملہ بازی کرنے کا سال تھا۔ اب پھر سے وہاں چناؤ آنے والے ہیں، اس مرتبہ ڈیڑھ لاکھ کروڑ یا عوام کی خواہش ہوگی تو سوا دو لاکھ کروڑ کا پیکیج دے دیں گے! اس میں کون سی بڑی بات ہے؟

ارے انہیں پیکیجنگ ہی تو کرنی ہے اور دنیا بخوبی جانتی ہے کہ مودی جی کتنی اچھی طرح پیکیجنگ کے فن میں ماہر ہیں۔ آپ اسی سے سمجھ لیجئے کہ جب وہ ٹی وی کے سامنے آتے ہیں تو اپنی بہترین سی ڈیزائنر پیکجنگ کرکے آتے ہیں۔ بتاؤ، آتے ہیں یا نہیں آتے ہیں؟ دو لاکھ کی گھڑی، ایک لاکھ تیس ہزار کا پین، نہ جانے کتنے کا کرتا و پایہ جامہ، جیکیٹ اور نہ جانے کتنی مرتبہ شیشے میں اپنا چہرہ دیکھ کر آتے ہیں۔

اور آپ کو بیس لاکھ کروڑ کی پیکیجنگ میں ہزار چھید تو نظر آ ہے ہیں مگر یہ نظر نہیں آ رہا کہ لاکھوں مزدوروں کو ان کے ماں، باپ، بیوی بچوں سمیت تیز دھوپ میں چلنے کا، بھوک سے، دھوپ سے، تھکان سے اور حادثوں سے مرنے کا کتنا لمبا چوڑا پیکیج انہوں نے فراہم کیا ہے، یہ بھی تو آتم نربھر بھارت کی سمت میں انتہائی اہم قدم ہے! اس سے خود ان غریبوں کے اور حکومت کے بھی کتنے ہزار کروڑ روپے بچے ہوں گے، اس کا اندازہ بھی نہیں ہے کسی کو۔

اور پھر انہوں نے ریاستی حکومتوں سے مزدوروں سے بارہ بارہ گھنٹے کام کروانے اور لیبر قوانین کو بے دم کروانے کا جو پیکیج دلایا ہے، وہ فائدہ الگ سے ہے۔ اور بتاؤں، انہوں نے سرکاری ملازمین کے بھتے کاٹنے، کم از کم اجرت سے مزدوروں کو آزاد کروانے، ٹرینوں میں بزرگوں کو ملنے والی چھوٹ ختم کرنے جیسے کئی اور معاشی پیکیج فراہم کیے ہیں۔

اور ابھی تو ایسے نہ جانے کتنے پیکیج وہ دیتے چلے جائیں گے! اتنے پیکیج دیں گے کہ آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے، کمپیوٹر گنتی کرنا بھول جائے گا! ارے تم کیا جانوں مودی جی کے پیکیج اور پیکیجنگ کرنے کے فن کو! ٹھہرو بدمعاش سیکولریو، بائیں بازو، شہری نکسل اور خاص مذہب کے لوگو! تمہیں پہلے بھی دریا دلی سے مودی جی، شاہ جی کے ’پیکیج ‘ ملے ہیں اور آگے بھی ملیں گے، تہمارے بھی لگتا ہے اب ’اچھے دن ‘ آ ہی گئے ہیں، تم ایسے نہیں مانوگے!

Published: 17 May 2020, 5:11 PM