عنقریب شائع ہونے والی کتاب: بھگوا سیاست اور مسلم اقلیت

"انتخابی سیاست چونکہ بری طرح جرم زدہ ہے، اور شدید بد عنوانی کا بھی شکار ہے، لہذا سیاسی عروج حاصل کرنے کے متمنی بعض حضرات جرم کا راستہ بھی اختیار کر رہے ہیں۔"

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

قومی آوازبیورو

’بھگوا سیاست اور مسلم اقلیت' کتاب اشاعت کے مرحلہ میں ہے۔ کتاب کے مصنف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر محمد سجاد ہیں، جنھوں نے کافی محنت کے ساتھ کچھ معلوماتی اور اہمیت کے حامل تاثراتی نوٹس کو اس منظم انداز میں مجموعہ کی شکل دی ہے جو دلچسپ بھی ہے اور زعفرانی سیاست و مسلم اقلیت کی تاریخ کے حوالے سے انتہائی اہم اور کارآمد باتیں آپ کے سامنے بھی رکھتا ہے۔ مصنف نے کتاب کے تعلق سے کچھ ضروری باتیں جو اختصار کے ساتھ لکھی ہیں، وہ 'قومی آواز' کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں۔ اس کو پڑھ کر یقیناً آپ کے اندر کتاب کے مطالعہ کی دلچسپی پیدا ہوگی۔

اس کتابچہ کی معرفت سے ایک مکالمہ شروع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک تجویز رکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آج کے مشکل تر اور نا مساعد حالات کے پیش نظر، ہندوستانی مسلمان، اپنی ترجیحات کو از سر نو طے کرنے کی فکر یا ایسا تجربہ کر سکتے ہیں، یا نہیں؟

سوشل میڈیا پر شمالی ہند کے مسلم نوجوانوں کی بڑی آبادی بہ ظاہر زیادہ دلچسپی انتخابی سیاست کی توڑ جوڑ، سیاست دانوں کے نجی و پبلک معاملات پر دکھائی دیتی ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگنے لگتا ہے کہ انتخابی سیاست کی دنیا میں جو گراوٹ آئی ہے، ان کے خلاف بولتے ہوئے، یا احتجاج کرتے ہوئے، بیش تر کا مقصد، شاید انہیں خرابیوں میں ملوث ہو کر ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے۔

ہندوستان میں مسلم اقلیت کے لئے بالخصوص ایسے وقت میں جب اکثریت پرست فرقہ واریت کا جارحانہ غلبہ قائم ہو رہا ہے، شاید زیادہ تشویشناک ہے۔ (مختلف صوبوں اور خطوں میں بھگوا طاقتوں نے جو مختلف طریقہ کار اپنایا اپنی حمایت بڑھانے میں، تنظیمی ڈھانچہ کو وسعت اور توانائی فراہم کرنے میں اور لیڈرشپ و کارکن کی تعداد میں اضافہ کرنے میں، ایسی تفصیلات کا ذکر بھی اس کتابچہ میں کیا گیا ہے)۔

اس جذباتیت کے پیش نظر، حقیقت پسندانہ خود احتساب اور کارگر و مؤثر حکمت عملی پر مذاکرہ زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اب نام نہاد سیکولر پارٹیاں بھی اقلیتی حقوق اور مساوی شہری حقوق کی باتیں تو بعید، موب لنچنگ، اور دیگر بھیانک امتیازی برتاؤ کے معاملات میں بھی خاموش یا بے بس سی ہو چکی ہیں۔

میڈیا اور عدلیہ جیسے ادارے بھی ان امتیازات کی مزاحمت، دفاع اور تحفظ کے بجائے خود ان امتیازات میں ملوث ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں انتخابی سیاست کی معرفت اور مسلم نمائندگی میں اضافہ کر کے بھی اقلیتوں کے وجود کو کس قدر بچایا جا سکتا ہے اس کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔

لہذا اس کتابچہ کی معرفت، شروعات یا پہل ایک ادنی کوشش سے کی جا رہی ہے کہ انتخابی سیاست کے رموز و نکات کو مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعہ باریکی سے سمجھنے کا عمل تو جاری رکھا جائے، لیکن، فوقیت اور ترجیح دی جائے تعلیمی و اقتصادی ترقی پر۔ ساحلی کیرل، حیدرآباد اور آسام کے خطوں میں جہاں مسلم سیاسی جماعتیں ہیں، وہاں ڈیموگرافکس کے علاوہ یہ بھی سچ ہے کہ ان علاقوں میں کئی تنظیمیں، تعلیمی و اقتصادی میدان میں بھی قابل تعریف اقدام کر رہی ہیں۔ عمومی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی ہند کے بیشتر بڑے شہروں اور خطوں میں مسلمانوں کی جدید تعلیم کے لئے کئی تنظیموں نے متعدد تعلیمی و تحقیقی ادارے بھی قائم کیے ہیں۔ مثلاً 1966 میں قائم شدہ، الامین ایجوکیشنل سوسائٹی بنگلور، مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی (کیرل قائم شدہ، 1964) اور 1955 میں قائم کیرل مسلم ایجوکیشنل ایسو سی ایشن اور 1902 میں قائم مسلم ایجوکیشنل ایسو سی ایشن آف ساؤدرن انڈیا (چینئی) وغیرہ۔ آندھرا پردیش، تلنگانہ میں بھی کئی ایسی تنظیمیں ہیں۔ سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی، ادارۂ ادبیات اردو، دی مسلم ایجوکیشنل سوشل آرگنائزیشن، مدینہ گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس وغیرہ۔

یہاں تک کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسے صوبوں (جہاں زعفرانی تسلط 1990 کی دہائی سے ہی قائم ہے) میں بھی مسلمانوں نے تمام مشکلات کے باوجود ایسے کچھ اقدام کیے ہیں۔ مثلاً مسلم ایجوکیشن سو سائٹی اور آل انڈیا مسلم بیک ورڈ کلاسز فیڈیریشن (مدھیہ پردیش)۔ ممکن ہے ایسی اور بھی تنظیمیں وہاں ہوں گی۔ راجستھان میں جودھپور ریاست کے راجہ امید سنگھ کی فراخ دلی سے 1929 میں قائم مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی نے بھی کئی (تقریباً 31) اسکول، کالج اور اسپتال قائم کیے ہیں۔

ایسے میں بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، جیسے صوبوں میں بھی ایسے اقدام اگر مسلمانوں کا اہل ثروت طبقہ اور دیگر خواص کرنے لگیں گے تو حالات میں خاطر خواہ تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے برعکس ان صوبوں میں سر دست ایسے کئی لوگ اپنی دولت کا بہت بڑا حصہ الیکشن کا ٹکٹ حاصل کرنے اور چناؤ کی مہم میں (شکست کھا کر) خرچ کر دیتے ہیں۔ انتخابی سیاست چونکہ بری طرح جرم زدہ بھی ہے اور شدید بدعنوانی کا بھی شکار ہے، لہذا سیاسی عروج حاصل کرنے کے متمنی بعض حضرات جرم کا راستہ بھی اختیار کر رہے ہیں اور اس کے لئے مذہب کا بے جا استعمال اور اس کے لئے وسیع تر سماجی یا فرقہ پرستانہ حمایت تیار کرنے کی چال بازیاں اور تکڑمیں بھی کی جاتی ہیں۔ حصول اختیارات کے طریقوں میں ایک طریقہ جرم کو بھی مانا جاتا ہے اور اس طرح پڑھنے، لکھنے اور تجارت و ملازمت کرنے والے نوجوانوں کو گمراہ کر کے جرم کی اندھیری دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

یعنی ایک وسیع تر اور مضبوط سماجی مہم اس جرائم پیشہ اختیار کرنے کی روش کے خلاف بھی شروع کرنی ہوگی۔ اگر ترجیحات کو از سر نو طے کرنے کی یہ فکر و بحث مسلمانوں کے درمیان ملک کے مختلف خطوں میں شروع ہو جاتی ہے، تو شاید یہ کتابچہ اپنی تمام کمیوں کے باوجود اپنے مقصد میں خود کو کامیاب سمجھے گا۔

next