رام مندر ٹرسٹ کی خریدی گئی مزید ایک زمین پر تنازعہ، عدالت نے چمپت رائے کو بھیجا نوٹس

بابری مسجد انہدام معاملہ میں ملزم رہے سنتوش دوبے نے رام مندر ٹرسٹ پر مقدمہ درج کرایا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ رام نام کی لوٹ مچی ہوئی ہے اس لیے عدالت جانا میری مجبوری تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ ایک بار پھر زمین خریداری کو لے کر تنازعات کا شکار ہو گیا ہے۔ نیا معاملہ رام مندر احاطہ سے ملحق قدیم فقیرے رام مندر کا ہے۔ اس مندر اور اس کی زمین کو رام مندر ٹرسٹ نے 27 مارچ 2021 کو خریدا تھا۔ اس ملکیت کو خریدنے کے بعد سے ہی تنازعہ شروع ہو گیا تھا۔ یہ معاملہ اب فیض آباد سول جج سینئر ڈویژن کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ عدالت نے ملکیت کو فروخت کرنے والے رگھوور شرن اور رام مندر ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔

اس تعلق سے ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ مقدمہ وراجمان بھگوان اور ان کے نزدیکی دوست سنتوش دوبے اور سوامی اویمکتیشورانند کی طرف سے داخل کیا گیا ہے۔ اس میں نہ صرف اس ملکیت کو فروخت کرنے والے رگھوور شرن کی ملکیت کے اختیار کو چیلنج پیش کیا گیا ہے بلکہ زمین کی رجسٹری رد کرنے، ملک بھر میں مندر کی زمین پر ریسیور مقرر کرنے، مندر کو نقصان نہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ مندر میں بھگوان کو روزانہ ’بھوگ راگ‘ جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔


بابری مسجد انہدام میں ملزم رہے سنتوش دوبے نے رام مندر ٹرسٹ پر مقدمہ درج کرایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ رام مندر بہت بڑھیا طریقے سے بنے۔ رام مندر کے لیے میں نے اپنا بچپن سے لے کر جوانی لگا دی۔ میں نے چار گولیاں کھائیں، کئی ہڈیاں تک تڑوائیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ شری رام جنم بھومی کی جو 70 ایکڑ زمین ملی ہے وہ کافی ہے۔ اس کے علاوہ ایودھیا کی قدیم اہمیت والی جگہ فقیرے رام مندر، جہاں وَنواس سے پہلے بھگوان شری رام اور ماتا سیتا، لکشمن جی نے اپنے کپڑے بدلے تھے، اس تاریخی مندر کو توڑنے سے روکنے کے لیے صرف ایک طریقہ رہ گیا تھا۔ سنتوش دوبے نے کہا کہ سب بے لگام ہیں۔ اس ٹرسٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ پیسے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ رام نام کی لوٹ مچی ہوئی ہے، اس لیے عدالت جانا میری مجبوری تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔