طنز و مزاح: ’کورونا‘ اور ’مودی بھگتی‘ ہندوستان کو دو وائرسوں کا سامنا... وشنو ناگر

ہندوستان کو اس وقت دو-دو کورونا وائرسوں کا سامنا ہے، ایک ’مودی بھگتی‘ کا کورونا اور دوسرا یہ کرونا، دونوں ہی بری طرح سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں اور دونوں ہی عقل اور زندگی کے لئے مہلک ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشنو ناگر

بھائیو-بہنو! کرونا سے بھی زیادہ مہلک ہے، کورونا کا قبض! روز کورونا، روز کورونا۔ میری سمجھ میں تو آج تک صرف اتنا آیا ہے کہ گھر سے باہر نہیں نکلنا ہے اور دو دو گھنٹے بعد صابن سے مل مل کر ہاتھ دھونا ہے۔ ایک دو باتیں اور ہیں لیکن اس کا علم ہر دن زیادہ سے زیادہ مسلط کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ پیٹ کا قبض بھی برا ہے لیکن اس کا بھی دیسی –انگریزی علاج موجود ہے اور آدمی ایک دو دن میں ٹھیک بھی ہو جاتا ہے۔ اگر علاج نہ بھی کیا جائے تو بھی ٹھیک ہو جاتا ہے ، لیکن کورونا کا قبض ناقابل علاج ہے۔ کورونا ختم ہو جائے گا لیکن یہ قبض برسوں نہیں جانے والا۔ آدمی کورونا کی وجہ سے مرے یا نہ مرے لیکن قبض سے ضرور مر جائے گا!


یہ اچھے خاصے انسان کو ذہن سے لے کر پیر تک متاثر کرتا ہے۔ اگر یہ دو تین دن کی بات ہے تو بچے کو بھلا کسی طرح بہلایا جا سکتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کے پاس علاج نہیں ہوتا تو دوسرے کے پاس جایا جاسکتا ہے۔ دوائیں تبدیل کر سکتے ہیں، پرہیز جاری رکھ سکتے ہیں۔ میرے ایک دوست کی طرح گھریلو، دیسی، ایلوپیتھک تمام دوائیں ایک ساتھ لی جاسکتی ہیں، تاکہ مرض کسی سے تو ٹھیک ہو جائے گا اور عوامی تعلقات کی رفتار ماند نہ ہونے پائے گی!، خوش قسمتی یا بدقسمتی سے، فرض کرو کہ کسی کا کام تمام ہو بھی گیا تو اس کا ہوگا، دوسروں کا نہیں! وہ آپ کی جان نہیں لے گا۔ رشتہ دار وغیرہ دو چار دن تک آنسو بہائیں گے اور پھر زندگی معمول پر آ جائے گی۔

یہ والا قبض آج تک کے تمام قبضوں کا باپ ہے۔ یہ کورونا سے زیادہ تیزی اور خطرناک ڈھب سے گھر گھر میں پھیل رہا ہے۔ یہ قبض کئی مہینوں سے چل رہا ہے اور مزید مہینوں تک چلتا رہے گا ۔ آخر میں دیکھنا کہ جتنے کورونا سے نہیں مریں گے اتنے قبض کے اس انفیکشن سے مر جائیں گے!


آپ پوچھیں گے کہ کورونا سے زیادہ خطرناک ’کورونا کا قبض‘ آخر کیا مطلب ہے؟ بتاتا ہوں۔ آج کل ہر جگہ کورونا ہی کورونا نظر آتا ہے، ٹی وی دیکھو تو کورونا، اخبار پڑھو تو کورونا، سوشل میڈیا کھولو تو کورونا اور موبائل اٹھاؤ تو کورونا۔ پہلے موبائل کمپنی ہمیں ’کورونا کا ترانہ‘ سناتی ہے، پھر جس کو ہم نے فون کیا ہے یا ہمارے پاس جس کا فون آیا ہے و شروع جاتا ہے۔ ہم بھی شروع سے آخر تک کورونا ہی کورونا کرتے ہیں۔ اشتہار کورونا، نظم کورونا، ایس ایم ایس کورونا، ای میل کورونا۔ یہ کھاؤ، یہ مت کھاؤ کورونا۔ یہ پیو، یہ مت پیو کورونا۔ محبوبہ و محبوب کی ملاقات ناممکن کورونا، وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس کورونا، قوم سے خطاب، من کی بات کورونا۔ اور بھی بہت کچھ کورونا۔

تمام بحران، تمام مسائل اسی میں سما چکے ہیں۔ ہندوستان میں گویا کچھ اور کہنے یا کرنے کو باقی ہی نہیں رہ گیا ہے۔ راحت کی بات صرف یہ ہے کہ درخت اور پودے، پھل اور پھول، جانور اور پرندے، آسمان اور زمین، چاند اور ستارے نہیں جانتے، نہیں مانتے کہ کیا ہوتا ہے یہ کمبخت کورونا! ہوگا کوئی کورونا، ان کی بلا سے۔ غنیمت ہے کہ یہ سب نہ تو اینکروں کو دیکھتے ہیں نہ سنتے اور نہ ہی اخبارات پڑھتے ہیں۔ عقل کھانے پینے سے آگے نہ ہو اور کوئی مخلوق انسان کی طرح دانشمند نہ ہو تو یہ بھی بری بات نہیں ہے، ورنہ کسی کا کسی طرح کا کورونا چسپاں ہو ہی جاتا ہے۔ اب تو یہاں دو دو کورونا ہیں۔ ایک مودی بھگتی کا کورونا اور دوسرا یہ کورونا چل ہی رہا ہے۔ دونوں بری طرح مکس ہوگئے ہیں۔ دونوں ہی عقل اور زندگی کے لئے مہلک ہیں۔


اب مہابلی سے مہابلی بھی کورونا کے بارے میں ہی بات کرتے ہیں۔ ’ٹرمپ مہابالی‘ سے ’ممکن مہابالی‘ بات کرے ہیں کورونا۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے نہ جیتے جی اس سے سکون ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد ملے گا۔ زندہ بھی رکھے گا ’مہابلی کورونا ‘ اور اوپر بھی بھیجے گا یہی ’مہابلی کورونا ‘۔ چار چھینک کسی کو آ جاتی ہیں تو پڑوسی کو محسوس ہوتا ہے، ضرور اسے ہو گیا کورونا۔ ایک دن پڑوسی کے گھر کے بزرگ کھانسنے لگتے ہیں تو ان کے پورے کنبہ کو شک ہو جاتا ہے کہ بوڑھے کو ہو گیا کورونا۔ اسے جلد از جلد تنہائی مرکز میں بھیج دو، بصورت دیگر یہ خود بھی جائے گا اور ہمیں بھی لے جائے گا۔

اب تو یوں لگتا ہے، وہ خوش قسمت تھے جو کورونا کی آمد سے قبل ہی دنیا سے چلے گئے تھے۔ کئی بار تو یہ خیال بھی آتا ہے کہ وہ ضرور ہوشیار اور تجربہ کار رہے ہوں گے۔ معلوم ہو گیا ہوگا کہ گرو! ایک نہ ایک دن تو یہاں سے جانا ہی ہے ابھی کوچ کر لیتے ہیں۔ کورونا کے ذریعہ مرکر، مٹی کو خراب کرنے کا کیا فائدہ۔ میرا دوست بھی اس نتیجہ پر متفق ہے۔ پہلے میں سوچتا تھا کہ جو لوگ مئی، 2014 یا جون- جولائی تک گزار لئے وہ ہوشیار تھے، قسمت والے تھے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کورونا مہابلی کی آمد سے پہلے بھی جو لوگ چلے گئے وہ بھی خوش قسمت، ہوشیار لوگ تھے۔ ہم ہی بیوقوف نکلے، جو اب تک جینے پر بضد ہیں۔ حتی کہ وہ بھی ہم جیسوں کے لئے اللہ کو پیارے ہونے کے انتظار میں ہیں جنہوں نے ترنگے میں لپیٹ کر ’انتم درشن‘ دینے کا انتظام کر رکھا ہے۔


کورونا میں سب کچھ تحلیل ہوچکا ہے، ہندو مسلم بھی، لنچنگ بھی، ذات و مذہب بھی۔ وکاس بھی، وشواس بھی۔ مودی مودی بھی۔ شاہین باغ اور جامعہ بھی۔ نیز جواہر لال نہرو بھی اور ان کے نام سے منسوب یونیورسٹی بھی۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم کے چھ دن کے چھ لباس بھی، ان کی تقاریر بھی اور ہر ساتویں دن ان کے غیر ملکی دورے بھی۔ صرف یہ ملک بچا ہے ’بھارت ماتا کی جے‘ کرنے اور ہو سکے تو ٹرمپ جی کا دوبارہ شاندار استقبال کرنے کے لئے!

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 03 May 2020, 6:11 PM