ہندو راشٹر حمایتی نظریہ پر مبنی نئی ’قومی تعلیمی پالیسی‘ کو جمعیۃ علماء ہند نے کیا خارج

جمعیۃ علما ہند نے تعلیمی پالیسی میں شامل مذہبی تعصب کے تمام عناصر کو رد کرتے ہوئے انصاف پسند اور سیکولر عناصر سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے معصوم ذہنوں کو مذہبی تعصب کی آلودگی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں

تصویر بذریعہ محمد تسلیم
تصویر بذریعہ محمد تسلیم
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی قومی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کے زیر صدارت مفتی کفایت اللہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ویڈیو کانفرنسنگ ایپ ’زوم‘ کے ذریعہ بھی کئی اراکین اور مدعوئین اجلاس کی کارروائی میں حصہ لینے میں کامیاب ہوئے۔مجلس عاملہ کے اجلاس میں بالخصوص نئی تعلیمی پالیسی، مدارس اسلامیہ کے خلاف منفی پروپیگنڈے، مدارس میں عصری تعلیم کے لیے لائحہ عمل کی تیاری اور سوشل میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی جیسے اہم امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔

گزشتہ کارروائی کی خواندگی کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ملک کے موجودہ حالات بالخصوص بھاجپا کے صدر جے پی نڈا کا سی اے اے کے نفاذ سے متعلق حالیہ بیان اور اسی طرح آسام حکومت کی طرف سے امداد یافتہ مدارس میں مذہبی تعلیم کی پابندی جیسے اہم معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مجلس عاملہ نے اس طرح کے فرقہ وارانہ تفریق پر مبنی اقدامات پر سخت تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے اس کے زہر آلود اثرات کے ازالے پر غورو خوض کیا۔

مجلس عاملہ میں خاص طور سے نئی تعلیمی پالیسی کا موضوع زیر بحث رہا، اس سے متعلق ایک تجویز منظور کی گئی جس میں اس کو ہندو مذہب اور طریقہ حیات کو تمام شہریوں پر جبراً مسلط کرنے والا قدم بتایا گیا۔ تجویز میں کہا گیا ہے ”ہمارے ملک میں فکری و عملی دونوں سطح پر مذہبی تعصب پرستی اور روادارانہ سیکولرنظام کے درمیان کشمکش اس وقت انتہائی عروج پر ہے، ہندو راشٹرحمایتی نظریہ نے سیاسی اقتدار پر قبضہ جمانے کے بعد اپنے دیرینہ ایجنڈوں کو ایک ایک کرکے تقریباً ہر میدان عمل میں نافذ کرنا شروع کردیا ہے، اس سلسلے کی اہم کڑی نئی تعلیمی پالیسی ہے، ملک میں عام طور پر تعلیمی معیار کو سدھارنے اور صنعتی و معاشی ترقی کے لیے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے بعض مفید اور مثبت اقدامات کے باوجود مذہبی تعصب کی چھاپ اس پر اس قدر غالب ہے کہ نقائص کی نشاندہی میں اعتدال مشکل ہو گیا ہے۔ لسانیات، تہذیب و تمدن، قومی تفاخر، جسمانی و روحانی حفظان صحت اور یکسانیت اور مساوات کے نام پر نئی تعلیمی پالیسی میں ایسی ترمیمات کی گئی ہیں جس کا بنیادی ہدف ہندو مذہب اور طریقہ حیات کو تمام شہریوں پر جبراً مسلط کرنا ہے جو کہ اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی اس ملک کی آزادی اور ترقی میں حصہ داری کی تاریخ اور مشرکانہ عقائد کے مقابلے میں توحید خالص کے اٹل عقیدے سے براہ راست صرف متنازع ہی نہیں بلکہ اس پر نہایت جارحانہ حملہ ہے۔ اس تناظر میں احتجاجی، تردیدی اور بیداری کی کوششوں کو جاری و ساری رکھتے ہوئے یہ اجلاس نئی تعلیمی پالیسی میں شامل مذہبی تعصب کے تمام عناصر کو رد کرتا ہے او ر بلالحاظ مذہب و ملت تمام انصاف پسند اور سیکولر عناصر سے اپیل کرتا ہے کہ اپنے بچوں کے معصوم ذہنوں کو مذہبی تعصب کی آلودگی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔“

مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی دیرینہ کوششوں پر سنجیدگی سے عمل در آمد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اپنے اسکول قائم کریں جہاں اسلامی ماحول میں عصری تعلیم مہیا کی جائے۔ اسی طرح اجلاس مجلس عاملہ میں مدارس اسلامیہ کے خلاف بعض وزراء کی طرف سے منفی پروپیگنڈے اور بے بنیاد تبصرے پر شر انگیز بتاتے ہوئے اس سے متعلق منظور کردہ تجویز میں کہا گیا ”یہ بات کسی بھی صاحب نظر سے مخفی نہیں ہے کہ دینی مدارس میں انسانی رواداری اور قومی اتحاد کی تعلیم دی جاتی ہے اور اچھے اخلاق سے طلبہ کو آراستہ کیا جاتا ہے، مدارس سے وابستہ افراد کا ملک کی آزادی میں بڑا اہم کردار رہا ہے اور آج بھی اہل مدارس مختلف میدانوں میں ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنی بہترین خدمات پیش کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بات باعث مذمت ہے کہ حال ہی میں بعض وزرا کی طرف سے بے بنیاد منفی تبصرہ کیا گیا ہے جو نہایت شر انگیز ہے، مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند اس رویے کی سخت مذمت کرتی ہے اور حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ملک کی سیکولر اقدار اور مذہبی تعلیمی آزادی کے دستوری حق کو پامال کرنے والی ذہنیت کی ہرگز حوصلہ افزائی نہ کریں۔“

مدارس اسلامیہ کے طلبہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور مدارس کو اپنی ہیئت پر باقی رکھتے ہوئے این آئی ایس بورڈ سے منسلک کرنے جیسے مسائل بھی مجلس عاملہ میں زیر غور آئے، اس سلسلے میں مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں کہا کہ گرچہ مدارس کے مروجہ نصاب میں عصری تعلیمی مضامین کو داخل کرنا دشوار ہے، لیکن ملک میں اوپن اسکولوں کے نظام نے ایسے قومی امکانات پیدا کردیئے ہیں کہ مدارس دینیہ اپنے نصاب کو حسب سابق اپنی اصلی ہیئت پر باقی رکھتے ہوئے طلبہ کے لیے مناسب انداز میں عصری تعلیم کا نظم کرسکتے ہیں۔

بریں بنا مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند نے اس کے متعلق مناسب لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے در ج ذیل افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ارباب مدارس کے لیے جملہ تحفظات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ ایک ماہ میں رپورٹ تیار کرے گی۔ (1) مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری، کنوینر (2) مولانا محمد سلمان بجنوری (3) مولانا نیاز احمد فاروقی (4) مولانا کلیم اللہ قاسمی امبیڈکر نگر۔

مجلس عاملہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر جو زہر پھیلایا جا رہا ہے، اس کا جواب دینے کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اسلام مخالف پروپیگنڈا کی توڑ کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی، کمیٹی کے کنوینر مولانا نیاز احمد فاروقی ہوں گے، جب کہ رکن مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا مفتی سلمان منصورپوری، مولانا سلمان بجنوری، مولانا شمس الدین بجلی ہیں۔ نیز یہ بھی طے ہوا کہ اجلاس مجلس منتظمہ منعقدہ 12/ستمبر 2019 کے مطابق تمام اکائیوں کو جمعیۃ سدبھاؤنا منچ قائم کرنے کا پابند بنایا جائے۔ مجلس عاملہ میں شمال مشرقی دہلی فسادات کے سلسلے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس پر اظہار اطمینان کیا گیا، مجلس عاملہ نے ماضی قریب میں داعی اجل کو لبیک کہنے والی کئی اہم شخصیات کی وفات حسرت آیات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی۔

پسندیدہ ترین
next