مولانا فضل حق خیر آبادی: مرد، غازی، مجاہد، حق پرست، فضل حق... یوم وفات پر خصوصی پیش کش

جنگ آزادی کا ایک عظیم ستارہ جدوجہد کی تھکاوٹ سے فارغ ہوکر 12؍صفر 1278ھ مطابق 19؍اگست 1761ء کو ہمیشہ ہمیشہ کی راحت پاگیا۔ ساؤتھ پاؤنٹ پورٹ بلیرٔ (انڈومان) میں ان کی درگاہ پرآج عرس ہوتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

شاہد صدیقی علیگ

مرد، غازی، مجاہد، حق پرست، فضل حق

تھا کتاب حریت کا بے گماں پہلا ورق

فلسفہ اور منطق کے امام ،عربی اور فارسی کے جید عالم، بلند مرتبت شاعر و ادیب اور آزادی کے سرخیل مولانا فضل حق خیر آبادی کی عظیم شخصیت سے کون واقف نہیں ہوگا۔ ان کا تعلق خیر آباد ضلع سیتا پور کے گہوارہ علم وادب کے خاندان سے تھا۔ جن کا نسب حضرت عمر فاروق تک پہنچتا ہے۔ مولانا فضل حق نے 1212ھ مطابق 1797ء کو فضل امام کے گھر آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد دہلی میں صدر الصدور کے منصب پر فائز تھے۔ جن کے زیر سائے ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔ شاہ عبد القادر محدث دہلوی سے حدیث پڑھی۔ صرف تیرہ برس کی عمر میں تمام مروجہ علوم عقیلہ ونقلیہ سے فراغت حا صل کرلی تھی۔ حافظہ اتنا اعلیٰ تھا کہ صرف چار ماہ میں قرآن حکیم سینے میں اتار لیا تھا۔ کچھ عرصے درس و تدریس سے بھی منسلک رہے۔ مولانا سے طلباء دور دورسے استفادہ علمی کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ والد محترم کی رحلت کے وقت ان کی عمر 28 سال تھی۔ گھر کی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کمپنی کی نوکری اختیارکرلی اور دہلی ریزیڈنٹ کے دفتر میں سرشتہ دار ہوگئے، پھر نواب فیض محمد خاں والی جھجر کے یہاں پانچ سو روپئے ماہانہ پر چلے گئے۔

ساؤتھ پاؤنٹ پورٹ بلیرٔ  (انڈومان) میں مووجود مولانا فضل حق خیرآبادی کی درگاہ
ساؤتھ پاؤنٹ پورٹ بلیرٔ (انڈومان) میں مووجود مولانا فضل حق خیرآبادی کی درگاہ

دہلی کو الوادع کہنے سے قبل بہادر شاہ ظفر سے نیاز حاصل کیا۔ جنہوں نے آبدیدہ آنکھوں سے اپنا ایک خاص دوشالہ اڑھا کر رخصت کیا۔ مولانا فضل حق کے مرزا غالب سے نزدیکی مراسم تھے۔ جھجر کے بعد الور چلے گئے۔ بعد ازیں آٹھ برس رام پور میں بسر کیے۔ پھر لکھنؤمیں صدرالصدور اور پھر حضور تحصیل کے نام سے نئی کچہری کے مہتم کا عہدہ سنبھالا۔ جہاں ان کی ملاقات پہلی جنگ آزادی کے روح رواں مولوی احمد اللہ شاہ عرف ڈنکا شاہ سے ہوئی، جن کی ملاقات نے ان کی ایسی انقلابی ذہن سازی کی کہ پھولوں کی سیج چھوڑ کر کانٹوں بھری راہ اختیار کرلی۔ گھر جاتے ہی کمپنی کی نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور الور چلے گئے۔ ان کی نازک مزاجی اور شاہانہ زندگی کو دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وطن کی آبرو کی خاطر اپنی شاہانہ زندگی کو چھوڑ کر جنگی لباس ملبوس کر لیں گے۔

رئیس المجاہدین مولانا فضل حق خیرآبادی انقلاب کی صدا بلند ہونے پر الور میں تھے اور وطن عزیز میں بدلتے ہوئے حالات پر طائرانہ نظر رکھے ہوئے تھے، یوں تو دلّی میں انگریزوں سے مقابلہ جاری تھا مگر وہاں نظم وضبط اور جنگی حکمت عملی کی کمی سے مجاہدین میں مایوسی طاری تھی، لیکن بخت خاں کی آمد نے جنگ کا پورا نقشہ ہی بدل دیا تو اصحاب الرائے علماء کو کچھ اطمینان ہوا۔ بخت خاں مسلمانوں کی فطرت سے اچھی طر ح واقفیت رکھتے تھے کہ اس وقت تک فتح یابی مشکل ہے جب تک مسلمان اس جنگ میں مذہبی طور پر شامل نہ ہوجائیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے علماء کرام کوفتویٰ دینے پر مجبور کیا، جس کی رو سے انگریزوں پر مسلمانوں کو جہاد کرنا واجب ہوجائے اور ان کا اندازہ درست نکلا۔

فتویٰ جاری ہوتے ہی مسلمانوں کی رگوں کا لہو جوش مارنے لگا، لوگ سرپہ کفن باندھ کر گھروں سے نکل پڑے۔ فتویٰ مولانا حضرت مفتی آزردہ دہلوی نے لکھا اورمندرجہ ذیل علماء کرام نے اس پر دستخط کیے۔ ’’سید محمد نذیر حسینؔ، نور جمال،ؔ عبد الکریمؔ، سکندر علی، مفتی صدر الدین، مفتی اکرام الدین، محمد ضیاء الدینؔ، احمد سعید،ؔ محمد عنبر خان، محمد کریم اللہ،سعید شاہ نقشبندیؔ، عبدالقادر، مولوی عبد الغنی، محمد علی،ؔ سرفراز علی، سید محبوب علی، جعفریؔ، محمد حامی الدین،ؔ مولوی سعید الدین فریدالدین، ؔسیداحمد، الہٰی بخش، محمد انصار علی، حفیظ اللہ خاںم نورالحق، محمد رحمت علیؔ خاں عدالت العالیہ، محمد علی حسینؔ قاضی القضات، سیف الرحمنؔ، محمد ہاشم، سید عبدالحمید،ؔ سید محمدؔ وغیرہ ‘‘ لہٰذا فضل الحق خیر آباد ی فتویٰ شائع ہونے کے بعد الور سے دہلی پہنچے۔ جس کے متعلق وہ اپنی تصنیف الثورۃ الہندیہ میں رقم کرتے ہیں کہ: دہلی میں یہ تو سب ہو ہی رہا تھا کہ بعض شہر و دیہہ سے بہادر مسلمانوں کی ایک جماعت علماء زہاّد اور ائمہ اجتہاد سے جہاد کے وجوب کا فتویٰ لے کر جدال وقتال کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

فضل الحق خیر آبادی سقوط دلّی تک انقلابیوں کی قیادت کر تے رہے مگر یہ بات قابل ذکرہے کہ انہوں نے کوئی عہدہ نہیں لیا کیونکہ ان کا صرف ایک ہی مقصد تھا یعنی اپنے ملک سے غیرملکیوں کو باہر نکالنا۔ منشی جیون لعل کے مطابق16 ؍اگست 1857ء کو انہوں نے دربار میں حاضر ہوکر ایک اشرفی نذر میں پیش کی اور صورتحال پر بادشاہ سے گفتگو کی۔ دربار میں متواتر آتے جاتے رہے اور قلعہ معلی کے اندر رونما ہونے والے ہر واقعہ پر شاہین کی نظر رکھی۔ انہوں نے شاہی حکیم احسن اللہ خاں جو انقلابیوں کی نظروں میں مشکوک تھا اس کے متعلق لکھا ہے کہ ’’ان کی محبت میں غالی تھا۔ صحیح معنوں میں حاکم دوالی اورنصاریٰ (انگریزوں) کے دشمنوں کا شدید ترین مخالف تھا۔‘‘ اسی طرح بادشاہ سلامت کی بیگم زینت محل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’جو نصاریٰ کی اس وقت بھی مطیع ودوست تھی جبکہ وہ حقیقت میں ملکہ تھی۔ ‘‘

18؍اگست کو جیون لعل لکھتا ہے کہ مولوی فضل حق نے اطلاع دی کہ انگریزی اخبارات لکھ رہے ہیں کہ شہر پر قبضہ ہوجانے کے بعد باشندوں کو قتل عام کیا جائے گا۔ شہر کو مسمار کر دیا جائے گا اور بادشاہ کے گھرانے میں سے کسی ایک آدمی کو ایسا نہ چھوڑا جائے گا جو بادشاہ کا نام لے یا اسے پانی کا ایک قطرہ بھی دے سکے۔

چنانچہ انہوں نے اپنی علم وحکمت، شعور و آگہی اور بصیرت وبصارت سے بھانپ لیا تھا کہ مغلیہ حکومت کا چراغ گل ہونے والا ہے جذباتی وطن پرستوں کے فرسودہ ہتھیاروں اور جدید تکنیک سے آراستہ انگریزوں کے مابین مقابلے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے، لہٰذا بادشاہ سلامت کو متنبہ کرتے ہیں کہ حضور کو مناسب ہے کہ سپاہیوں کوترغیب دے کر انگریزوں کے مقابلے سے روک دیا جائے، کیونکہ وہ کسی نوع انگریزوں پر فتح نہیں پاسکتے ہیں۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ اپنی فوج کو لڑانے کے لیے لے جاؤ اور انگریزوں کے خلاف لڑو، تو انہوں نے جواب دیا کہ افسوس تو اسی بات کا ہے کہ سپاہی ان کا کہنا بھی نہیں مانتے جو ان کی تنخواہ دینے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

یکم؍ستمبر کو فضل الحق خیر آبادی کو رٹ یعنی جنگی مشاورتی کونسل کے ممبر بنائے گئے۔

2؍ستمبرمرزا الہی بخش، مولوی فضل حق، میر سعید علی خاں اور حکیم عبدالحق آداب بجالائے۔

6؍ستتمبر مولوی فضل حق نے اطلاع دی کہ متھرا کی فوج آگرہ چلی گئی اور انگریزوں کو شکست دینے کے بعد شہر پرحملہ کر رہی ہے۔

7؍ستمبر بادشاہ دربار خاص رہے۔ حکیم عبدالحق، امیر سعید علی خاں، مولوی فضل حق، بدر الدین خاں اور دیگر تمام امراء اور رؤسا شریک دربار ہوئے۔ لال قلعہ پر یونین جیک لہرانے کے بعد مولانا کی زندگی اجیرن بن گئی۔ مولانا اور ان کے اہل وعیال پانچ روز تک بھوکے پیاسے گوشہ نشین رہے۔ پھر رات کی تاریکی میں چھپتے چھپاتے پیدل نکل کر سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھیکن پور ضلع علی گڈھ پہنچے جہاں اٹھارہ روز چھپے رہے، پھر لکھنؤ جاکر بیگم حضرت محل کی صفوں کو مضبوط کیا۔

جب ملکہ وکٹور یہ کی جانب سے عام معافی کا اعلان ہوا تو مولانا بھی ان کے وعدے پر یقین کرکے اپنے آبائی وطن پہنچ گئے لیکن انگریزی جاسوس سائے کی طرح ان کا پیچھا کررہے تھے۔ چند روز گھر پر سکون سے گزارنے کے بعد ان کی مخبری ہوگئی۔ گرفتاری عمل میں آئی اور مقدمہ چلا۔ عبور دریائے شور یعنی سزائے کالا پانی تجویز ہوئی اور تمام اشیا مال اسباب نیز کتابیں بھی ضبط کرلی گئیں۔ کچھ عرصہ مختلف جیل خانے میں رکھنے کے بعد انڈومان پہنچا دیئے گئے۔

مولانا فضل حق اپنی گرفتاری کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ: امن وامان کا وہی پروانہ جسے قسموں سے مؤکّد کیا گیا تھا، نظر پڑی، اس پر بھروسہ کرکے اپنے اہل وطن میں پہنچ گیا مجھے اس کا بالکل خیال نہ رہا کہ وہ بے ایمان کے عہد وپیمان پر بھروسہ اور بیدین کی قسم ویمین پر اعتماد کسی حالت میں درست نہیں خصوصاً جبکہ وہ بے دین جزا و سزائے آخرت کا قائل بھی نہ ہو۔

جہاں ایک عظیم شخصیت کو ایسی خوفناک اذیتیں دی گئیں جوشاید عام قیدی کو بھی نہ دی جاتی۔ فضل حق کے کپڑے اتروا لیے گئے، تہبند اور کملی دے دی گئی۔ پہلے پہل انہیں صفائی کے کام پر مامور کیا گیا۔ ٹوکرا لیتے اور کوڑا کرکٹ جمع کرکے پھینک آتے۔ کچھ مدت بعد حالات کا رخ بدلا، ہوا یوں کہ انڈومان سپرنٹنڈنٹ کی پیشی میں ایک مولوی تھے۔ سپرنٹنڈنٹ علم وادب کا ذوق رکھتا تھا جس کے پاس ایک قلمی کتاب تھی۔ اس نے مولوی صاحب کو کتاب اصلاح کے لیے دی۔ مولوی صاحب یہ کتاب فضل حق کے پاس لے گئے۔ انہوں نے نہ صرف اس کی عبارتیں درست کیں بلکہ مطالب، اضافے اور حاشیے میں کتابوں کے حوالے بھی دے دیئے۔ سپرنٹنڈنٹ ان کی ذہانت اور قابلیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اس کے بعد مولانا کو محرری کا کام سپرد کردیا گیا اور اس طرح اذیتوں میں کچھ تکلیف کم ہوگئی۔ کچھ عرصہ کے بعد مولانا کی رہائی کا حکم صادر ہوا تو ان کے لخت جگر والد کو لانے کے لیے انڈومان پہنچے۔ جہاز سے اترنے کے بعد ان کی نظر ایک جنازے پر گئی جس کے ساتھ ابنوہ (بھیڑ) تھی، دریافت کرنے پر علم ہوا کہ فضل حق خیر آبادی آخری سفر پر گامزن ہیں۔ اس طرح جنگ آزادی کا ایک عظیم ستارہ جدوجہد کی تھکاوٹ سے فارغ ہوکر 12؍صفر 1278ھ مطابق 19؍اگست 1761ء کو ہمیشہ ہمیشہ کی راحت پاگیا۔ ساؤتھ پاؤنٹ پورٹ بلیرٔ (انڈومان) میں ان کی درگاہ پرآج عرس ہوتا ہے۔ مولانا فضل حق نے گرناگوں مشغولیت کے باوجود بھی کافی مقدار میں تصانیف کا اثاثہ چھوڑا ہے۔

Published: 30 Sep 2020, 7:39 PM
next