ندائے حق: چین کا خلائی پروگرام- ایک نیا عالمی خطرہ... اسد مرزا

یوں تو ہندوستان سمیت بیشتر ملکوں کا اپنا خلائی پروگرام موجود ہے، لیکن چینی خلائی پروگرام اس کے خفیہ خدوخال کی وجہ سے دنیا کو ایک نیا خطرہ پیش کرسکتا ہے۔

چینی خلامی مشن سے متعلق نمائش / Getty Images
چینی خلامی مشن سے متعلق نمائش / Getty Images
user

اسد مرزا

جولائی 2021 کے دوران دو بڑے سرمایہ کاروں کی خلائی پرواز نے خلا میں سفر کرنے کو عام انسانوں کے لیے حقیقت میں بدل دیا۔ ان دونوں سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد ہی تجارتی طور پر خلا میں پروازیں شروع کر دیں گے۔ یہ تو خلائی سفر اور تحقیق کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا دوسرا تشویش ناک پہلو چینی حکومت کا دفاعی اور صنعتی خلائی پروگرام ہے۔

یوں تو روس اور امریکہ سمیت دنیا کے ہر بڑے ملک کا اپنا خلائی پروگرام موجود ہے لیکن 1991 میں روس اور امریکہ کے درمیان START معاہدے کے بعد ان خلائی پروگراموں کے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال اور خلائی جنگ شروع کرنے پر عالمی پابندی عائد ہوگئی تھی۔ تاہم اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چین کا خلائی پروگرام اپنے ملک کی دفاعی طاقت کو بڑھانے کے علاوہ اس کا منفی استعمال کرنے کے فراق میں بھی ہے۔


اگر ہم یہ کہیں کہ چین کا خلائی پروگرام صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ امریکی دفاعی تجزیہ نگاروں کے بقول مستقبل قریب میں چینی خلائی پروگرام امریکی دفاعی تقاضوں کو سب سے بڑا خطرہ پیش کرسکتا ہے۔

چینی عزائم

مارچ 2013 میں چینی صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ذی جین پنگ نے چین کے خلائی عزائم کو ان الفاظ کے ساتھ بہت واضح کر دیا تھا کہ چین اپنے خلائی مشن کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس خواب کو عملی جامہ پہنا کر اسے شرمندہ تعبیر کیا جاسکے، کیونکہ ایک خلائی طاقت بننے کے بعد چین اور زیادہ طاقتور ملک بن جائے گا۔


چین کا منصوبہ ہے کہ سن 2045 تک وہ دنیا کی خلائی طاقتوں کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو جائے۔ China Daily اخبار نے سن 2017 میں اپنے ایک اداریہ میں تحریر کیا تھا کہ چینی قائدین یہ امید کرتے ہیں کہ بہت جلد چین خلائی سازوسامان اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے صفحہ اول کے ملکوں میں شامل ہوجائے گا اور ساتھ ہی وہ اپنے خلائی مشن کو اتنا فروغ دے سکے گا کہ وہ انسان اور کمپیوٹر کے اشتراک سے خلائی ریسرچ اور غیر معروف خلائی تحقیق میں سب ملکوں سے آگے نکل سکتا ہے۔

امریکہ-چین معاشی اور سیکوریٹی کمیشن نے اپنی 2019 کی سالانہ رپورٹ میں امریکی کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ چین ایسے اقدامات کر رہا ہے جس کے ذریعہ وہ خلائی راکٹ اور سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے میں مغربی ممالک سے آگے نکلا جاسکتا ہے اور ایسا اس لیے ممکن ہے کہ اس پروگرام کے لیے چینی حکومت خاطر خواہ سرمایہ لگا رہی ہے اور پیسہ خرچ کر رہی ہے جس کا مقابلہ مغربی نجی ادارے کسی بھی حال میں نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کو حکومت کی امداد بہت کم مہیا کرائی جاتی ہے۔


امریکی وزیر دفاع لایڈ اسٹن نے سال کے شروع میں اپنے منصب کا حلف لینے سے پہلے کہا تھا کہ چین اور روس کے خلائی مشن، امریکی دفاعی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ یہ دونوں ہی ملک یہ مانتے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والی کوئی بھی جنگ جیتنے کے لیے خلائی برتری ہونا لازمی ہے اور ان کے خلائی مشن کا اصل محور اس کا دفاعی استعمال ہے۔

چین کے اصل عزائم کا اندازہ اس جانکاری سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چین کے خلائی مشن کا ایک اہم حصہ Beidou Navigation Satellite یعنی BDSیا بی ڈی ایس کو طاقتور بنانا ہے جس کے بعد وہ عالمی سمت شناسی، ڈاٹا مواصلات اور راستوں کےNavigation System کے استعمال میں خود کفیل ہوجائے گا اور اسے مغربی GPSکے استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور اس طرح اس کی فوج، طیاروں کی پرواز یں اور خلائی راکٹوں کی پرواز یں یعنی کہ سب ہی کچھ مغربی دنیا سے پوشیدہ رہیں گے۔ امریکہ کی جیمس ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق یوں تو چین ظاہری طور پر یہ کہتا ہے کہ بی ڈی ایس کا استعمال سول شعبے یا عام شہری کے لیے کیا جائے گا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد چینی فوج کی زیر نگرانی ہو رہا ہے اور خفیہ طریقے سے ہو رہا ہے۔


دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ڈی ایس کو ہم ’خلائی سلک روڈ‘ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ چین کے زمینی سلک روڈ یا بحریہ سلکی روڈ جو کہ زمینی اور سمندری راستوں پر چینی اجارہ داری قائم کرنے کے منصوبے ہیں، ان کے استعمال سے چین نے کافی بڑی تعداد میں عالمی تجارت پر اپنا قبضہ جما لیا ہے، اسی طرح مستقبل میں خلا میں بھی بی ڈی ایس کے ذریعہ اپنی سبقت اور اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

دراصل چین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ غریب ممالک کو اپنے خلائی سلک روڈ کی افادیت بتاتے ہوئے ان کے ساتھ معاہدے کرے گا، جس کا نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ اکثر ممالک چین کے زیر سایہ آجائیں گے کیونکہ چین ان کی معاشی ترقی کے لیے انھیں قرض دے کر اس پروگرام میں شامل ہونے کی ترغیب دے گا اور جب ان ملکوں کا چینی ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھ جائے گا تب چین ان کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کرسکتا ہے یا ان کی پالیسی اور ترجیحات تبدیل کرانے کے لیے ان پر اثر انداز ہوسکتا ہے یا پوری طرح انھیں اپنے قبضے میں لے سکتا ہے جیسا کہ زمینی اور بحری سلک روڈ منصوبوں کے ذریعہ سری لنکا اور کئی دیگر جنوب امریکی ممالک میں دیکھنے میں آیا ہے۔


چین کی اس تشویشناک پہل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی اور کاروبار پر اس کا پورا قبضہ ہوجائے۔ اس کے لیے وہ دوسرے ممالک کے سیارچے کم قیمت پر خلا میں روانہ کر رہا ہے اور اس طرح امریکی اور یوروپی ممالک کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کا مشن چاند

چینی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار چائنہ ڈیلی نے سن 2019 کے اپنے ایک اداریہ میں تحریر کیا تھا کہ چین کے خلائی پروگرام کا ہدف چاند پر ایک پائیدار اور مضبوط بیس اسٹیشن بنانا ہے تاکہ چینی سائنس داں وہاں مستقل طور پر رہ کر چاند سے آگے کے خلائی مشن بھیج سکیں۔ اس کے علاوہ مریخ تک انسانی خلائی پرواز کرانا بھی اس پروگرام کے اہداف میں شامل ہے۔


مزید براں اس پروگرام کا دوسرا تشویش ناک پہلو ہے چین اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ضمن میں بڑھتا ہوا اشتراک۔ گزشتہ مارچ میں دونوں ملکوں نے خلائی اشتراک کے ضمن میں ایک معاہدہ قرار دیا تھا جس کے مطابق دونوں ملک چاند پر تحقیق کے علاوہ اس کا صنعتی یا کاروبای فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

چین اور امریکی افواج

اگر چین اور امریکہ کی دفاعی طاقت کا موازنہ کیا جائے تو ظاہر ہوجائے گا کہ ایک عام اندازے کے برخلاف چین کی دفاعی طاقت امریکہ سے کہیں زیادہ ہے۔ سن 2020 کی پینٹاگن کی ایک رپورٹ اور Armedforces.euنامی دفاعی ویب سائٹ کے مطابق چین کے پاس 350 بحری جنگی جہاز ہیں اور 130 سے زائد جنگی آبدوز ہیں، جبکہ امریکہ کے پاس صرف 293 بحری جنگی جہاز اور 71 جنگی آبدوز ہیں۔ چین کے پاس 1250 سے زائد زمین سے مارکرنے والے بلاسٹک میزائل ہیں جس میں زمین سے مار کرنے والے کروز میزائل بھی شامل ہیں اور ان میزائلوں کی مار 500 سے 5500 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے یعنی کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے پر ان کے ذریعے حملہ کرسکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کے بلاسٹک میزائل صرف 70 سے 300 کلومیٹر تک ہی مار کرسکتے ہیں۔ اگر فضائیہ کی بات کریں تو امریکہ کے پاس 12508 طیارے موجود ہیں تاہم چین کے پاس یہ تعداد گو کہ کم ہے لیکن اس کے نجی طیاروں کی تعداد امریکہ کے مقابلے سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں زمین سے ہوا میں مار کرنے والے راکٹوں کا سب سے بڑا ذخیرہ چین کے پاس موجود ہے۔


مجموعی طور پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جس طرح چین پوشیدہ طریقے سے ہر کام کرتا ہے اسی طرح اس کا خلائی پروگرام بھی مکمل طور پر پوشیدہ اور واضح اہداف منظرِ عام پر لائے بغیر جاری ہے۔ یہاں یہ باور کرانا بھی غلط نہیں ہوگا کہ سائنس دانوں کے بقول آج سے دس یا بیس سال کے بعد لڑی جانے والی جنگیں اپنے فوجی دوسروں ملکوں میں بھیجے بغیر خلائی اور فضائیہ ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے لڑی جائیں گی، جس میں چین سبقت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کرتا چلا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے امریکہ کے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کے فیصلہ سے دفاعی ماہرین حیران ہیں کیونکہ ان کے بقول اگر امریکہ کا دفاعی بجٹ کم ہوتا ہے تو چینی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مشکلیں پیش آسکتی ہیں جو کہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔