کورونا کے سبب دیگر امراض سے دنیا لاپرواہ، واپس آئیں گی مہلک بیماریاں

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن پروگراموں کے التوا سے غریب ممالک میں خوفناک نتائج برآمد ہوں گے اور اس کے اثرات دیرتک باقی رہیں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مہیندر پانڈے

کورونا وبا کے دور میں دنیا بھر میں صحت کی خدمات اور میڈیکل ریسرچ سے جڑے لوگ کووڈ ۔19 سے جدوجہد میں مصروف ہیں، ایسے حالات میں وہ پرانی بیماریاں جس کا دنیا میں اثر کم ہوتا جا رہا تھا، وہ ایک بار پھر واپس آ رہی ہیں۔ تپ دق (ٹی بی) سے متعلق بین الاقوامی سطح پر تعاون کے مطابق، کورونا بحران کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں کے نتیجے میں اگلے چند سالوں میں لاکھوں نئے ٹی بی کے مریض سامنے آئیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق اب سے 2025 کے درمیان ٹی بی کے تقریباً 63 لاکھ نئے کیس آئیں گے اور ان میں سے 14 لاکھ کی موت بغیر کسی علاج کے ہوگی۔ ہم ٹی بی کی روک تھام کے لئے جو بھی کوششیں کر رہے ہیں کووڈ-19 کی وجہ سے ان میں پانچ سے 9 سال پیچھے رہ جائیں گے۔ ٹی بی یوں تو قابل علاج مرض ہے لیکن اس کے لئے مستقل ادویات کی ضرورت ہے اور اس وقت مریضوں کو اسپتال سے واپس کیا جا رہا ہے اور انہیں وقت پر ادویات میسر نہیں ہو پا رہی ہیں۔

اسٹاپ ٹی بی پارٹنرشپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوسیکا دیتیو کے مطابق، عالمی برادری کچھ بیماریوں کو کس طرح نظرانداز کرتی ہے اس کی ایک مثال ٹی بی سے واضح ہے۔ کووڈ-19 ایک ایسی بیماری ہے جس کی تاریخ صرف 120 دن پرانی ہے لیکن دنیا کی 100 سے زیادہ کمپنیاں صرف اس کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری طرف ٹی بی ہزاروں سال پرانی بیماری ہے اور اب تک بالغوں کے لئے اس کی کوئی ویکسین نہیں ہے اور بچوں کے لئے صرف ایک ویکسین موجود ہے۔ اسی طرح ملیریا اور ایڈز جیسی بیماریوں کے لئے آج تک کوئی ویکسین تیار نہیں کی گئی ہے۔

گلوبل پولیو اراڈیکیشن انیش ایٹو نے 24 مارچ کے عام اجلاس میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے پروگرام کو اگلے 6 ماہ کے لئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو دن بعد عالمی ادارہ صحت کے اسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ آف ایکسپرٹس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کے تمام پروگراموں کو فی الحال منسوخ کر دیا جائے، کیونکہ اس کی وجہ سے سماجی فاصلے پر عمل کرنا ناممکن ہے۔

متعدد ماہرین صحت کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن پروگراموں کے التوا سے غریب ممالک میں خوفناک نتائج برآمد ہوں گے اور اس وبا کے بعد بھی اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔ غریب ممالک کے بچوں کے لئے اجتماعی ویکسی نیشن پروگرام واحد موقع ہوتا ہے جب انہیں بیماریوں سے حفاظت کے لئے قطرے پلائے جاتے ہیں، جس سے ان کی جان بچ جاتی ہیں۔

مارچ کے آخری ہفتے سے اب تک کا اندازہ ہے کہ پولیو، خسرہ، پیپی لوما وائرس، پیلے بخار، چیچک اور دماغی بخار سے بچاؤ کے لئے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے گئے ہیں۔ اگر بچوں کو قطرے طویل عرصے تک دستیاب نہ ہوں تو پھر یہ ممکن ہے کہ پولیو کی بیماری دوبارہ دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہو جائے گی۔ موجودہ وقت میں بھی دنیا پولیو سے پاک نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں اس وائرس کی نئی شکلیں پائی جا رہی ہیں۔ افریقہ میں انسداد پولیو کی جو دوا دی گئی اسی سے پولیو پھیلنے کی اطلاع ہے۔

اسی طرح اب تک تقریباً 25 ممالک نے خسرہ کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو ملتوی کر دیا ہے اور متعدد ممالک اس پر غور کر رہے ہیں۔ اگر اس کی ویکسی نیشن میں تاخیر ہوتی ہے تو دنیا میں تقریباً 8 کروڑ بچے اس سے مر جائیں گے۔ امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول میں خسرہ کے ماہر روب لنکنس کے مطابق خسرہ میں مبتلا تمام بچوں میں سے 10 سے 15 فیصد مر جاتے ہیں۔