بے آسرا مزدوروں کی مدد کیجیے، یہی رمضان کا تقاضہ ہے...ظفر آغا

ایسے موقع پر کم از کم مسلمانوں کا تو یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل پڑیں اور ان راستوں پر جن سے یہ مزدور گزر رہے ہیں، وہاں سبیل اور لنگر قائم کریں اور ان کی ہر طرح سے مدد کریں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

وہ ٹرین کی ہی تلاش میں نکلے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی ٹرین تک پہنچ پاتے، ان کو ایک دوسری ٹرین نے دھر دبوچا اور وہ 16 کے 16 ٹرین کی پٹری پر ایسی گہری نیند سوئے کہ پھر کبھی جاگ ہی نہ سکے۔ جی ہاں، یہ انہی 16 غریب اور بے آسرا مزدوروں کا ذکر ہے جو گزشتہ ہفتے اورنگ آباد میں ریل کی پٹری پر ٹرین سے کچل کر مر گئے۔ خبروں کے مطابق وہ مہاراشٹر سے پیدل چل کر بھساول اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔ ان کو خبر ملی تھی کہ وہاں سے ایک ٹرین چلے گی جو ان کو بھوپال پہنچا دے گی۔ ان کا ارادہ تھا کہ بھوپال سے اپنے گاؤں وہ پیدل پہنچ جائیں گے۔ وہ نہ تو بھساول پہنچ سکے اور نہ ہی اپنے گھر۔ ہاں گھر پہنچنے کی امید لیے یہ مزدور اللہ کو ضرور پیارے ہو گئے۔

یہ تو محض ان 16 مزدوروں کا قصہ ہے جو اخباروں کی سرخی میں آ گئے اور ہم کو آپ کو پتہ چل گیا۔ ایسے نہ جانے کتنے غریب مزدور، کاریگر ہیں جو پیدل سینکڑوں ہزاروں میل کا سفر کر کے اپنے اپنے گھروں کے لیے نکل پڑے ہیں اور اکثر راستے میں مارے جا رہے ہیں۔ ارے بھئی اس مضمون کے لکھے جانے سے کچھ قبل اتر پردیش میں لکھنؤ سے دو ڈھائی سو کلو میٹر دور 24 مزدوروں کی ایک حادثہ میں موت ہو گئی۔ راستوں میں مارے گئے ان بے آسروں پر کوئی دو آنسو بہانے والا بھی نہیں ہے۔ اور تو اور پیدل چلتی ہوئی حاملہ عورتیں سڑک کے کنارے بچے جن رہی ہیں۔ اور پھر چند گھنٹوں کے اندر نومولود بچے کو گود میں لے کر پھر آگے پیدل چل پڑتی ہیں۔ اس ملک میں ایسے پیدل چل کر گھر پہنچنے والے مزدوروں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ سینکڑوں ہزاروں مزدور گھر پہنچنے کی امید میں پیدل چلے جا رہے ہیں کیونکہ جس 'مہانگری' میں دو روٹی کمانے کو وہ رہ رہے تھے اس 'مہانگری' کا دل بہت چھوٹا نکلا۔ لاک ڈاؤن لگتے ہی پہلے تو ان کا روزگار گیا، پھر مالک مکانوں نے گھر سے باہر کیا۔ جب کھانے کے لالے پڑے تو دل میں امید جگائی کہ چلو پیدل ہی سہی گھر چلو، وہاں روکھی سوکھی ہی سہی دو روٹی تو میسر ہوگی۔ بس سروں پر بوریہ بستر، گھر اور بیوی بچوں کے ساتھ سینکڑوں میل کے سفر پر پیدل چل پڑے۔ نہ جانے کتنے ان میں گھر پہنچنے کی دل ہی دل امید لیے اللہ کے گھر چلے گئے۔

ان بے آسرا مزدوروں کی بے مدت موت پر آنسو بہانے والا بھی کوئی نہیں۔ بھلا ان پر آنسو بہائے بھی تو کون! یہ تو وہ مزدور ہیں جو اس ملک کے ذاتی نظام میں جکڑے صدیوں سے یوں ہی غلامی کی زندگی جی رہے دلت اور پسماندہ ہیں اور یوں ہی بے موت مرتے رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں مزدوری اور کاریگری یہی دلت اور پسماندہ ذاتوں کے لوگ ہی تو کرتے ہیں۔ اس ہندوستانی سماج نے ان کو انسان کبھی سمجھا ہی نہیں۔ وہ تو اعلیٰ ذات کے افراد کے لیے مزدوری کرنے کو پیدا ہوتے ہیں اور گمنام مر جاتے ہیں۔ ان کا کام ہماری مزدوری کرنا ہے اور بس پھر مرے یا جیے، ہماری بلا سے۔ اس سماج نے صدیوں پہلے ہی ان کی بستیاں، ان کے گھر اور ان کے مقتدر تک الگ کر دیئے ہیں کیونکہ وہ مزدور ہیں، کاریگر ہیں، غریب ہیں اور وہ دلت اور پسماندہ ذاتوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہمارا کام کریں اور پھر جیسے چاہے مرے یا جیے۔ یہ تو 'نچلے انسان' ہیں، اچھوت ہیں۔

تب ہی تو لاک ڈاؤن میں جب ان 'نچلی ذات' کے مزدور اور کاریگر پیدل نکل پڑے تو ہمارا ضمیر نہیں جاگا۔ ہم میں سے کتنے تھے جو ان بے آسرا کے لیے ان کو کھانا کھلانے، پانی پلانے اپنے گھروں سے نکل پڑے۔ ہم میں سے کتنوں نے ان کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے، اور کھولتے بھی کیوں، اس سماج کے بزرگوں نے تو ہم کو یہ سکھایا ہے کہ ان 'نچلی ذاتوں' کے لوگوں سے اپنا کام کرواؤ اور بس ان کو چلتا کرو۔ لیکن ہم یہ بھول گئے کہ یہ غریب مزدور وہی ہیں جنھوں نے 'مہا نگری' میں ہمارے فلیٹ بنائے ہیں، انہی میں سے کسی پلمبر نے ہمارے گھر کی پانی کی لائن بچھائی ہے، انہی ہاتھوں نے ہمارے گھر، مال اور بازاروں کو جگمگ روشنی سے سجایا ہے۔ یہ نہ ہوتے تو ان بڑے بڑے شہروں کی رونق نہ ہوتی۔ ان مزدوروں کے بنا ہماری ساری دولت دھری کی دھری رہ جاتی۔ لیکن ان 'مہانگروں' کے بڑے بڑے گھروں اور فارم ہاؤس میں رہنے والوں اور لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومنے والوں کے دل بہت چھوٹے نکلے۔ ان کی انترآتما نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ جو سڑکوں پر بھوکے پیاسے چل رہے ہیں وہ بھی تو انسان ہیں۔ بھلا ہمارے اعلیٰ ذات دماغوں میں یہ خیال کیسے آتا۔ کیونکہ منو نے صدیوں پہلے ہی ہمارے آبا و اجداد کی روحوں میں وہ سیسہ پلا دیا تھا کہ جس نے غریب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دلت اور پچھڑا بنا دیا اور وہ انسانوں کی فہرست سے ہی باہر ہو گئے۔ منوواد کا وہ سیسہ ہمارے ڈی این اے میں آج بھی ایسا سمویا ہوا ہے کہ ہم کو ان مزدوروں کی موت پر بھی صدمہ نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم نے تو ان کو انسان مانا ہی نہیں۔ بھلا جانوروں کی موت اور تکلیف کا کس کو صدمہ ہوتا ہے۔ اسی لیے تو یہ مزدور کبھی سڑکوں پر ٹرک سے کچل کر مر رہے ہیں تو کبھی ریل کی پٹری پر ان کی جان جا رہی ہے۔ لیکن ہمارا ضمیر ہے کہ جاگتا نہیں۔

اور تو اور، باقی سب کو جانے دیجیے، اس ملک کا مسلمان جس کے رسول اور قرآن نے یہ سبق دیا کہ ہر انسان برابر ہے، کیونکہ سب اسی ایک اللہ کی مخلوق ہیں، وہ بھی اس ملک میں منوواد سے ایسا متاثر ہوا کہ اس نے بھی اس ملک کے دلت اور پسماندہ کو 'نچلی ذات' کا انسان مان لیا۔ خود مسلم معاشرے میں آج بھی ذات پات کی وہ بیماری پھیلی ہے کہ ہم اپنوں تک کو جولاہا، قصائی، نائی اور نہ جانے اللہ کے بنائے انسانوں کو کتنی ذاتوں میں بانٹ دیتے ہیں اور اس طرح اسلام کی روح سے منحرف ہو کر منو کے ذاتی نظام کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ہمارے علمائے دین تک اس لعنت کے خلاف منھ نہیں کھولتے ہیں۔ تب ہی تو اس ملک کا مسلمان بھی ان مزدوروں کی بے بسی پر ان کی مدد کرنے نہیں کھڑا ہوا۔

یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں محض روزہ و نماز ہی فرض نہیں ہے، اس ماہ میں تو پروردگار نے خمس و زکوٰۃ کو بھی فرض کیا ہے۔ یہ مہینہ تو غریبوں کی امداد کا مہینہ ہے۔ ایسے موقع پر کم از کم مسلمانوں کا تو یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل پڑیں اور ان راستوں پر جن سے یہ مزدور گزر رہے ہیں، وہاں سبیل اور لنگر قائم کریں۔ ان کی ہر طرح سے مدد کریں۔ دس بیس کلو میٹر اپنی گاڑیوں سے ان کو آگے پہنچا دیں۔ ان کی مدد اس ماہ میں ہم پر اور آپ پر فرض ہے۔ پھر اگر آپ اس وقت ان بے آسروں کی مدد کریں گے تو فساد کے وقت آپ کی مشکل کے وقت یہ آپ کی ڈھال بن جائیں گے۔ خدارا، کم سے کم آپ تو منوواد کی زنجیروں کو توڑ کر اسلامی روح کے عین مطابق اس وقت پیدل چلنے والے بے آسرا مزدوروں کی ایسی مدد کیجیے کہ ہندوستان آپ کے لیے تالیاں بجائے۔ ماہ رمضان میں یہی آپ کا فرض بھی ہے اور دین بھی ہے۔ بھوکوں پیاسوں کی مدد سے بڑھ کر اور کوئی فرض نہیں ہو سکتا۔ اس فرض کو بجا لائیے۔

Published: 17 May 2020, 10:11 AM