امریکہ میں اسپیس ایكس کی کامیاب لانچنگ

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ’’ملک کے پیشرو لیڈروں نے ہمارے خلانوردوں کو خلا میں بھیجنے کے لئے دوسرے ممالک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ اب اور نہیں‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پرائیویٹ کمپنی اسپیس ایکس نے پہلی بار ناسا کے دو خلائی مسافروں کے ساتھ فالکن 9 راکٹ کا کامیاب لانچ کر کے تاریخ رقم کی ہے۔ ٹرمپ نے اسپیس ایكس کے کامیاب راکٹ لانچ کو امریکہ کےعزائم کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ملک کے پیشرو لیڈروں نے ہمارے خلانوردوں کو خلا میں بھیجنے کے لئے دوسرے ممالک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ اب اور نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں خلائی جہاز کے آغاز پر روک کے بعد امریکہ سے ناسا کے خلائی مسافروں کے ساتھ راکٹ کا اب یہ پہلا کامیاب آغاز تاریخ کا ایک باب بن گیا ہے۔

ناسا نے دو خلانوردوں ’ڈگ ہرلی‘ اور ’باب بینكن‘ کے ساتھ اسپیس ایكس کے فالکن راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجکر 22 منٹ پر خلا کے لئے روانہ کیا۔ اس سے پہلے 28 مئی کو راکٹ کا پروجیکشن کیا جانا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ اسے ٹال دیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی کسی پرائیویٹ کمپنی نے پہلی بار کوئی راکٹ خلا میں بھیجا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب پوری دنیا عالمی وبا کورونا وائرس سے دو چار ہے۔ اسی وائرس کے پس منظر میں امریکہ کا چین اور روس ہی نہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بھی کشمکش جاری ہے۔ کورونا وائرس کے موجودہ بحران سے پرے ناسا کے حکام کا کہنا ہے کہ نو سال بعد خلا میں راکٹ کی لانچنگ ملک اور ہموطنوں کا حوصلہ بڑھانے میں مدد گار ہو گا۔