ہریانہ: ٹیکسی-آٹو چلانے کی اجازت، بغیر ناظرین کے ہو سکتے ہیں کھیل

لاک ڈاؤن 4.0 میں ہریانہ حکومت نے تمام رعایتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹیکسی، کیب اور آٹو سے لے کر رکشہ چلانے تک کی اجازت دی گئی ہے۔ دفتروں کو پورے ورک فورس کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریندر اوستھی

ہریانہ میں ٹیکسی، کیب اور آٹو چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے، لیکن سواریوں کی بندشیں ان پر نافذ رہیں گی۔ ساتھ ہی سرکاری دفتر اپنے پورے ورک فورس کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ کورونا سے بچنے کے لیے بنائے ضابطوں پر سختی سے عمل یقینی بنائے جانے کے بعد محکموں کو اپنے سبھی ملازمین کام پر بلانے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ وہیں ہریانہ اور چنڈی گڑھ واقع سبھی سرکاری دفاتر میں گروپ اے اور بی کے افسران کی صد فیصد موجودگی اور گروپ سی اور ڈی کے ملازمین کی 50 فیصد موجودگی یقینی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں کھیل اسٹیڈیم اور اسپورٹس کمپلیکس کو بھی کھول دیا گیا ہے، لیکن یہاں ناظرین کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ ٹیکسی اور کیب ایگریگیٹر کو اپنے مسافر گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ دو مسافروں کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی یعنی ڈرائیور سمیت اس گاڑی میں کل تین لوگ بیٹھ سکیں گے۔ اسی طرح میکسی کیب میں اس کی بیٹھنے کی صلاحیت سے نصف تعداد، آٹو رکشہ و ای-رکشہ میں ڈرائیور کے علاوہ 2 شخص بٹھانے کی اجازت ہوگی۔ دوپہیہ گاڑی میں ڈرائیور کے پیچھے ایک شخص ہی بیٹھ سکتا ہے جب کہ دونوں کو ہیلمٹ، ماسک اور دستانہ پہننا لازمی ہوگا۔ کسی شخص کے ذریعہ کھینچے جانے والے رکشہ میں دو سے زیادہ آدمی نہیں بٹھائے جائیں گے۔


کنٹنمنٹ زون میں آمد و رفت پر سختی سے پابندی رہے گی اور صرف ایمرجنسی و ضروری سامان/خدمات کے لیے ہی گاڑی چلانے کی اجازت ہوگی۔ لاک ڈاؤن کی مدت یعنی 31 مئی 2020 تک دفاتر میں پبلک ڈیلنگ نہیں ہوگی۔ ہریانہ سرکار نے ریاست میں اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم بھی کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس دوران سوشل ڈسٹنسنگ بنائے رکھنے اور سینیٹائزر کی دستیابی یقینی بنانے کے علاوہ سبھی ملازمین، اسپورٹس ٹرینر اور ٹریننگ حاصل کرنے والوں کو منھ پر ماسک پہننے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حالانکہ ناظرین کو ان مقامات پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سبھی کھیل اہلکاروں اور کھلاڑیوں کے لیے آروگیہ سیتو کا استعمال کرنا لازمی کیا گیا ہے۔

وزیر کھیل سندیپ سنگھ نے بتایا کہ ٹریننگ سرگرمیوں کو چھوٹے گروپوں (زیادہ سے زیادہ 8-10 کھلاڑی) میں کیا جا سکتا ہے۔ ٹیم مقابلوں کے معاملے میں کسی میدان میں ایک گھنٹے کے لیے 18 کھلاڑی اور دو کوچ موجود رہیں گے اور ان کے جانے کے بعد ہی دوسرے گروپ کو اندر لایا جا سکتا ہے۔ نجی مقابلوں کے معاملے میں کوچ ایک بار میں 10 کھلاڑیوں کو کوچنگ دے سکتا ہے اور دوسرے گروپ کو پہلے گروپ کے جانے کے بعد ہی اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت ہوگی۔ ابھی سوئمنگ پول کو کسی بھی حالت میں نہیں کھولا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔