کوویت میں پھنسے ہندوستانیوں کو لے کر حیدرآباد پہنچی پہلی فلائٹ

وزارت صحت کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق ایرپورٹ پر محکمہ صحت کے عہدیداروں نے یہ جانچ کی۔ جانچ کے بعد سی آئی ایس ایف کے اہلکاروں نے جو حفاظتی کپڑے پہنے ہوئے تھے نے ان تمام کا امیگریشن کلیرنس کروایا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: پہلی وندے بھارت تخلیہ کی فلائٹ کوویت میں پھنسے ہندوستانیوں کے ساتھ حیدرآباد کے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پرپہنچی۔ حکومت ہند کا وندے بھارت مشن دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کے وہاں سے تخلیہ کا بڑا مشن ہے۔ یہ افراد لاک ڈاون کی وجہ سے ان ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو اس مشن کے ذریعہ ہندوستان واپس لایا جا رہا ہے۔

اس قومی کاز میں اپنی حصہ داری ادا کرتے ہوئے جی ایم آر کے زیر قیادت حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کی جانب سے کوویت سے پہلی فلائٹ ہندوستانیوں کو لے کر کل شب حیدرآباد پہنچی۔ ایرانڈیا کی فلائٹ AI 988 کوویت سے 2207 بجے 163ہندوستانی شہریوں کے ساتھ پہنچی جو کوویت میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایرپورٹ نے اپنے بیان میں یہ بات بتائی۔ مسافرین اور فلائٹ کے اہلکاروں کی سہولت کے لئے ایرپورٹ نے بین الاقوامی آمد اور ایرپورٹ کے تمام علاقوں کو جراثیم سے پاک کیا۔

عوامی مقامات بشمول واش رومس، کرسیوں، کاونٹرس، ٹرالیز، ریلینگز، دروازوں، لفٹس اور ایسکیلیٹرس کو بھی جراثیم سے پاک بنانے کا عمل انجام دیا گیا۔ ایرپورٹ میں سماجی فاصلہ کو بھی یقینی بنایا گیا۔ ہر مسافر کی تھرمل کیمروں کے ذریعہ جانچ کی گئی۔ وزارت صحت وخاندانی بہبود کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق ایرپورٹ پر محکمہ صحت کے عہدیداروں نے یہ جانچ کی۔ اس جانچ کے بعد سی آئی ایس ایف کے اہلکاروں نے جو حفاظتی کپڑے پہنے ہوئے تھے نے ان تمام کا امیگریشن کلیرنس کروایا۔ ہر لگیج کو جراثیم سے پاک بنایا گیا۔

تمام مسافرین کو غذا کے ڈبے دیئے گئے۔ سرکاری اصولوں کے مطابق تمام مسافرین کو شہر کے مخصوص علاقوں میں 14دن کے لئے الگ تھلگ رکھا جائے گا۔ تمام مسافرین کی روانگی کے بعد بین الاقوامی آمد کے تمام پروسیسنگ ایریا اور دیگر زونس کو جراثیم سے پاک کیا گیا اور آنے والے دنوں کے دوران چلائی جانے والی اگلی فلائٹس کے لئے تیار رکھا گیا۔ بیان میں یہ بات بتائی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 May 2020, 2:11 PM