’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر ہوئی تھی ذیشان، کامل اور شہزاد کی پٹائی!

جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کسی بھی مہذب سماج کے لیے انتہائی گھناؤنا ہے، کسی بھی راہ گیر کو مذہبی نعرہ لگانے پر مجبو ر کرنا اور نہ لگانے پر جان سے مارنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے آج غازی آباد کے مسوری باشندہ اور مدرسہ طالب علم ذیشان ولد ابرار احمد اور پتھر کا کام کرنے والے کامل و شہزاد ولد نصرت، ساکن ماہلی سے ملاقات کی اور ان کے احوال جانے۔ واضح ہو کہ ان لوگوں کو الگ الگ واقعات میں دتوڑی ایس ایس پبلک اسکول کے پاس منظم طریقے سے موجود شرپسندوں نے مذہبی منافرت کی بنیاد پر سخت زد وکوب کیااور ’جے شری رام‘ جیسے مذہبی نعرہ نہ لگانے پر بے رحمی سے پیٹا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ 4 جون کو پیش آیا تھا۔

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا غیور احمد قاسمی اور ہاپوڑ کے مولانا افتخار احمد قاسمی، مفتی اسجد عابدی بلند شہری،چودھری اطہر جیون نرسنگھ ہوم، مولانا مصطفی ناہلی، سروری صاحب ناہلی، پردھان کامل وغیرہ پر مشتمل جمعیۃ کے وفد نے آج ذیشان اور شہزاد سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی اور متعلقہ افسران سے مجرموں کے خلاف جلد ازجلد قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا۔اس طرح کے واقعات کسی بھی مہذب سماج کے لیے انتہائی گھناؤنا اور مکروہ ہے کہ کسی بھی راہ گیر کو مذہبی نعرے لگانے پر مجبو ر کیا جائے اور نہ لگانے پر بھیڑ ان کو جان سے مارنے کی کوشش کرے۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے بارہا یہ کہا ہے کہہندستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایسے واقعات انتہائی افسوس ناک اور ملک کی رسوائی کا سامان ہیں۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز

مذکورہ واقعے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے پاس متاثرہ کی ایف آئی آر کاپی اور ان کی طرف سے دی گئی عرضی موجود ہے۔ اس کے مطابق ذیشان ولد ابرار احمد فیض العلوم مدرسہ کا طالب علم ہے اور بائیس پارہ کا حافظ ہے۔وہ اپنی بائیک سے خالہ کے یہاں نہالی جارہا تھا۔ صبح قریب آٹھ بجے جیسے ہی وہ دتوڑی ایس ایس پبلک اسکول کے پاس پہنچا توپاس کے باغ سے دس بار ہ لوگ نکلے اور اسے روک کرنام پوچھا اور پھر جے شری رام کے نعرے لگانے کو کہا۔ جب اس نے انکار کیاتو اس پر دھار دار ہتھیار سے حملے کیے گئے۔ دریں اثنا فرید نگر کی طرف سے ایک آٹورکشہ آتی نظر آئی تو یہ شرارتی عناصر وہاں سے بھاگ گئے۔ کسی طرح جان بچا کر یہ طالب علم بھی وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا،لیکن وہ انتہائی سنگین چوٹ اور زدوکوب کی وجہ سے گھنٹوں بستر پر تڑپتا رہا۔

بالکل اسی طرح کا واقعہ کامل ولد نصرت اور شہزاد ولد نصرت ساکن ماہلی تھانہ بھوجپورکے ساتھ پیش آیا، جو ہر روز اپنے ساتھی کامل ولد امرین کے ساتھ، اپنے پتھر کے کام کے لیے مذکورہ جگہ سے گزرتا تھا، حسب معمول وہ جیسے ہی مذکورہ اسکول کے پاس پہنچاتو باغیچے میں چھپے ہوئے دس بارہ لوگوں نے اس پر لاٹھی پتھر سے حملہ کردیا۔ اس سلسلے میں دونوں نے پولس میں شکایت بھی کی ہے، جس کی بنیاد پر چند لوگوں کی گرفتاری ہو ئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔