’ہر ماہ بڑھ رہی رسوئی گیس کی قیمت، پھل پھول رہا بی جے پی حکومت کا اُگاہی منصوبہ‘

بڑھتی مہنگائی کو لے کر پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’یکم جولائی کو رسوئی گیس کی قیمت مودی جی کی حکومت نے 25 روپے بڑھائی اور 17 اگست کو پھر 25 روپے بڑھا دی۔‘‘

پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

17 اگست کو مودی حکومت نے ہندوستانی عوام کو جھٹکا دیتے ہوئے ایک بار پھر رسوئی گیس کی قیمت میں 25 روپے کا اضافہ کر دیا۔ اس عمل پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹر پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یکم جولائی کو رسوئی گیس پر مودی جی کی حکومت نے 25 روپے بڑھایا، اور 17 اگست کو پھر 25 روپے بڑھا دیے۔ اُجولا کا خواب دکھا کر ہر مہینے رسوئی گیس کی قیمت بڑھا کر بی جے پی حکومت کا اُگاہی منصوبہ پھل پھول رہا ہے۔‘‘

گیس کی قیمت میں اضافہ کیے جانے کے بعد کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکز کی مودی حکومت پر زبردست حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ رسوئی گیس کی قیمت میں 25 روپے مزید اضافہ کے بعد اس کی قیمت فی سلنڈر 859 روپے ہو گئی ہے۔ نومبر 2020 سے اب تک فی سلنڈر 265 روپے قیمت کا اضافہ ہوا ہے، گویا کہ اس کی مہنگائی میں 44 فیصد کا اُچھال درج کیا گیا ہے۔ کانگریس ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ مئی 2020 سے مودی حکومت نے رسوئی گیس پر سبسیڈی نہیں دی ہے۔ 2014 میں ایندھن کی سبسیڈی 1.47 لاکھ کروڑ روپے تھی، 2021 بجٹ میں اسے گھٹا کر محض 12 ہزار کروڑ روپے کر دیا گیا۔ مالی سال 2021 میں مودی حکومت نے ایندھن ٹیکس سے 4.53 لاکھ کروڑ روپے کمائے، لیکن لوگوں کو کوئی راحت نہیں دی۔


سپریا شرینیت نے پریس کانفرنس کے دوران مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کچھ اشعار بھی پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مہنگی گیس، مہنگا تیل، مہنگا ہے چولھا چوکا/ عوام کو ٹھگنے کا نہیں چھوڑا ہے کوئی موقع/ پھر سے ڈال دیا ہے تم نے جیب پر گہرا ڈاکہ/ اچھے دن کا وعدہ کر، دیتے آئے دھوکے پہ دھوکہ‘‘۔ پھر انھوں نے کہا کہ ’’13 جون 2013 کا مودی جی کا بیان سن لیجیے۔ انھوں نے کہا تھا کہ دہلی میں بیٹھی کانگریس حکومت مہنگائی سے بے حال غریب عوام کے زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔ ڈرامہ بازی اور ڈھونگ کی اس سے بڑی مثال دوسری کیا ہوگی۔ مہنگائی بھلے ہی پورے ہندوستان کو بے حال کیے ہو، عام ہندوستانی کا بجٹ بگڑ گیا ہو، دو وقت کی روٹی حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہو، لیکن مودی حکومت کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ سپریا شیرینیت نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’بحران سے نبرد آزما ملک پر ایک بار پھر سے مودی حکومت نے مہنگائی کا حملہ کیا ہے۔ رسوئی گیس کی قیمت 25 روپے سلنڈر بڑھا کر 859 روپے فی سلنڈر تک پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ 10 مہینوں میں لگاتار 7 بار اس کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ نومبر 2020 سے اب تک رسوئی گیس کی قیمت 265 روپے فی سلنڈر بڑھ گئی ہے۔‘‘

پریس کانفرنس سے خطاب کرتی ہوئی کاگنریس ترجمان سپریا شرینیت
پریس کانفرنس سے خطاب کرتی ہوئی کاگنریس ترجمان سپریا شرینیت

غور طلب ہے کہ یکم اگست 2020 سے نومبر 2020 تک ایل پی جی گیس کی قیمتیں 594 روپے پر مستحکم تھیں۔ اس کے بعد قیمتوں میں لگاتار تیزی آنے لگی۔ سال 2021 میں فروری سے اب تک رسوئی گیس کی قیمتوں میں فی سلنڈر 80.50 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فروری میں رسوئی گیس کی قیمتوں میں دو بار اضافہ ہوا تھا۔ پہلے قیمت 831.50 روپے ہوئی، 25 فروری کو سلنڈر کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہوا۔ تب قیمت 856.50 روپے ہو گئی۔ کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت 5 مہینے میں 115 روپے بڑھ چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔