"بابری مسجد کیس میں سی بی آئی عدالت کا فیصلہ ناانصافی کی تاریخ میں ایک مثال"

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد ججمنٹ ہے جس میں شہادتوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور قانون کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پریس ریلیز

بابری مسجد کو شہید کرنے کے سلسلہ میں سی بی آئی عدالت کا فیصلہ آیا اور تمام ملزمین بری کر دیئے گئے۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد ججمینٹ ہے جس میں شہادتوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور قانون کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا ہے، یہ فیصلہ اسی ذہنیت کا آئینہ دار ہے جو ذہنیت حکومت کی ہے اور جس کا اظہار بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں نے کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تو اتنا کیا کہ اپنے فیصلہ میں کئی واضح حقیقتوں کو تسلیم کیا پھر جو ججمینٹ دیا وہ انصاف کے چہرہ پر بڑاسیاہ دھبہ ہے، سی بی آئی کی عدالت نے سارے مجرمین کو بری کردیا جبکہ پورے ملک میں ویڈیو اور تصویریں موجود ہیں جو صاف بتاتی ہیں کہ مجرم کون ہے اور بابری مسجد کی شہادت کی سازش اور کارروائی میں کون لوگ شریک ہیں۔

مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے یہ بھی کہا کہ 1949ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ نے واضح کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک قومی شرمندگی ہے اور قانون کی حکمرانی اور آئینی طریقہ کار کے لئے بڑا دھچکا ہے، سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے یہ بھی کہا تھا کہ پانچ سو سالہ پرانا ڈھانچہ توڑ دیا گیا جس کی حفاظت کی ذمہ داری اسٹیٹ گورنمنٹ کے ہاتھوں میں تھی، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ لوگوں کو یاد ہوگا کہ بابری مسجد کی شہادت کے عظیم حادثہ کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ تعصب کی لہر چل پڑی تھی اور بڑے پیمانہ پر مسلمانوں کے جان و مال کا نقصان ہوا۔

سی بی آئی عدالت کا یہ فیصلہ مسجد کی شہادت کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالتا، تو کیا وہ سارا مجمع اور وہ سارے لوگ جو بی جے پی میں بہت بڑی حیثیت کے مالک رہے ہیں مسجد کو شہید نہیں کیا؟ یا کسی غیبی طاقت نے مسجد کی عمارت کو نیست و نابود کردیا؟ اور یہ سارے مجرمین جو مسجد کو شہید کرنے میں شریک تھے اور جنہوں نے مسجد کے گرانے کی سازش کی وہ سب وہاں صرف تماشہ دیکھ رہے تھے؟ یہ فیصلہ ناانصافی کی تاریخ میں ایک مثال کی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔ جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اس مرحلہ میں سی بی آئی کو ایمانداری ظاہر کرنی چاہیے اور اوپر کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہیے۔

next