لاک ڈاؤن میں عیدالفطر کی نماز... محمد مشتاق تجاروی

عیدگاہ نہ جائیں اور نہ علاقے کی مساجد میں جائیں۔ بلکہ عیدالفطر کی نماز کے لیے مثالی احتیاط کا ماحول قائم کر کے اس کا ثبوت دیں کہ آپ زندہ اور باشعور لوگ ہیں اور وقت کے تقاضوں سے بے خبر نہیں ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

محمد مشتاق تجاروی

اس وقت کرہ ارض کا پورا محیط مقفل ہے۔ اگرچہ اب کہیں ہلکی پھلکی چہل پہل شروع ہو رہی ہے، لیکن ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ 90 فیصد تک انسان کی ساری مصروفیات اس گھر تک محدود ہو گئیں تھیں اور یہ ناگزیر بھی تھا۔ اس لیے کہ کورونا وائرس کی یہ بیماری انسانوں کے کندھوں پر سفر کرتی ہے۔ بلکہ تمام وبائی امراض اسی طرح پھیلتے ہیں۔ ایک جلیل القدر صحابی حضرت عمرو بن عاص نے طاعون کے بارے میں کہا تھا کہ یہ آگ کی طرح ہے۔ یعنی وبائی امراض آگ کی طرح ہوتے ہیں۔ جب تک ان کو ایندھن ملتا رہے گا وہ پھیلتے رہیں گے اور جب ان کو چاروں طرف سے اس طرح محدود کر دیا جائے گا کہ وہ دوسرے انسانوں تک اس کی رسائی نہ ہو تو وہ وبا اپنی موت آپ مر جائے گی۔

کورونا وائرس کی اس وبا میں بھی اسی لیے لاک ڈاؤن کیا گیا کہ اس وائرس کی چین ٹوٹ جائے۔ اس لیے اسکول بند ہوئے، یونیورسٹیاں بند ہوئیں، جہاز بند ہوئے، بازار بند ہوئے، ٹرینیں رک گئیں اور سڑکیں ویران ہو گئیں۔ مسجدوں میں جماعت کی نماز محدود کر دی گئی، مذہبی اور غیر مذہبی ہر طرح کی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی۔

عیدالفطر مسلمانوں کے دو عظیم تیوہاروں میں سے ایک ہے۔ چوں کہ یہ رمضان المبارک کے بعد آتا ہے اس لیے اس کی خوشیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ لیکن اس وقت لاک ڈاؤن کے دور میں، بلکہ لاک ڈاؤن میں کہیں ڈھیل بھی ہو تب بھی عیدالفطر کو اس روایتی جوش کے ساتھ منانا کہیں کسی ناخوشگوار حادثہ کا پیش خیمہ نہ بن جائے، اس لیے اس کی ضرورت ہے کہ ہم اس خوشی کے موقع کو پوری خوشی کے ساتھ منائیں لیکن ہماری خوشیاں کسی غم کا موجب نہ بن جائیں اس لیے اپنے گھروں میں رہیں۔ عیدگاہ نہ جائیں اور نہ علاقے کی مساجد میں جائیں۔ بلکہ عیدالفطر کی نماز کے لیے مثالی احتیاط کا ماحول قائم کر کے اس کا ثبوت دیں کہ آپ زندہ اور باشعور لوگ ہیں اور وقت کے تقاضوں سے بے خبر نہیں ہیں۔

1. عیدالفطر کی نماز واجب ہے اور عیدالفطر کا خطبہ سنت ہے۔ عیدالفطر کے لیے جمعہ کی طرح یہ شرط ہے کہ امام کے علاوہ کم از کم تین مرد ہوں۔ تو جن گھروں میں چار مرد ہیں اور پہلے سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں، ان کو اجازت ہے کہ وہ اپنے گھر میں عید کی نماز ادا کر لیں۔ اس کا طریقہ وہی ہوگا جو عام طور پر عید کا ہوتا ہے۔ یعنی 6 زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کریں۔ اگر خطبہ یاد ہو، یا دیکھ کر پڑھ سکتے ہوں تو خطبہ پڑھ لیں۔ لیکن اگر خطبہ یاد نہ ہو تو پہلے خطبے میں اللہ کی حمد و ثنا، سورہ فاتحہ پڑھ لیں اور دوسرے میں درود شریف پڑھ لیں۔

2. اگر ایک گھر میں چار مرد نہ ہوں، تو انفرادی طور پر چاشت کی نماز پڑھیں۔ البتہ اس کے لیے پورا اہتمام کریں۔ نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنیں، گھر میں خوشبو ہو تو خوشبو لگائیں، اہتمام کے ساتھ دو دو رکعت کر کے چار رکعت نماز ادا کریں۔ یہ نماز عید کے قائم مقام ہوگی۔ اس میں 6 زائد تکبیریں کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چوں کہ یہ نفل ہے اس لیے ان کو انفرادی طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے اور جماعت بھی کی جا سکتی ہے۔ البتہ جماعت نفل نماز کی ہوگی، عید کے دوگانہ کی نہیں، چوں کہ اس کے لیے امام کے علاوہ کم از کم تین لوگوں کا ہونا ضروری ہے اور اس میں خطبہ بھی نہیں ہوگا۔

3. عید کے دن بھی ان تمام چیزوں کا اہتمام کریں جن کا اہتمام ہم روزانہ کر رہے ہیں جیسے کسی سے ملنے نہ جائیں، کوئی پڑوسی سامنے پڑ جائے تو فاصلے سے بات کریں، زبان سے مبارک باد دیں لیکن ہاتھ نہ ملائیں۔ سوئیاں، شیر وغیرہ اپنے گھر بنائیں اور خود ہی کھائیں، نہ کسی کے گھر جائیں اور نہ کسی کے گھر اپنے گھر سے کچھ بھیجیں۔ اور اگر کوئی بھیجے تو محبت سے اس کو بھی سمجھا دیں۔

4. عید سے قبل جمعۃ الوداع بھی باقی ہے۔ لیکن جمعۃ الوداع کی اصل اہمیت یہی ہے کہ وہ جمعہ ہے اور رمضان المبارک کا جمعی ہے۔ اس میں الگ سے کوئی اہتمام نہ کریں بلکہ جیسے دوسرے جمعے ادا کیے جا رہے ہیں، جمعۃ الوداع کو اسی طرح ادا کریں۔

اس وقت دنیا کی جو صورت حال ہے وہ تو استثنائی ہے۔ ماضی میں ایسے حالات شاید کبھی نہیں آئے۔ لیکن فقہاء نے اپنی کتابوں میں مختلف طرح کی امکانی صورتوں پر بھی بحث کی ہے۔ ان کی روشنی میں آج کے ان مشکل مسائل کے لیے رہنمائی مل جاتی ہے۔ اس لیے اس موقع پر ان علماء و فقہاء کے لیے خاص طور پر دعا کریں جنھوں نے ساری عمر دینی و شریعت کی تفہیم اور اس کی اشاعت میں صرف کر دی۔

دوسرا کام یہ کریں کہ عیدالفطر کا موقع بھی قبولیت دعا کا موقع ہے۔ اپنے لیے ساری امت کے لیے اور پوری دنیائے انسانیت کے لیے دعا کریں۔ اور اللہ سے دعا کریں کہ اللہ اس وبا سے ساری دنیا کو نجات عطا فرمائے۔

(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)