کشمیری نوجوان کی مثالی کامیابی: رکشہ پولر کا بیٹا سول سروسز امتحان میں دوسری پوزیشن کے ساتھ کامیاب

تنویر احمد نے کہا کہ ’’میں نے خوب محنت کی اور اپنے پہلے موقع کو آخری موقع کی طرح لیا اور آخر میں کامیابی نے میرے قدم چوم لئے۔‘‘

کشمیری نوجوان تنویر احمد / ٹوئٹر
کشمیری نوجوان تنویر احمد / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: کشمیری نوجوان تنویر احمد نے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے آئی ای ایس (انڈین انجینئرنگ ایگزام) میں دوسرا مقام حاصل کر کے اپنے والدین کا نام روشن کر دیا ہے۔ کولگام ضلع کے نگین پورہ گاؤں کے رہائش تنویر احمد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے پہلے نوجوان ہیں جنہوں نے اس امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔

تنویر احمد کے والد کا گاؤں جنوبی کشمیر میں واقع ہے اور سری نگر سے 80 کلومٹر دور ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کنڈ میں واقع سرکاری پرائمری اسکول سے حاصل کی ہے اس کے بعد کی تعلیم انہوں نے والٹنگو کے اسکول سے حاصل کی۔ انہوں نے بی اے کی ڈگری اننت ناگ کے ڈگری کالج سے سال 2016 میں حاصل کی۔


انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تنویر احمد کے خاندان کا پشتینی پیشہ کھیتی کا ہے، تاہم ان کے والد موسم سرما میں کولکاتا جا کر عارضی طور پر رکشہ چلانے کا بھی کام کیا کرتے تھے۔ تنویر کا کہنا ہے کہ وہ سخت محنت کرنے میں یقین رکھتے ہیں اور اگر اپنی منزل پر نظریں جمی ہوں تو کچھ بھی ناممکن نہیں رہ جاتا۔

تنویر نے 2016 میں کشمیر یونیورسٹی کے داخلہ امتحان میں پہلا مقام حاصل کیا تھا اور یہاں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کولکاتا سے ایم فیل کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اکنامکس سبجیکٹ کے ساتھ این ای ٹی جے آر ایف بھی پاس کیا ہوا ہے۔


تنویر نے کہا، ’’کورونا کے دور میں انہوں نے خود کو چہاردیواری کے اندر ایک کمرے تک محدود کر لیا اور آئی ای ایس امتحان کی تیاری میں مصروف ہو گیا، جبکہ میں نے اپنی ایم فیل کی پڑھائی بھی جاری رکھی۔ کورونا کے اثرات کو میں نے کبھی اپنی تعلیم کے معمول پر حاوی نہیں ہونے دیا۔‘‘

اپنی پہلی ہی کوشش میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والے تنویر کہتے ہیں کہ یہ ایک مشکل جدوجہد تھی لیکن انہوں کبھی امید نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے خوب محنت کی اور اپنے پہلے موقع کو آخری موقع کی طرح لیا اور آخر میں کامیابی نے میرے قدم چوم لئے۔‘‘ تنویر نے اپنے والدین کے علاوہ چچا اور اپنے اساتذہ کو بھی ہمیشہ مدد کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔