مسلسل 20 ماہ پرواز کی صلاحیت والے ڈرون طیارے کا کامیاب تجربہ

رطانوی کمپنی نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایک ڈرون تیار کیا ہے جو 70000 فٹ کی بلندی پر اڑ سکتا ہے اور 20 ماہ تک یعنی ڈیڑھ سال سے زاید عرصے تک رکے بغیر مسلسل اڑان جاری رکھنے کی صلاحیت رکھے گا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

لندن: برطانیہ کی ڈرون طیارے بنانے والی ایک کمپنی کے ماہرین نے غیرمعمولی خصوصیات کا حامل ایک ایسا ڈرون طیارہ تیار کرنے پر کام شروع کیا ہے جو مسلسل 20 ماہ تک بغیر کسی تعطل کے پرواز جاری رکھ سکتا ہے۔ ماہرین نے اس طیارے کا ابتدائی تجربہ کیا ہے جو کامیاب رہا ہے۔ اس نوعیت کے ڈرون کی تیاری سے سول اور فوجی مقاصد کے لیے ڈرون کے استعمال اور اس کی طلب میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

اخبار ڈیلی میل کے ذریعہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی کمپنی نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایک ڈرون تیار کیا ہے جو 70000 فٹ کی بلندی پر اڑ سکتا ہے اور 20 ماہ تک یعنی ڈیڑھ سال سے زاید عرصے تک رکے بغیر مسلسل اڑان جاری رکھنے کی صلاحیت رکھے گا۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس "ڈرون" کے بازو 115 فٹ لمبے ہیں اور یہ ایک سال سے زیادہ ہوا میں رہ سکتا ہے۔ یہ ڈرون زمین کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیاروں کا متبادل ہوگا۔ ڈویلپرز نے اس طیارے کو (PHASA-35) کا نام دیا ہے یہ طیارہ برطانیہ کی فوجی سازو سامان تیار کرنے والی کمپنی ’بی اے ای‘ تیار کر رہی ہے۔

ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ زمین سے 70000 فٹ کی بلندی پر اور 20 ماہ تک اڑ سکتا ہے۔ برطانوی اخبار نے کہا کہ طیارہ شمسی توانائی کو ہوا میں رہنے کے لیے استعمال کرے گا۔ دن کے وقت چھوٹی چھوٹی بیٹریاں چارج کرے گا تاکہ وہ رات بھر پرواز جاری رکھ اور طویل عرصے تک چلنے کے قابل ہوسکے۔


قدرتی آفات یا ہنگامی صورتحال کے دوران فورسز کو ایک دوسرے سے بات کرنے یا دیہی مقامات پر انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ اس طیارے کے کئی دوسرے مقاصد ہوسکتے ہیں۔ اس کا وزن 150 کلو گرام ہے جو 15 کلو گرام پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔