ندائے حق: شاہ عبداللہ پر پھر امریکی نظر عنایت... اسد مرزا

تقریباً چار سال کے عرصے بعد جارڈن کے شاہ عبداللہ ایک مرتبہ پھر امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں اور اس کا علاقائی اور عالمی عرب سیاست پر گہرا اثر مرتب ہوسکتا ہے۔

شاہ عبداللہ ثانی اور جو بائیڈن کی فائل تصویر / Getty Images
شاہ عبداللہ ثانی اور جو بائیڈن کی فائل تصویر / Getty Images
user

اسد مرزا

جارڈن ہمیشہ سعودی مداخلت کی مداخلت کرتا آیا ہے ساتھ ہی وہ بیت المقدس کے مسئلے پر سعودی موقف اور امریکہ کی Deal of the Century کے بھی سخت مخالف رہا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ بیت المقدس یا یروشلم مستقبل میں قائم ہونے والی کسی بھی فلسطینی مملکت کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ جارڈن کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد فلسطینی عوام پر مشتمل ہے اور وہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا کوئی بھی ایسا حل نہیں چاہے گا جو اس کی آبادی کے بڑے حصے کو قبول نہ ہو۔

دوسری جانب اگر ہم غیر جانبداری سے اس مسئلے کو دیکھیں تو یہ ظاہر ہوگا کہ سعودی عرب کی یہ کوشش خود اس کے خلاف بھی جاسکتی ہے۔ اگر وہ بیت المقدس میں موجود مقامات کی نگاہ داشت کسی عالمی ادارے کے ذریعہ کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی الحرمین الشریفین کی دیکھ بھال کے لئے بھی کسی عالمی نگاہ داشت کے مطالبات ہوسکتے ہیں اور ان میں ترکی پیش پیش رہ سکتا ہے۔ سعودی کے عالمی مسائل کے ماہر ایک وکیل ملک دہلان کے مطابق اگر الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ داری کسی عالمی ادارے کو دے دی جاتی ہے تو پھر مکہ اور مدینہ کے انتظامی امور بھی اسی عالمی ادارے کو دینے کے مطالبات شروع ہوسکتے ہیں اور آخر میں یہ کوشش سعودی عرب کے لیے نقصان کا سودا ثابت ہوسکتی ہے۔


جارڈن اور دیگر علاقائی طاقتیں

امریکی صدر کے ساتھ اپنی ملاقات میں شاہ عبداللہ نے جو بائیڈن سے عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی حمایت کرنے پر بھی زور دیا۔ مصطفی الکاظمی اس ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کریں گے اور متوقع ہے کہ وہ بھی ایک جانب ان سے عراق سے مصلح امریکی فوجی واپس بلانے پر زور دیں گے، وہیں وہ فوجی تربیت، خفیہ اداروں کی مدد اور دیگر مالی امداد جاری رکھنے کے لیے بھی اصرار کریں گے۔

علاقائی حفاظتی امور کے ماہرین کے مطابق اگر کوئی ملک علاقے میں ایرانی اثر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے تو وہ عراق اور اس کی موجودہ قیادت ہے۔ ایک بڑی حد تک مصطفی الکاظمی انتظامیہ کو بیشتر عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کے علاوہ جارڈن بھی شامل ہے۔ شام کے ضمن میں بات کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے صدر بائیڈن کو باور کرایا کہ اس مسئلے پر ان کی حکمت عملی کے مطابق شام کی صورت حال کو نارمل کرنے میں امریکہ، روس، اسرائیل اور دیگر ممالک کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن نے اس تجویز پر کوئی بھی ردِ عمل ظاہر کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان کے مطابق امریکہ کو روس اور صدر بشرالاسعد کے ساتھ اشتراک کرنا ہوگا جو کہ اب تک کی امریکی پالیسی کے خلاف ہیں۔


جارڈن -اسرائیل تعلقات پر بھی بامعنی مذاکرات اور تبادلہ خیال ہوا اور اطلاعات کے مطابق شاہ عبداللہ نے نئے اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے رضا مندی ظاہر کی، جب کہ صرف آنے والا وقت ہی یہ بتا پائے گا کہ یہ اشتراک کتنا کامیاب رہتا ہے۔

دونوں قائدین کے درمیان اس کے علاوہ جو موضوع زیرِ بحث رہا وہ جارڈن- سعودی تعلقات تھے۔ شاہ عبداللہ نے بائیڈن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پرنس محمد بن سلمان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ جارڈن کے لیے امریکی حمایت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ فی الوقت شاہ عبداللہ امریکی پشت پناہی کے سبب اپنے پرانے حریفوں کو صاف کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں اندازہ ہے کہ جارڈن کی کسی بھی اسرائیلی- فلسطینی پالیسی اور امریکہ-فلسطین تعلقات میں بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ساتھ ہی دوسرے علاقائی مسائل پر بھی ماضی کی طرح امریکہ دوسرے ممالک کے بجائے جارڈن کے موقف اور کردار کو زیادہ اہمیت دے گا۔


مجموعی طور پر جارڈن-امریکہ تعلقات کی بحالی کا اثر مختلف علاقائی مسائل پر مرتب ہونے کے امکانات کافی قوی ہیں۔ اس بیانیہ میں غیر خلیجی عرب ممالک کے کسی بھی مسئلے پر کیا موقف رہے گا، وہ کافی اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ اب ایک مرتبہ پھر غیر خلیجی عرب موقف کے عرب سیاست پر اثر انداز ہونے کے علاوہ ایک مرکزی کردار ادا کرے گا اور اس میں جارڈن کے ساتھ عراق اورشام بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ شاہ عبداللہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرانے میں کسی بھی حکمت عملی میں جارڈن کے مرکزی کردار کا اشارہ بھی دیا ہے۔ اپنے 22 سالہ اقتدار کے دوران شاہ عبداللہ نے امریکہ کے حمایتی کا کردار بخوبی ادا کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مستقبل میں کتنے کامیاب رہتے ہیں کیونکہ اس مرتبہ ان کا مقابلہ کم عمر شیخ محمد اور پرنس ایم بی ایس سے بھی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔