دنیا میں براعظموں کی تعداد 7 نہیں بلکہ 8 ہے، سائنسدانوں نے جاری کیا ’زی لینڈیا‘ کا نقشہ

سائنسدانوں نے تحقیق کے ذریعہ انکشاف کیا ہے کہ زی لینڈ یا سمندر میں سما گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے بارے میں پتہ نہیں تھا۔ اب سائنسدانوں نے باضابطہ اس کا نقشہ تیار کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہم ابھی تک یہی پڑھتے آ رہے ہیں کہ دنیا میں سات بر اعظم ہیں۔ لیکن سائنسدانوں نے ایک طویل تحقیق کے بعد آٹھویں براعظم کا نقشہ جاری کر دیا ہے۔ گویا کہ بہت جلد بچوں کو اسکول میں انٹارکٹکا، ایشیا، آسٹریلیا، افریقہ، یوروپ، جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ کے علاوہ ایک نئے براعظم کے بارے میں بھی پڑھایا جائے گا۔ اس آٹھویں براعظم کا نام 'زی لینڈیا' بتایا گیا ہے اور یہ آسٹریلیا براعظم سے جنوب مشرق کی جانب نیوزی لینڈ کے اوپر ہے۔

سائنسدانوں نے تحقیق کے ذریعہ انکشاف کیا ہے کہ زی لینڈیا سمندر میں سما گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے بارے میں پتہ نہیں تھا۔ اب سائنسدانوں نے باضابطہ اس کا نقشہ تیار کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور آٹھویں بر اعظم کے تعلق سے کئی اہم باتیں بھی سامنے رکھی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پیش کردہ نقشہ کے مطابق زی لینڈیا براعظم 50 لاکھ اسکوائر کلو میٹر میں پھیلا ہے۔ یعنی یہ براعظم ہندوستان کے رقبہ سے 17 لاکھ اسکوائر کلو میٹر بڑا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ براعظم تقریباً 2.30 کروڑ سال پہلے سمندر میں غرق ہو گیا تھا اور یہ گونڈوانالینڈ سے 7.90 کروڑ سال پہلے ٹوٹا تھا۔ زی لینڈیا کے تعلق سے کچھ اہم باتیں تین سال قبل پتہ چلی تھیں اور اس کے بعد سے ہی اس پر تحقیق شد و مد کے ساتھ شروع کیا گیا۔

یہاں قابل غور ہے کہ دنیا کے آٹھویں براعظم کے تعلق سے باتیں 1995 میں ہی شروع ہو گئی تھیں لیکن اس کی دریافت کا کام 2017 تک چلا اور پھر اس غائب براعظم کی حقیقت تسلیم کی گئی۔ زی لینڈیا بحر اوقیانوس کے اندر 3800 فیٹ نیچے ہے۔ نئے نقشے کے مطابق یہاں کہیں بہت اونچی زمین ہے تو کہیں بہت اونچا پہاڑ ہے اور کہیں گہری وادیاں بھی ہیں۔ ویسے تو زی لینڈیا کا پورا حصہ سمندر کے اندر سما گیا ہے لیکن لارڈ ہووے آئی لینڈ کے پاس بالس پرامڈ نامی چٹان سمندر سے باہر نکلی ہوئی ہے۔ اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سمندر کے اندر ایک براعظم موجود ہے۔

بہر حال، نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں نے آٹھویں بر اعظم کا ٹیکٹونک اور بیتھی میٹرک نقشہ تیار کیا ہے تاکہ اس سے متعلق زلزلہ اور سمندری جانکاریوں کے بارے میں پتہ چل سکے۔ جی این ایس سائنس ادارہ سے جڑے سائنسداں نک مورٹائمر کا کہنا ہے کہ "یہ نقشہ ہمیں دنیا کے بارے میں جانکاری دیتا ہے۔ یہ بہت ہی خاص ہے۔ یہ ایک بڑی حصولیابی ہے۔"

Published: 25 Jun 2020, 8:40 PM