سونیا گاندھی نے کورونا ٹیکہ کاری کی رفتار پر تشویش ظاہر کی، تیسری لہر کی تیاری اور بچوں کی حفاظت پر زور

کانگریس صدر سونیا گابدھی نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہماری پارٹی سبھی کی مکمل ٹیکہ کاری کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ قومی سطح پر چل رہی، یومیہ ٹیکہ کاری کو تین گنا کرنا ہوگا۔

سونیا گاندھی، صدر کانگریس / Getty Images
سونیا گاندھی، صدر کانگریس / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ملک میں کورونا ٹیکہ کاری کی رفتار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وبا کی تیسری لہر کے پیش نظر برق رفتاری سے تیاری کرنے اور بالخصوص بچوں کی حفاظت کے لئے اقدام لئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے پارٹی کے جنرل سکریٹریوں اور ریاستی انچارجوں کی ڈیجیٹل میٹنگ کے دوران یہ بیان دیا۔

سونیا گاندھی نے پارٹی کے عہدیداران کی توجہ اے آئی سی سی جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال کی جانب سے تمام شرکا کو بھیجے گئے سرکلر کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ان میں سے تین سرکلر کورونا بحران سے متعلق ہیں، جبکہ 7 جون کو بھیجے گئے سرکلر کا تعلق پٹرول اور ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں سے ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ے کہ ان پارٹی کے پروگراموں پر تمام عہدیداران بخوبی عمل کر رہے ہوں گے۔


کانگریس صدر نے کورونا بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہماری پارٹی سبھی کی مکمل ٹیکہ کاری کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ قومی سطح پر چل رہی، یومیہ ٹیکہ کاری کو تین گنا کرنا ہوگا تبھی سال کے آخر تک 75 فیصد آبادی کی ٹیکہ کاری ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ مکمل ٹیکہ کاری ویکسین کی خاطر خواہ فراہمی پر بھی منحصر ہے، ہمیں مرکزی حکومت پر دباؤ بنائے رکھنا ہے، جس نے کانگریس کے مشورے پر آخرکار اس کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ جہاں بھی ٹیکہ لگوانے کے تئیں کسی طرح کی جھجک پائی جا رہی ہے اس کا ازالہ کیا جائے اور ویکسین کی بربادی کو کم سے کم سطح پر لایا جائے۔

سونیا گاندھی نے اس کے بعد کورونا کی تیسری لہر کے خطرے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین تیسری لہر کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ لہر بچوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس تعلق سے موثر اقدام اٹھائے جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بچوں کو اس آفت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کورونا کی دوسری لہر کی قہر سامانیوں سے ہم نے جو سبق سیکھا ہے اس کا استعمال کرتے ہوئے تیاری کرنی چاہیے تاکہ عوام کو دوبارہ اسی کرب سے نہ گزرنا پڑے۔


اس موقع پر سونیا گاندھی نے کورونا کے تعلق سے حکومت کی بدانتظامیوں پر جاری کانگریس کے وائٹ پیپر کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے جاری کردہ وائٹ پیپر کی تشہیر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام صورت حال سے آگاہ ہو سکیں۔

پارٹی عہدیداران سے میٹنگ کے دوران کانگریس صدر نے ایندھن کی بے تحاشہ قیمتوں سے عام لوگوں پر پڑ رہے بوجھ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور لاکھوں خاندانوں کو اس سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کے لئے تحریک چلائی جا رہی ہے۔ ایندھن کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریہ مثلاً دالوں اور خوردنی تیلوں کی قیمتیں بھی آسمان پر جا پہنچی ہیں، جس سے عظیم بحران پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گراں بازاری ایسے وقت میں وقوعہ پذیر ہو رہی ہے جب بڑی تعداد میں لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔


سونیا گاندھی نے آخر میں کہا کہ ’’گزشتہ بحران کے مہینوں کے دوران کانگریس کارکنان نے لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے کافی محنت کی اور اس پر پارٹی کو عوامی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ بحران کے اس دور میں کانگریس کے مرد اور خاتون کارکنان نے خود کو مدد کے لئے وقف کر دیا، یہی کانگریس پارٹی کی سماجی خدمات کی بہتر روایت ہے۔ میں اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہیئں۔ کنٹرول روم میں کام کرتے رہیں گے۔ ہیلپ لائن بھی جاری رہیں گی۔ ایمبولنس اور ضروری ادویات جیسی ہنگامی خدمات کی فراہمی برقرار رہنی چاہیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔