تنازعہ کے بعد بیک فٹ پر واٹس ایپ! ’پرائیویسی اپ ڈیٹ‘ کا منصوبہ ملتوی

واٹس ایپ نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا، ’’ہمارے تازہ ترین اپ ڈیٹ کے حوالہ سے کافی گمراہ کن صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اپ ڈیٹ فیس بک کے ساتھ ڈیٹا کے اشتراک کی ہماری صلاحیت کی توسیع نہیں کرتا۔‘‘

واٹس ایپ / آئی اے این ایس
واٹس ایپ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سین فرانسسکو: فیس بک کی ملکیت سوشل میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔ واٹس ایپ نے پرائیویسی پالیسی کے حوالہ سے ہونے والے زبردست تنازعہ کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ واٹس ایپ کے صارفین کو 8 فروری سے پہلے پہلے نئی پرائیویسی پالیسی کو لازمی طور پر قبول کرنا تھا، تاہم اب کمپنی کا کہنا ہے کہ اس حوالہ سے گردش کرنے والی ’گمراہ کن‘ خبروں پر وضاحت پیش کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔

واٹس ایپ نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا، ’’ہمارے تازہ ترین اپ ڈیٹ کے حوالہ سے کافی گمراہ کن صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اپ ڈیٹ فیس بک کے ساتھ ڈیٹا کے اشتراک کی ہماری صلاحیت کی توسیع نہیں کرتا۔‘‘ واٹس ایپ کی جانب سے پہلے بھی یہ صفائی پیش کی گئی تھی کہ ’’ہم آپ کے نجی پیغامات نہیں دیکھ سکتے، نہ ہی آپ کی کال کو سن سکتے ہیں اور نہ ہی فیس بک کی طرف سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘

واٹس ایپ نے کہا، ’’ہم آپ کے میسیج یا کال کی تفصیل نہیں دیکھ سکتے۔ ہم آپ کی جانب سے شیئر کی گئی لوکیشن کو بھی نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی فیس بک ایسا کر سکتا ہے۔ ہمارے ڈیٹا کو فیس بک نے دیگر مصنوعات اور خدمات کے لئے جوڑا ہے تاکہ مستقبل میں آپ کو بہتر خدمات حاصل ہو سکیں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ سے آپ کے دوستوں یا اہل خانہ کو بھیجے گئے آپ کے پیغام کی پرائیویسی یا رازداری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس تنازعہ کے بعد حکومت ہند بھی کمپنی کی رازداری پالیسی میں تبدیلی کا جائزہ لے رہی تھی۔

غور طلب ہے کہ واٹس ایپ پر تنازعہ کے بعد کافی صارفین نے ایپ کو اپنے فون سے ہٹانا شروع کر دیا تھا۔ اس تنازعہ کا فائدہ سوشل میسجنگ ایپ ٹیلیگرام اور سگنل کو حاصل ہوا۔ سگنل کو ایک این جی او کی طرف سے چلایا جاتا ہے۔ اس کے شریک بانی برائن ایکٹن ہیں جو واٹس ایپ کے بھی بانی رہ چکے ہیں۔

برائن ایکٹن نے کہا، ’’ہم اپنی سروس کی قوت میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق صلاحیت موجود ہو۔ ابھی جس طرح سے ہمارے ایپ پر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ہم نے اسے منظم کر لیا ہے۔ ہم حوصلہ افزا ہیں کیونکہ کافی ہندوستانیوں نے گزشتہ کچھ وقت میں سگنل ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیا ہے۔ ہم اپنے پلیٹ فارم کے حوالہ سے انڈین یوزرس کی آراء کے منتظر ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next