یو اے ای مریخ پر پہنچنے والا پہلا عرب ملک، مشن ’امیدِ تحقیق‘ سرخ سیارے کے مدار میں داخل

عمران شرف نے کہا کہ’’ہم اللہ کی حمد وثنا کے ساتھ یو اے ای کے عوام، عرب ممالک اور مسلم اقوام کے لیے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہمارا اُمید مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔‘‘

یواے ای کا مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل / IANS
یواے ای کا مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل / IANS
user

قومی آوازبیورو

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کا مریخ کو مسخر کرنے کے لیے بھیجا گیا مشن اُمیدِ تحقیق منگل کے روز کامیابی سے اس سیارے کے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔ یو اے ای سرخ سیارے پر پہنچنے والا پہلا عرب ملک ہے۔

یواے ای کا مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل / IANS
یواے ای کا مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل / IANS

دبئی میں واقع یو اے ای کے خلائی مرکز میں اس مشن کے کنٹرولروں نے اعلان کیا ہے کہ امل (امید) نامی بغیرانسان خلائی گاڑی تقریباً سات ماہ کے سفر کے بعد کامیابی سے مریخ کے مدار میں پہنچ گئی ہے۔ اس نے 48 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ یہ اب سیارہ مریخ کے گرد چکر لگا رہا ہے اور اس کے ماحول سے متعلق تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کرے گا۔

اس مشن کے پروجیکٹ مینجر عمران شرف نے کہا کہ’’ہم اللہ کی حمد وثنا کے ساتھ یو اے ای کے عوام، عرب ممالک اور مسلم اقوام کے لیے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہمارا اُمید مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔‘‘ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’مشن مکمل ہوچکا‘‘۔

انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ مریخ کے مدار میں داخل ہونے کی کوشش کا 50 فی صد ناکامی کا بھی امکان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس کائنات میں یہ سب سے دوردراز مقام ہے جہاں عرب اپنی پوری تاریخ میں پہلی مرتبہ پہنچا ہے۔ اس مشن کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لیے 200 سے زیادہ اماراتی مرد وخواتین انجنیئروں نے 50 لاکھ گھنٹے سے زیادہ کام کیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے مریخ کو مسخر کرنے کے لیے بھیجے گئے مشنوں میں سے 60 فی صد ناکام رہے تھے اور وہ مریخ کے پیچیدہ کڑے ماحول میں داخل نہیں ہوسکے تھے۔ وہ ٹوٹ کر بکھر گئے یا وہاں جل کرراکھ ہوگئے۔ اسی وجہ سے مریخ کو بہت سے خلائی مشنوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔

یو اے ای نے جولائی 2020ء میں اپنا پہلا خلائی مشن مریخ کے لیے روانہ کیا تھا اور وہ یہ مشن بھیجنے والا خطے کا پہلا ملک تھا۔ ’’اُمید تحقیق‘‘ کے نام سے اس مشن نے جاپان کے ٹینے گاشیما خلائی مرکز سے اڑان بھری تھی۔

اب یو اے ای ان پانچ ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جن کے خلائی مشن مریخ پر پہنچنے میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے ہیں۔ اُمید تحقیق خلائی مشن کی کامیابی پر یواے ای میں جشن کا سماں ہے اور دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کے برقی قمقموں کو اس خلائی مشن کے رنگوں سے روشن کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔