رمضان المبارک کا آخری عشرہ: جہنم سے آزادی کا پیام... محمد مشتاق تجاروی

ہم لوگ عادتاً ایسے ہیں کہ جو دولت میسر ہوتی ہے اس کی قدر نہیں کرتے۔ اس لیے ایک دوسرے کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے تاکہ کہنے والا اور سننے والا دونوں فکر کریں اور وقت رہتے اس نعمت عظمیٰ کی قدر کر لیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

محمد مشتاق تجاروی

رمضان المبارک کی 21 تاریخ آ گئی۔ یعنی دو عشرے گزر گئے اور یہ آخری عشرہ ہے۔ نیکیوں کی بہار کا موسم اب رخصت ہونے کو ہے، اگرچہ یہ ایسی بہار ہے جس کے ثمرات سال بھر میسر ہیں ان لوگوں کو جو اس ماہ مبارک کی قدر کر لیں۔ بلکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص کو رمضان المبارک کا مہینہ میسر آیا اور اس نے عبادت کے ذریعہ اس ماہ میں اپنی مغفرت کا سامان نہ کیا وہ بہت گھاٹے میں ہے۔ اس لیے جس نے اس ماہ مبارک کی قدر کر لی اس کے لیے صرف ایک سال کا نہیں ابدالاباد کا توشہ جمع ہو گیا۔

لیکن ہم لوگ عادتاً ایسے ہیں کہ جو دولت میسر ہوتی ہے اس کی قدر نہیں کرتے۔ اس لیے ایک دوسرے کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے تاکہ کہنے والا اور سننے والا دونوں فکر کریں اور وقت رہتے اس نعمت عظمیٰ کی قدر کر لیں۔

ایک روایت کی روشنی میں حسن تعلیل کے طور پر رمضان المبارک کے اس عشرے کو 'جہنم سے آزادی' کا عشرہ کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پورا رمضان المبارک ہی نہایت قیمتی اثاثہ ہے لیکن اس عشرہ آخیرہ کی فضیلت چند در چند ہے۔ اس عشرے میں اعتکاف کی سنت ادا کی جاتی ہے۔ اعتکاف سنت علی الکفایہ ہے یعنی اگر چند لوگ اعتکاف کر لیں تو پورے محلے کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے۔ اعتکاف نہایت اہم عبادت ہے۔ یہ انبیاء کا طریقہ ہے کہ انسان اپنی تمام دنیاوی ضرورت کو ترک کر کے محض رضائے الٰہی کے لیے مسجد میں گوشہ گیر ہو جائے۔

اعتکاف کے علاوہ اس عشرے میں ایک نہایت مہتم بالشان رات لیلۃالقدر کی ہے۔ اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک مستقل سورہ اس نام سے نازل ہوئی اور ایک سورہ میں اہتمام کے ساتھ اس کا ذکر کیا گیا۔ اس رات کی عظمت یہ ہے کہ اللہ احکم الحاکمین نے اس کو ایک ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا۔ اس رات کی عظمت یہ بھی ہے کہ اسی رات میں قرآن مجید نازل ہوا۔ ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس میں اللہ کے پاک فرشتے نازل ہوتے ہیں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی زمین پر تشریف لاتے ہیں۔ اس رات میں اللہ رب العزت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ایسی مبارک ساعت اس عشرے میں جلوہ فگن ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر مجھے یہ رات ملے تو کیا کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی کہ اس میں یہ دعا پڑھو "اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی" (ترجمہ: اے اللہ تو سراپا معافی ہے۔ تو معافی کو پسند کرتا ہے۔ تو مجھے معاف فرما دے)۔ یہ جامع دعا دنیا و آخرت کے ہر مسئلہ کا حل ہے۔

موسم بہار کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کا آخری حصہ ثمر بار ہوتا ہے۔ یعنی موسم بہار کے آخر میں اس موسم کے ثمرات پوری طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے لیے بھی یہ عشرہ اسی طرح کا موسم بہار ہے۔ اس کا اصل ثمرہ تو یہ ہے کہ انسان کو جہنم سے آزادی مل جائے۔ یہ منزل پورے رمضان میں آسان ہو جاتی ہے اور اس آخری عشرے میں تو اور زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس عشرہ کو عبادت اور توبہ و استغفار کے لیے خاص کر لینا چاہیے۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ لوگوں کی امداد و اعانت بھی کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمدردی اور غم خواری کا بھی مہینہ ہے، اور آج کے دور میں جب پورا ملک بلکہ پوری دنیا کورونا وائرس کی وجہ سے مقفل ہے، ایسے دور میں غم خواری اور اعانت کا جذبہ پہلے سے زیادہ ہونا چاہیے اور لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال خرچ نہیں ہوتا بلکہ جمع ہوتا ہے اور اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم اس طرح کا ہے کہ جو شخص اپنی ضرورت کو دبا کر دوسروں کی مدد کرتا ہے تو اللہ اس کا کوئی حصہ باقی نہیں رکھتے بلکہ سب لوٹا دیتے ہیں۔ یعنی اس دنیا میں بھی اس کو اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے اور اجر و ثواب بھی ملے گا۔ اور مال خرچ کرنے کا اصل فائدہ انسان کے لوبھ لالچ اور دل کی بیماریوں کا علاج ہے وہ بھی اس کو حاصل ہوگا۔ اس لیے تنگی خرچ زیادہ ثواب کا کام ہے۔

بہر حال یہ آخری عشرہ ہے اور ہر طرح کی خیر و برکت اور رحمت و مغفرت کا سامان اس میں موجود ہے۔ اس میں پانچ شب ایسی ہیں جن میں ایک یقیناً لیلۃ القدر ہے۔ تو یہ پانچوں راتیں عبادت میں گزاریں، نمازیں اہتمام کے ساتھ ادا ہوں، صدقہ الفطر اگرچہ عید کے دن تک دے سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ پہلے دے دیں تاکہ ضرورت مند اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ اور سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ کثرت سے استغفار کریں۔ اس کی برکت سے وہ مغفرت بھی فرما دے گا اور زندگی کی مشکلات میں آسانی بھی میسر آئے گی۔

ملک کے لیے اور پوری دنیا کے لیے خاص طور پر دعا کریں اللہ اپنے فضل سے اس وبا کا خاتمہ فرمائے اور ساری دنیا میں امن و امان کا ماحول پیدا فرمائے۔

(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)