جمعیۃ علماء ہند نے مہاراشٹر سیلاب متاثرین کے لیے مختص کیا 2 کروڑ روپے کا فنڈ

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے مہاراشٹر سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے 2 کروڑ روپے کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں مقیم ائمہ مساجد و علماء کرام کے لئے بھی 25 لاکھ روپے کا ایک فنڈ مختص کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: مہاراشٹر کا ایک بڑا علاقہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہے۔ کوکن کے علاقے میں سیلاب کی تباہ کاریاں دوسرے علاقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی مقامی اکائیوں کے تعاون سے ان سیلاب متاثرہ علاقوں میں امداد و راحت رسانی کا کام جنگی پیمانے پر کر رہی ہے، ان علاقوں میں املاک کا زبردست خسارہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے ایک بڑا اور خوش آئند فیصلہ لیتے ہوئے بازآباد کاری کے لئے ابتدائی طور پر دو کروڑ روپے کا فنڈ مختص کردیا ہے، اور حسب ضرورت اس مد میں مزید رقم بھی جاری کرنے کو کہا ہے۔ ساتھ ہی متاثرہ علاقوں کے مساجد کے ائمہ اور علماء کرام کے لئے الگ سے پچیس لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔ علاوہ ازیں مولانا مدنی نے راحت رسانی، بازآبادکاری، طبی خدمات اور دیگر ضروری کاموں میں مصروف جمعیۃ کی ٹیموں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جس طرح کیرالہ، مغربی بنگال، آسام، کرناٹک وغیرہ میں بازآبادکاری و راحت رسانی کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر ہندو، مسلم، عیسائی وغیرہ کے درمیان انجام دیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی انجام دیں۔ مولانا نے ایسی ٹیم بھی تشکیل دینے کو کہا ہے جو دستاویزات بنوائے اور قانونی مدد کرے تاکہ متاثرین کو سرکاری امداد و اسکیم سے فائدہ حاصل کرنے میں سہولت ہو۔

جمعیۃ علماء ہند کی مختلف ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں خیمہ زن ہیں اور سروے کر رہی ہیں، اب تک ابتدائی طور پر جو سروے رپورٹ آئی ہے اس کے مطابق مہاڈ علاقے میں 26 مکانات کی از سر نو تعمیر اور 36 مکانات کی مرمت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ از سر نو تعمیر پر ایک مکان کی لاگت تقریباً پانچ لاکھ روپے اور ایک مکان کی مرمت پر پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کا تخمینہ ہے۔


سیلاب متاثرہ علاقوں میں اور بھی کئی غیر سرکاری تنظیمیں امداد وراحت رسانی کے کام میں لگی ہوئی ہیں لیکن اب متاثرین کی بازآبادکاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سیلاب سے مال و اسباب کو ہی نقصان نہیں پہنچا ہے بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کے گھر بھی پوری طرح تباہ ہوچکے ہیں۔ ایسے میں متاثرین کی بازآبادی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے قدرتی آفات کے بعد کچھ عرصے تک امداد و راحت رسانی کے کام کا ہنگامہ تو رہتا ہے لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ لوگ متاثرین کو فراموش کردیتے ہیں۔ آسام اور کیرلا میں ایسا ہوچکا ہے، اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے اب متاثرین کی بازآبادکاری کا بیڑہ اٹھا یا ہے اور اس کے لئے نہ صرف ایک فنڈ الگ سے مخصوص کردیا گیا ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ حسب ضرورت اس فنڈ میں رقم کا اضافہ ہوتا رہے گا۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کی مختلف اکائیاں منظم طریقے سے راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ ایک جانب جہاں غذائی اجناس، اشیاء ضروری، طبی امداد وغیرہ بروقت مہیا کروائی ہیں وہیں میکینکوں کی ٹیم نے موٹر سائیکل، آٹو رکشہ و دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی بڑی تعداد میں مرمت کی اور تقریباً دس ہزار سے زائد موٹر سائیکلوں کی مرمت کے لیے درکار ساز و سامان مہیا کرایا اور گاڑیوں کی مرمت کرتے ہوئے انہیں قابل استعمال بنایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔