طنز و مزاح: بیرونی دوروں کا موسم اور قیدی بنے بیٹھے مودی جی!...وشنو ناگر

طویل لاک ڈاؤن نے مودی جی کی تقریر کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہوگا جس کی تلافی ’قوم کے نام خطاب‘ اور ’من کی بات ‘ سے نہیں کی جا سکتی، ان کی صلاحیت کا استعمال نہ ہو پایا تو دنیا کا کیا ہوگا!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشنو ناگر

موجودہ لاک ڈاؤن (تالا بندی) میں اب سات دن باقی ہیں۔ میرے خیال سے اب لاک ڈاؤن اور کورونا سے ہونے والے فائدے–نقصان کا جائزہ لینے کا وقت آ چکا ہے۔ غریبوں پر لاک ڈاؤن میں کیا بیتی، مزدوروں-کسانوں، پٹروی والوں، چھوٹے تاجروں اور سڑک کے راستے ہزاروں کلومیٹر پیدل چل کر اپنے گھر پہنچنے والوں پر کیا بیتی، یہ سب معمولی باتیں ہیں جو اس جائزہ میں شامل نہیں کی جا سکتیں۔

مودی جی کا کہنا ہے ’نیو انڈیا‘ بنانا ہے تو ان کی طرف سے منہ، آنکھ سب موڑنا ہے، یوگا کرکے خوش رہنا ہے! آنکھیں موند کر ان کے پیچھے پیچھے چلنا ہے۔ سوال پوچھنے کی گندی عادت سے نجات پانی ہے۔ ’بھگتی‘ میں شدت لانی ہے۔ مودی مودی کرنا ہے۔ یہ ووٹر ہیں اور اگلا چناؤ اگر ہونا ہے تو ابھی وہ بہت دور ہے۔ ہاں بڑے بڑے سرمایہ داروں، مال والوں، فلم والوں کو کتنا نقصان برداشت کرنا پڑا، قومی تشویش اور غور و غوض کا اصل موصوع یہ ہے۔ یہی بنائیں گے ’ایم ڈی ایچ‘ والا اصلی نیو انڈیا۔ یہ ووٹر تو ہندتوا کے کھلونے ہیں۔ جب چاہیں گے، جیسا چاہیں گے، اس سے کھیل لیں گے، انہیں بیچ دینگے، توڑ دینگے!

ہاں، اس ملک کے وزیر اعظم کے فائدے نقصان پر غور کرنا لازمی ہے۔ اس بار تو ہم انہیں ہوئے نقصان کا جائزہ بھی بحسن و خوبی نہیں کر پائیں گے، پھر ان کو ہونے والے فائدے کی کیا بات کریں! سب سے پہلے دن میں 18-18 گھنٹے کام کرنے کی ان کی صلاحیت کا اس اثنا میں بہتر استعمال نہیں ہو سکا اور اب اس کا امکان ہی باقی ہے۔ اس پر ہمیں صد افسوس ہونا چاہیے۔ سچے قوم پرست کی یہ سب سے بڑی علامت ہے اور میں قوم پرست ہوں۔ اس لئے مجھے صرف افسوس ہی نہیں ہوا، بلکہ گہرا صدمہ بھی لگا۔ اس صدمے کو میں کس طرح برداشت کر پایا یہ میرا دل ہی جانتا ہے۔ مودی کے منتر نے ہی اسے قابل برداشت بنایا ہے۔

ان کی اور ملک کی پھوٹی قسمت کہ اس دوران سو سے زیاد دن گزر چکے اور وہ بیرونی دوروں پر نہیں جا سکے۔ یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا اور حیرت ناک ریکارڈ ہے کہ وہ خود بھی اس پر دنگ ہیں اور اپنے مقدر پر ملامت کر رہے ہیں۔ کورونا کا مسئلہ ہندوستان تک محدود ہوتا تو کوئی فکر کی بات نہیں تھی، مگر یورپ –امریکہ تک کی حالت خستہ ہے، دکھ اس بات کا ہے۔ موسم گرما آ چکا ہے ، لپک کر بیرونی دوروں کا موسم چل رہا ہے اور وہ اس ملک میں قیدی بن کر بیٹھے ہیں۔

یہ موسم، یہ کورونا، ملک میں بھی تقاریر کے دوروں کے لئے بھی نامناسب ہے، ورنہ یہاں خاطر مدارت سے ہی کچھ بھرپائی ہو جاتی۔ بیرون ملک جانے کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ یورپ –امریکہ سیارہ مریخ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اے سی میں ان کی سانسیں گھٹ رہی ہے۔ ادھر ماہرین کہہ رہے ہیں کہ کورونا کے سبب اے سی سے بھی فاصلہ رکھو۔ بڑی آفت ہے۔ ان کے سامنے ایسا برا وقت کبھی نہیں آیا۔ ان کی اس بے بسی کو کوئی حساس شخص تو دیکھ بھی نہیں سکتا میں وہ کم نصیب ہوں یہ سب دیکھ اور سہہ پا رہا ہوں۔ دھرتی بھی تو نہیں پھٹتی کہ میں اسی میں سما جاؤں!

ہندوستانی تارکین وطن جو مودی جو کو سننے –دیکھنے کے لئے ترسا کرتے تھے، اب بیچارے وہاں موت کے خطرے سے جوجھ رہے ہیں۔ ادھر دل ان کے پاس جانے کو مچل رہا ہے اور ادھر نو انٹری کا بورڈ لگا ہوا ہے! وہ بھی کیا دن تھے کہ انہیں سننے کے لئے بڑے بڑے اسٹیڈیم بھر جاتے تھے۔ آئیں گے وہ اچھے دن بھی۔ کورونا کا ستیہ ناش ہو۔ اس نے خاص طور پر ہندوستان-امریکی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ایک بار وہاں جاکر ’اگلی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرے لگانے کی دلی خواہش سے انہیں محروم کر دیا ہے۔ یہ نقصان بھی ہوا ہے کہ بیرونی دورے کر کے باہمی تعلقات کو زک پہنچانے کے امکانات پر بھی پانی پھر چکا ہے۔

طویل مدتی تالا بندی سے غالباً وزیر اعظم تقریر کرنے کی صلاحیت پر بھی منفی اثر پڑا ہوگا۔ قوم کے نام خطاب اور من کی بات کہہ لینے سے اس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ یہ کہنا چھوٹا منہ بڑی بات ہوگی کہ موقع ملے تو میں بھی پیغام وپیام دینے جیسا کام کر سکتا ہوں مگر بھاسن دینا وہ بھی مودی جی جیسا – ناممکن۔ چار پانچ مہینے تک ان کی اس صلاحیت کا بحسن و خوبی استعمال نہیں ہو پایا تو ان کا، ملک کا اور دنیا کا کیا ہوگا۔ خدشہ تو یہ بھی ہے کہ طویل مدت تک بھاسن نہ دے پانے کا اثر ان کی فٹنیس پر بھی پڑ سکتا ہے۔ امید ہے کہ وہ آئینے کے سامنے بھاسن دے کر اس کی بھرپائی کر لیتے ہوں گے۔