کورونا بحران کی آڑ میں ماحولیات کو تباہ کرنے پر آمادہ مودی حکومت... مہیندر پانڈے

یوں تو سال 2014 سے ہی ماحولیات کے قوانین کو کھوکھلا کرنے کا عمل جاری ہے لیکن اس کورونا وبا کے دور میں تو مودی حکومت نے ماحولیات کی گویا قبر ہی کھود ڈالی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مہیندر پانڈے

حال ہی میں وشاکھا پٹنم کی جس کمپنی (ایل جی پالیمرس) میں گیس کا اخراج ہوا اور جس میں 12 سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، وہ کمپنی بغیر کسی ماحولیاتی منظوری کے چل رہی تھی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس حقیقت کا ریاستی حکومت اور متعلقہ محکموں کو بھی پتہ تھا۔

ویسے اس حقیقت سے کم از کم آلودگی کو قابو میں رکھنے اور ماحولیات کے تحفظ سے متعلق سرکاری محکوں کو نزدیک سے جاننے والے لوگوں کو قطعاً تعجب نہیں ہوگا کیونکہ ملک بھر کی بڑی صنعتیں اور منصوبہ بندیاں اسی طرح سے کام کرتی ہیں۔ سال 2014 کے بعد سے لگاتار ماحولیات سے متعلق قوانین کو کھوکھلا کرنے کا عمل جاری ہے اور کورونا وائرس کے دور میں تو ماحولیات کی گویا قبر ہی کھود ڈالی گئی ہے۔ اب ماحولیات کے حوالہ سے منظوری میں سے محض منظوری ہی باقی رہ گئی ہے جبکہ ماحولیات کا لفظ اس میں سے پوری طرح غائب ہے۔

دراصل، ایل جی پالیمرس نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا تھا، جس کے بعد قانونی طور پر اسے ماحولیات کے حوالہ سے منظوری لینی تھی لیکن سب یونہی چلتا رہا۔ البتہ آندھرا پردیش اسٹیٹ پالیوشن کنٹرول بورڈ اسے منظوری دیتا رہا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ اس نے ماحولیاتی منظوری حاصل بھی کی ہے یا نہیں۔

پھر عدالت عظمیٰ کے کسی فیصلہ کے بعد اور وزارت ماحولیات کے نوٹیفکیشن کے بعد دسمبر 2017 میں اس صنعت نے مرکزی حکومت کی ماحولیات اور جنگلات کی وزارتوں میں منظوری کے لئے درخواست بھیجی۔ مرکزی حکومت نے اس درخواست کو اپریل 2018 میں آندھرا پردیش کی ماحولیات کے حوالہ سے منظوری فراہم کرنے والی تنظیم (اسٹیٹ انوایرمینٹ امپیکٹ اسیسمنٹ اتھارٹی) کو تو بھیج دیا مگر صنعت کو منظوری ملنے تک کام کو بند کرنے کی ہدایت جاری نہیں کی۔ وزارت ماحولیات کی ہی یہ ہدایت ہے کہ جب تک ماحولیات کے حوالہ سے منظوری حاصل نہ ہو جائے جب تک تک کسی صنعت کو چلایا نہیں جا سکتا ہے۔ ستمبر 2018 میں ایل جی پالیمرس نے ترمیم شدہ درخواست ریاستی اتھارٹی کے پاس بھیجی، جس میں اس نے کہا کہ صنعت چل رہی ہے، پھر بھی اتھارٹی نے اسے بند کرنے کا حکم جاری نہیں کیا۔

گیس لیک ہونے کے بعد سے مقامی باشندگان اس صنعت کو آبادی والے علاقہ سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور پولیس کی لاٹھیاں بھی کھا رہے ہیں ۔اسی اثنا میں میڈیا رپورٹوں کی بنیاد پر صنعت کے خلاف این جی ٹی (نیشنل گرین ٹریبیونل) نے از خود نوٹس لیا ہے، جس پر 8 مئی کو پہلی سماعت بھی ہو چکی ہے اور کمپنی کو ہرجانہ کے طور پر 50 کروڑ روپے ضلع مجسٹریٹ کے یہاں جمع کرنے کو کہا گیا ہے۔ این جی ٹی نے متعلقہ سرکاری محکموں اور افسران کی بھی اس معاملہ میں ذمہ داری طے کرنے کو ہدایت دی ہیں۔

تعجب ہے کہ کمیٹی کے لئے جو ایجنڈا این جی ٹی کی طرف سے طے کیا گیا ہے اس میں اس صنعت سے صرف گیس اخراج اور اس کے اثرات کو ہی شامل کیا گیا ہے۔ صنعت میں آلودگی کو قابو کرنے کے آلات موجود ہیں یا نہیں، یا پھر ایک خطرناک کیمیکلوں والی صنعت اس جگہ پر قائم رہ سکتی ہے یا نہیں وغیر موضوعات اس ایجنڈا سے غائب ہیں۔

این جی ٹی کا طریقہ کار کچھ ایسا ہے کہ لوگوں کو لگنا چاہیے کہ اسے بھی ماحولیات اور لوگوں کی فکر ہے۔ اس حکم کو خوب مشتہر بھی کیا گیا، جس سے این جی ٹی پر لوگوں کا اعتماد برقرار رہے لیکن یہ سختی ایک دو سماعتوں تک ہی رہتی ہے۔ پھر مہینوں کے بعد جو حتمی فیصلہ آتا ہے وہ یقینی طور پر صنعت کے حق میں ہی جاتا ہے۔ تمل ناڈو کے توتیکورن میں واقع ویدانتا گروپ کے ’اسٹر لائٹ کاپر‘ کے تعلق سے این جی ٹی نے جو فیصلہ دیا تھا اس سے سبھی واقف ہیں۔

اسٹر لائٹ کاپر سے آلودگی کے خلاف تحریک چلا رہے 13 لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا، لیکن این جی ٹی، سینٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ اور مرکزی وزارت ماحولیات کو اس صنعت میں کہیں کوئی آلودگی نظر نہیں آئی اور صنعت کو چلانے کی منظوری فراہم کر دی گئی، اس بار بھی ایسا ہی ہونے کی امید ہے۔ گیس کا اخراج سبھی نے دیکھا ہے اور اس کے لئے 50 کروڑ روپے وصولے بھی کیے گئے ہیں، محض اتنا ہی ہوگا۔ اس صنعت کی طرف سے ماحولیات کے قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق سوال نہ تو کوئی پوچھے گا اور نہ ہی کوئی جواب ملے گا۔

ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران مرکزی حکومت کی کسی وزارت نے اپنے معمول کے کاموں سے زیادہ کام کیا ہے تو وہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت ہے۔ اس وزارت نے زیادہ کام اس لئے نہیں کیا کہ اسے ماحول کی بڑی فکر ہے بلکہ اس لئے کیا کیونکہ اسے صنعت کاروں کی فکر ہے۔ جن بڑی منصوبہ بندیوں کو مقامی باشندوں اور ماہرین ماحولیات کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، ان سبھی کو آناً فاناً میں منظوری دے دی گئی یا اس سمت میں کام چل رہا ہے۔ اس وقت نہ تو عوامی سماعت کا کوئی چکر ہے اور نہ ہی موقع معائنہ کر کے تفصیلی مطالعہ کی کوئی ضرورت، لاک ڈاؤن کی آڑ میں سب کچھ معاف کر دیا گیا ہے۔

اس دور میں ’ایلیفنٹ ریزرو‘ میں کوئلہ کی کان کو منظوری فراہم کی گئی، ’وائلڈ لائف سینچوری‘ میں ڈریلنگ کی منظوری دی گئی اور وزیر اعظم کے پسندیدہ ’سینٹرل ویسٹا پروجیکٹ‘، جس کے تحت پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر عماریتں تعمیر ہونی ہیں، اسے بھی منظوری دے دی گئی۔ جنگلی حیات اور قبائلیوں کے حوالہ سے اہم وادیٔ دیبانگ میں 3097 میگا واٹ کی پن بجلی منصوبہ بندی اور مدھیہ پردیش میں ٹائیگر ریزرو کے درمیان یورینیم کی کانکنی کے پروجیکٹ کو بھی جلد ہی منظوری دے دی جائے گی۔

ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت کے لئے ماحولیاتی تحفظ کوئی موضوع نہیں ہے، عوام کوئی موصوع نہیں ہے اور جنگلی حیات بھی کوئی موضوع نہیں ہے۔ یہ حکومت روز اول سے کچھ چنندہ صنعت کاروں کے مفادات کے حق میں کام کر رہی ہے اور عنقریب بھی اس چلن میں کوئی تبدیلی ہوگی، ایسی کوئی امید نہیں ہے۔

Published: 17 May 2020, 6:11 PM