رمضان المبارک: دنیائے انسانیت کے لیے سایۂ رحمت... محمد مشتاق تجاروی

رمضان المبارک کا مہینہ بڑی فضیلتوں اور برکتوں کا ہے۔ سب سے بڑی فضیلت تو یہ ہے کہ اس ماہ میں وہ عظیم ترین انعام ربانی انسانوں کو حاصل ہوا جس کو خود رب کائنات نے اپنا احسان عظیم بتایا ہے۔ یعنی قرآن کریم

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

محمد مشتاق تجاروی

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ سایہ فگن ہے۔ رمضان المبارک کی برکات سے ساری دنیا فیضیاب ہو رہی ہے۔ مشرق سے مغرب تک قیام اللیل اور صیام النہار کا معمول ہے۔ اگرچہ امسال کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مساجد میں وہ رونق نہیں ہے جو ہمیشہ رہتی ہے، لیکن اس بار گھروں کے بام و در ذکر الٰہی سے سرشام ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں تراویح اور نوافل کا اہتمام کر رہے ہیں اور ذکر و تلاوت سے اپنے گھروں کو اسی طرح معمور کر رہے ہیں جیسے ہر سال حرمین شریفین اور دوسری مساجد کو معمور کیا جاتا تھا۔

رمضان المبارک کا مہینہ بڑی فضیلتوں اور برکتوں کا ہے۔ قرآن مجید میں بھی رمضان المبارک کی بڑی فضیلت آئی ہے اور سب سے بڑی فضیلت تو یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں وہ عظیم ترین انعام ربانی انسانوں کو حاصل ہوا جس کو خود رب کائنات نے اپنا احسان عظیم بتایا ہے۔ یعنی قرآن کریم نازل ہوا۔ اس ماہ مبارک میں ایک رات رکھی گئی جو ہزار راتوں سے نہیں، ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اسی ماہ مبارک میں اللہ کے فیصلے اس دنیا کے لیے نازل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ غلطی سے شعبان کی رات کی طرف وہ فضیلت منسوب کر دیتے ہیں، لیکن قرآن مجید میں بالکل واضح ہے کہ وہ مبارک رات لیلۃ القدر ہے جو رمضان المبارک میں ہے۔ اس رات میں اللہ کے فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی نازل ہوتے ہیں، اللہ کے فیصلے لے کر آتے ہیں۔ اور یہ رات سراپا سلامتی ہوتی ہے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔ اس رات کی رحمت و برکت، خیر و فضیلت کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔

احادیث میں بھی رمضان المبارک کی فضیلت کا خصوصی بیان ہے۔ صحیح احادیث میں، بخاری مسلم میں اور دوسری کتابوں میں رمضان المبارک کے فضائل اور اس ماہ مبارک میں انسانوں کو حاصل ہونے والے انعامات کا تذکرہ ہے، لیکن اس وقت ایک خاص روایت کی طرف توجہ دلانی مقصود ہے۔ حدیث کی بعض کتابوں میں یہ روایت آئی ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا حصہ رحمت ہے، دوسرا حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔ یہ روایت ماہ رمضان المبارک کی فضیلت میں بہت زیادہ نقل کی جاتی ہے۔ واعظین حضرات اپنے مواعظ میں اس کو بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اس روایت کے سلسلے میں محدثین نے کلام کیا ہے۔ سند حدیث کے ماہرین اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جس کا استناد درست نہ ہو، بہت بڑی جسارت کی باتا ہے۔ پھر بھی اس روایت کا استنادی درجہ اور اس کے الفاظ کا معاملہ محدثین کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ لیکن رمضان المبارک کی فضیلت دوسری احادیث میں اتنی کثرت سے آئی ہے کہ کسی ایک حدیث پر بلاوجہ اصرار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ ماہ مبارک رحمت کا مہینہ ہے، بلاشبہ یہ ماہ مبارک مغفرت کا مہینہ ہے، اور بلاشبہ یہ جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔

اس ماہ مبارک میں رب العالمین کی رحمت سارے عالم کو ڈھانپ لیتی ہے۔ بخاری شریف میں صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔"

اس ماہ مبارک کی ہر رات میں اس کی خصوصی رحمت نازل ہوتی ہے۔ ہر رات بہت سے جہنمی اپنے عذاب سے چھٹکارا پا کر اپنے رب کی رحمت میں جنت نشین بنائے جاتے ہیں۔ اس مہینہ میں عبادت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ سرکش شیطان قید ہوتے ہیں اور نیک فرشتے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اے خیر کے طالب آگے آ اور شر کے طالب تو رک جا۔ یعنی خیر کے کاموں میں فرشتوں کی خصوصی امداد ہوتی ہے اور شر کے کاموں سے خاص طور پر باز رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ سراپا رحمت ہے، سراپا مغفرت ہے اور سراپا جہنم کے عذاب سے نجات کا پروانہ ہے۔ اگر تین عشروں کو اس کی رحمت کے تین مظاہر میں تقسیم کرنے کی روایت درست ہے، تو وہ حسن تعلیل ہے۔ اس رب العالمین کی رحمت و مغفرت کے انداز کی کہ جس طرح بارش سے پہلے زمین جھلسی رہتی ہے، سبزہ نام کو نہیں ہوتا، درخت خشک اور خزاں رسیدہ ہو جاتے ہیں۔ جب باراں رحمت نازل ہوتی ہے تو گویا مردہ زمین کو حیات مل گئی، وہ لہلہا اٹھتی ہے، درخت سرسبز ہو جاتے ہیں، ساخوں سے پتے پھوٹ نکلتے ہیں، زمین ایک سبز مخملی فرش سے ڈھک جاتی ہے۔ اسی طرح گویا رمضان المبارک کی آمد اور اس کا پہلا عشرہ اللہ رب العامین کے فیضان اور اجرت کی بارش کا آغاز ہے۔ اس لیے پہلے عشرے کو رحمت کہا جاتا ہے۔

(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)

next