تبلیغی جماعت معاملہ: متعصب میڈیا کے خلاف جمعیۃ کی عرضی پر بحث ستمبر میں

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم اظہاررائے کی آزادی کے نہیں شرانگیزی اورمنفی رپورٹنگ کے خلاف ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: کورونا وائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف مولانا سید ارشدمدنی (صدر، جمعیۃ علماء ہند) کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پر گزشتہ کئی ما ہ سے سماعت نہیں ہورہی تھی۔ پٹیشن پر جلد از جلد سماعت ہونے کے لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی جس پر جسٹس ایل ناگیشوراراؤاور جسٹس انیردھ بوس نے اس معاملے کی حتمی بحث ماہ ستمبر میں کیے جانے کا حکم دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے عدالت سے جلد از جلد سماعت کیے جانے کی درخواست کی تھی۔آج سپریم کورٹ کے آرڈرکے بعد صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے بے لگام میڈیا پر شکنجہ کسنے کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ متعصب میڈیا پر لگام کسنے کی ہماری قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ آنے تک جاری رہے گی۔ ہماراشروع سے یہ اصول رہا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ باہمی گفت و شنیدسے حل نہیں ہوتا تو سٹرکوں پر اترنے کے بجائے ہم اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے عدالت جاتے ہیں اورہمیں وہاں سے انصاف بھی ملتاہے۔ افسوس کہ جب فرقہ پرست میڈیا نے اپنی فرقہ وارانہ رپورٹنگ کی روش ترک نہیں کی توہمیں عدالت کا رخ کرنے پرمجبورہونا پڑا۔


اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ آئین نے ملک کے ہر شہری کو اظہار رائے کی مکمل آزادی دی ہے، ہم کلی طورپر اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن اگر اظہار رائے کی اس آزادی سے دانستہ کسی کی بھی دلآزاری کی جاتی ہے، کسی فرقہ یاقوم کی کردارکشی کی کوشش ہوتی ہے یا اس کے ذریعہ اشتعال انگیزی پھیلائی جاتی ہے تو ہم اس کے سخت خلاف ہیں۔ آزادی اظہار رائے کی آئین میں مکمل وضاحت موجود ہے، لیکن اس کے باوجودمیڈیا کا ایک بڑاحلقہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے معاملہ میں جج بن جاتاہے اور انہیں مجرم بناکر پیش کرنا ایک عام سی بات ہوگئی جیسا کہ ماضی میں تبلیغی جماعت کو لے کر اسی طرح کا رویہ اختیارکیا گیا تھا۔لیکن افسوس جب بعد میں عدالت انہیں بے قصور قراردیتی ہے، تو اسی میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ میڈیا کا یہ دوہرارویہ ملک اور اقلیتوں کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ مولانا مدنی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا آزادی اظہار رائے کے نام پر آئین کی دھجیاں اڑانے والے اور یکطرفہ رپورٹنگ کرنے والے ملک کے وفادارہوسکتے ہیں؟

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے داخل پٹیشن پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظی مدعی بنے ہیں جس پر اب تک متعدد سماعتیں ہوچکی ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ سے کرونا کی وجہ سے سماعت نہیں ہوسکی تھی اور اسی سابق چیف جسٹس آف انڈیا سبکدوش ہوگئے۔ اب جبکہ حالات میں سدھار ہورہا ہے اور چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے اپنا چارج لے لیا ہے، عدالت سے جلد از جلد سماعت کی درخواست کی گئی تھی، جس کو سپریم کورٹ نے منظورکرتے ہوئے ستمبر میں بحث کا حتمی وقت دیا ہے۔ تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کوبد نام کرنے کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا پٹیشن داخل کرنے کے بعد اور صارفین کی شکایت پر نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی (NBSA) نے تین چینلوں ٹائمس ناؤ، ٹی وی 18 اورسوارنا نیوز چینل پر ایک لاکھ کا جرمانہ عائد کیا تھاجبکہ زی نیوز، آج تک اور دیگر چینلوں نے معافی مانگی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔