کورونا سے مقابلہ کے لئے ملک پوری طرح تیار نہیں، سائنسدانوں کا انتباہ

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اگر آئندہ دنیا کو وبائی امراض سے زیادہ مؤثر طریقہ سے مقابلہ کرنا ہے تو ایسی تیاری کرنی ہوگی جو صرف ردعمل پر مبنی نہ ہو بلکہ خطرے کو ابتدائی مراحل میں ہی روکنے کے قابل ہو

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

بھرت ڈوگرا

مایہ ناز ’انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ‘ میں آٹھ سینئر ہندوستانی سائنسدانوں کا ایک مضمون ’’دی 2019 نوول کورونا وائرس ڈیزیز (کووڈ -19) پین ڈییمک - اے ریویو آف کرنٹ ایویڈنس‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے، جس میں اس وبائی مرض کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان سائنسدانوں میں پرنب چٹرجی (کلیدی مصنف)، نازیہ ناگی، انوپ اگوال، بھاباتوش داس، سمیتن بنرجی، ساوروپ سرکار وغیرہ شامل ہیں۔ مضمون کے تمام آٹھ سائنسدان اہم اداروں سے وابستہ ہیں۔ کا یہ مضمون عالمی تناظر میں لکھا گیا ہے اور یہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے حالات کے لئے موزوں ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ملکی سربراہ یا انتظامیہ کی جانب سے مسلط کیے جانے ولے احکامات کی بجائے سماج کو ذہن میں رکھتے ہوئے مفاد عامہ میں اقدام لئے جانے چاہئیں۔ لاک ڈاؤن کو ایک سخت اقدام قرار دیتے ہوئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس کے فوائد کا تو کچھ پتہ نہیں، البتہ سماج پر طویل مدتی مضر اثرات مرتب ہونے کے خدشات زیادہ ہیں۔ اس طرح کے سخت اقدامات کا تمام لوگوں پر سماجی، نفسیاتی اور معاشی تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لہذا، اوپر کے احکامات پر جبراً عمل آوری کرتے ہوئے کوارنٹائن کی بجائے سول سوسائٹیز اور تمام طبقات کی قیادت میں اگر کوارنٹائن کیا جائے تو کووڈ-19 جیسی وباء پر زیادہ مؤثر طریقہ سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

آگے اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ پابندیوں سے معیشت، زراعت اور ذہنی صحت پر مضر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی فکر کی صحت عامہ کی ایمرجنسی تکنیک، صحت کے نظام اور سماج کی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے لئے عوامی مرکزیاتی اقدامات پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ ان سائنسدانوں نے کووڈ 19 کے عالمی سطح کے رد عمل کو کمزور اور ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی نظام صحت کی تیاری کی کمزوریاں منظر عام پر آئی ہیں اور پتہ چلا ہے کہ عالمی سطح پر وبائی امراض کا سامنا کرنے کی تیاری ابھی کتنی ادھوری ہے۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کا جو رد عمل دنیا میں سامنے آیا ہے وہ خصوصی تیاری والا نظر نہیں آتا۔ الرٹ جاری کرنے کے نظام کی کمزوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرناک وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کے لئے دنیا تیار نہیں ہے۔

ان سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مستقبل میں زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کو متعدی بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسی تیاریاں کرنا ہوں گی جو نہ صرف رد عمل پر مبنی ہوں بلکہ ابتدائی صورتحال میں خطرے کو روکنے کے قابل بھی ہوں۔ اگر اس طرح کا تیاری نظام پیدا ہوتا ہے تو لوگوں کی مشکلات اور پریشانیاں بڑھائے بغیر مسائل کا حل کرنا آسان ہوگا۔

آج پوری دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا طویل مدتی لاک ڈاؤن جیسے سخت اقدامات اٹھانا ضروری ہیں یا نہیں! لہذا اس کے لئے متبادل کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور اگر نامور سائنسدان اس کے لئے آگے آئیں تو یہ اور بھی بہتر ہے۔ مجموعی طور پر ایسا لگتا ہے کہ عوام پر مبنی پالیسیاں اپنانے سے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ہونے والے بہت سے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

Published: 25 Apr 2020, 10:11 PM
next