مہاراشٹرا اپنے عہد کے سب سے بڑے سیلاب سے دوچار

مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اتنا درد ناک حادثہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے، جب خاندان کے خاندان ہی ختم ہو گئے ہوں اور مکانات کی جگہ ویرانی نے اختیار کرلی ہو۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پرجمعیۃ کی مرکزی و ریاستی یونٹیں لگاتار مہاراشٹرا سیلاب زدگان کی بچاؤ و راحت رسانی کے عمل میں مصروف ہیں۔ آج جمعیۃعلماء ہند کا وفد مہاڈ کے تلئے ورچے واڈی گاؤں میں پہنچا جس کا نام ونشان تک مٹ چکا ہے، مختصر آبادی والے اس گاؤں میں چالیس مکانات تھے۔ 22 جولائی کی شام سیلاب اور پہاڑ کھسکنے کی وجہ سے 84 افراد جاں بحق ہوگئے، 16 خاندان بالکلیہ طور سے ختم ہو گئے، بقیہ 24 خاندانوں میں وہی لوگ بچے ہیں جو کسی کام سے باہر تھے۔ اس وقت اس گاؤں میں صرف 77 افراد زندہ بچے ہیں اور دکھ کا پہاڑ اوڑھ کر کھلے آسمان میں اپنوں کی باقیات کو سمیٹ رہے ہیں۔

آج جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی قیادت میں مذکورہ بستی کے متاثرہ افراد سے ملاقات کی، وفد میں مفتی رفیق محمد شفیع پورکر کنوینر جمعیۃ ریلیف کمیٹی، مولانا سرفراز، مولانا ظفر، حافظ شکیل، مولانا جمال قاسمی، مولانا شفیق احمد مالیگانوی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اتنا درد ناک حادثہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے، جب خاندان کے خاندان ہی ختم ہو گئے ہوں اور مکانات کی جگہ ویرانی نے اختیار کرلی ہو۔ میں ان لوگوں کے درد کو بیان نہیں کرسکتا، میں 32 سالوں سے جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں قدرتی و انسانی آفات کے متاثرین سے ملاقات کرتا رہا ہوں، لیکن ایسا غم اور تکلیف کا سامنا نہیں ہوا۔ یہاں تو کوئی رونے والا بھی نہیں بچا ہے، جو بچے ہیں ان کے آنسو پوچھنے والا کوئی نہیں۔


جمعیۃ ریلیف کمیٹی کے کنوینر مفتی رفیق محمد شفیع پورکر نے کہا کہ یہاں کھانے پینے کی اشیاء پہلے ہی پہنچا دی گئی ہیں، لوگوں سے مل کر یہ معلوم ہوا کہ یہاں اس وقت برتن وغیرہ کی ضرورت ہے، کل جمعیۃ علماء کے کارکنان ان کو کچن سیٹ پہنچا دیں گے۔ اسی طرح متاثرہ علاقوں میں بجلی فٹنگ، پانی فٹنگ، گاڑی کی مرمت، چھوٹے کاروباریوں کو روزگار سے جوڑنا اور باز آباد کاری کا ایک بڑا معاملہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پورے کوکن میں 1028 گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں بالخصوص مہاڈ میں 46 گاؤں متاثر ہیں، جن میں 16 گاؤں کافی متاثر ہیں۔ جمعیۃعلماء ایک ایک کرکے متاثرہ افراد تک پہنچ رہی ہے، یہاں جنگی پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جمعیۃ علماء نے یہاں ریلیف کیمپ کا مرکزی مقام مدرسہ تحفظ القران انجمن درد منداں تعلیم و ترقی مہاڈ کو مقرر کیا ہے، جس کی دیکھ بھال مفتی مظفر صاحب کر رہے ہیں۔ جمعیۃ علماء کے وفود کا دورہ جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے صدر مولانا ندیم صدیقی کی رہنمائی میں ہو رہا ہے۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء کے مذکورہ وفد نے مہاڈ کے ایس ڈی ایم سے ملاقات کی، ایس ڈی ایم نے جمعیۃ علماء ہند اور انجمن درد مندان تعلیم کوکن کے کام کے طریقے کی تعریف کی اور جمعیۃ علماء ہند اور انجمن سے لوگوں تک راحت رسانی کے عمل میں مدد مانگی، اس سلسلے میں یہ طے ہو ا کہ ایس ڈی ایم کے یہاں روزانہ ایک میٹنگ ہوگی جس میں جمعیۃ کے کارکنان شریک ہو ں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔