دلاسہ سب نے دیا مگر کام جمعیۃعلماء ہند نے کیا، گھر کی چابیاں وصولنے کے بعد سیلاب متاثرین کا تاثر

صدر بلدیہ اسنیہا دیدی جگتاپ نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ علماء کے درمیان بیٹھی ہوں مولانا ارشد مدنی کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارہ اٹوٹ رہے گا۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: 2022 لوگ آئے دلاسہ دے کر چلے گئے مگر کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا، یہ مجموعی تاثرمہاڈ کوکن کے ان سیلاب متاثرین کا ہے جنہیں گزشتہ روز صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے خود اپنے ہاتھوں سے نوتعمیر ومرمت شدہ گھروں کی چابیاں سپرد کیں، واضح ہوکہ کوکن مہاڈ کے علاقہ میں جولائی 2021 میں آئے تاریخ کے اس بھیانک سیلاب سے سیکڑوں گھروں کا نام ونشان مٹ گیا تھا، کچھ لوگوں نے تو کسی مدد کے بغیر اپنے گھر کی تعمیر کروائی تھی لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو کسی مدد کے بغیر ایسا نہیں کرسکے تھے، جمعیۃ علماء ہند اپنی دیرینہ روایت کے مطابق ابتدائی سے ریلیف وامداد کا کام بلاتفریق مذہب وملت جاری رکھا تھا۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے نگرانی میں وہاں ایک تعمیراتی منصوبہ شروع کیا گیا تھا، اوراس کی کئی ٹیموں نے مل کر سیلاب متاثرہ علاقہ کا دورہ کرکے ایک سروے رپورٹ تیار کی تھی جس کی بنیاد پر 45 مکانات کی تعمیر و مرمت کا کام شروع ہوا اور تمام تیارشدہ مکانوں کی چابیاں گزشتہ روز متاثرین کے حوالہ کی جاچکی ہیں، جن میں نئے تعمیر شدہ 18 مکانات برادران وطن کے ہیں، متاثرین کو چابیاں سپرد کرنے کے تعلق سے مہاڈ کے امبیڈکر ہال میں ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں علماء، مقتدر شخصیات اور سماجی کارکنان کے علاوہ شیوسینا کے ایم ایل اے اور مہاراشٹرا گورنمینٹ کی منسٹر اور میئر نے شرکت کی۔


مولانا مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃعلماء ہند 1919 سے اپنا وجود رکھتی ہے، اس وقت اس کی جو دستورسازی ہوئی وہ اب بھی وہی ہے، اس کی بنیادی دفعہ میں ہندوستان میں محبت، اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لئے عملی کوشش کرنے کی ہدایت موجود ہے، جمعیۃ علماء ہند ہر زمانہ میں ملک کی آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد اپنے اسی دستور پر قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گی، ملک کے موجودہ حالات بے حد خراب ہیں، آج پورے ملک میں آسام ہو، اترپردیش ہو، بہار ہو، دہلی ہو یا مدھیہ پردیش ہر جگہ مذہبی شدت پسندی اور منافرت کا کھیل جاری ہے، حالات کو انتہائی دھماکہ خیز بنا دیا گیا ہے، لیکن جمعیۃ علماء ہند کا دستور اور کردار ایسا نہیں ہے، ہم ہرجگہ لوگوں کو اس بات کی ہدایت کرتے ہیں کہ آگ کو آگ سے بجھایا نہیں جاسکتا، بلکہ آگ کو بجھانے کے لئے اس پر پانی ڈالنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ نفرت کی سیاست کھیل رہے ہیں، قتل وغارت گری کر رہے ہیں، جگہ جگہ مار دھاڑ کر رہے ہیں، اپنی کرسی بچانے کے لئے ہندو۔مسلم کی لڑائی کرا رہے ہیں، لیکن ہم سب سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے، ہم نے مذہب کی بنیاد پر کبھی کوئی تفریق نہیں کی، اس ضمن میں مغربی بنگال، کیرالہ اور کرناٹک وغیرہ میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کا انہوں نے حوالہ دیا اور کہا کہ ہر جگہ سب سے پہلے مصیبت زدہ کے درمیان جمعیۃ علماء اور اس کے لوگ پہنچے اور ہر جگہ انہوں نے ریلیف و امداد کا کام بلاتفریق مذہب وقوم کیا۔


مولانا مدنی نے آگے کہا کہ مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان، بلکہ جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو بلاتفریق وہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اس لئے جمعیۃ علماء جو بھی کام کرتی ہے اس میں مذہب کی کوئی تفریق نہیں کرتی انسانیت کی خدمت ہی اس کا نصب العین ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ آج یہاں وزیر آدیتی تائی تٹکرے، ایم ایل اے بھرت سیٹھ گوگاولے اور صدر بلدیہ اسنیہا جگتاپ کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم سب انسانیت کی بقا کے لئے کام کرتے ہیں اسی جذبہ نے یہاں ہم سب کو ایک ساتھ بیٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہمارے کسی کام میں کبھی روکاوٹ نہیں ڈالی اس لئے کہ جمعیۃ علماء کی ایک تاریخ ہے، ملک کی آزادی میں اس نے کانگریس سے دوقدم آگے بڑھ کر کام کیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں کھل کر کرتے ہیں، ہمارا کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے، ملک کے موجودہ حالات کے پس منظرمیں مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان میں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ رہتے آئے ہیں، شہرہی نہیں گاؤں درگاؤں آپ جاکر دیکھیں وہاں ہندو اور مسلمان دونوں مل جل کر رہتے ہیں، مگر برا ہو فرقہ پرست ذہنیت کا، انہوں نے آج اپنی پرانی تاریخ کو آگ لگا دینے کی ٹھان لی ہے، ہم ان حالات کے اندر بھی کھل کر اپنی بات کہتے ہیں کیونکہ ہمارے دل دماغ میں ہندو-مسلم کی کوئی تفریق موجود نہیں ہے، ہم بطور انسان بلاتفریق ہر مصیبت زدہ کی مدد کرنا اپنے لئے باعث اطمینان سمجھتے ہیں اور ملک کی پرانی تاریخ کو اپنے سامنے رکھتے ہیں۔


انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کو پیارومحبت کی طاقت سے ہی آزاد کرایا گیا تھا، آزادی کے متوالوں نے جگہ جگہ اس کے لئے اپنا خون پانی کی طرح بہا دیا تھا، آزادی کے لئے بہنے والا یہ خون تنہا ہندو کا نہیں تھا، تنہا مسلمان کا نہیں تھا، بلکہ یہ دونوں کا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ساتھ اسی پرانی تاریخ کو لیکر چلتے ہیں جب تک زندہ ہیں چلتے رہیں گے، نفرت کی سیاست کو نفرت سے نہیں مٹایا جاسکتا بلکہ اسے پیارومحبت سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور مذہب کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد قابل قبول نہیں ہوسکتا، انہوں نے کہا کہ مذہب انسانیت، رواداری، محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے، اس لئے جو لوگ اس کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کے لئے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہوسکتے ہیں، مولانا مدنی نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ نفرت سے ملک تباہ وبرباد ہو جائے گا، پڑوسی ملک سری لنکا کو نفرت ہی کی سیاست نے برباد کیا ہے، نفرت کے سوداگروں کو سری لنکا سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ ہم یہ باتیں اس لئے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے اور ہم اسے سرسبز و شاداب اور پھلتا پھولتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

مولانا مدنی نے دہلی میں میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فرقہ پرست عناصر اور ملک کا متعصب میڈ یا دونوں مل کر ملک کے امن واتحاد اور یہاں کی صدیوں پرانی روایت سے جو خطرناک کھلواڑ کر رہے ہیں اس نے ملک بھر میں ایک بار پھر منافرت کی خلیج کو بہت گہرا کر دیا ہے، مولانا مدنی نے مزید کہا کہ فرقہ پرست عناصر نفرت کی جو چنگاری بھڑکاتے ہیں میڈیا کا ایک بڑا حلقہ اپنی غیر ذمہ دارانہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ سے اسے شعلہ بنا دیتا ہے، ٹی وی اسکرین پر صحافتی واخلاقی اصولوں کا ہر روز خون کیا جا رہا ہے مگر افسوس جن ہاتھوں میں اس وقت ملک کے آئین و قانون کی بالا دستی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے، انہوں نے اپنے کان اور آنکھ دونوں بند کر رکھے ہیں۔


مولانا مدنی نے آگے کہا کہ میڈیا جو کچھ کر رہا ہے اس سے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ داغ دار ہو رہی ہے، بعض معاملوں میں پہلے بھی عدلیہ میڈیا کے رویوں اور کردار کو لیکر سخت تبصرے اور شر زنش کر چکی ہے مگر ملک کا میڈ یا خود کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہے، انہوں نے گیان والی مسجد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سروے میں کسی چیز کے برآمد ہونے کی خبر آئی بس پھر کیا تھا میڈ یا نے یکطرفہ شرانگیز مہم شروع کر دی اور جو کام عدلیہ کا ہوتا ہے وہ خود کرنے لگا، مولانا مدنی نے کہا کہ ہم لگا تار یہ بات کہتے آئے ہیں کہ ان کی پشت پر اقتدا میں بیٹھے بعض طاقتور لوگوں کا ہاتھ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ میڈیا کو نہ تو ملک کے قانون و وقار کی کوئی پرواہ ہے نہ ہی عدلیہ کا کوئی خوف اور ڈر، میڈیا کی شرانگیزیوں پر لگام دینے کے غرض سے ہی جمعیہ علماء ہند نے 6 اپریل 2020 میں سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی، اب تک تیرہ سماعتیں ہو چکی ہیں مگر ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے اس پر حتمی بحث نہیں ہو پاتی، سپریم کورٹ میں 20جولائی کو جمعیۃ کی پٹیشن پر الگ سے سماعت متوقع ہے۔

مولانا مدنی نے آخر میں کہا کہ اگر اب بھی میڈیا پر نکیل نہیں لگائی گئی اور اسے آزاد رکھا گیا تو پھر وہ دن دور نہیں جب متعصب میڈیا اپنی اس روش سے ملک کے امن واتحاد کو پوری طرح تارتار کرچکا ہوگا۔ اور تب یہ ملک کی سالمیت اور یکجہتی کے لئے ایک بڑاخطرہ بن جائے گا اور اس وقت تک کافی تاخیر ہوچکی ہوگی۔

ابتداء میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی نے رپورٹ میں کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کے حکم سے ہماری ٹیم نے کام شروع کیا جو آج پائے تکمیل کو پہنچا ہے، ریاستی وزیر آدیتی تائی تٹکرے نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں مولانا ارشد مدنی اور ان کی ٹیم کی شکر گزار ہوں کہ اتنا بڑا کام متاثرین اور غریبوں کے لئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جتنا سرکار نے نہیں کیا اس سے کہیں زیادہ جمعیۃ علماء نے سیلاب متاثرین کے لئے کیا، میں اس کی گواہ ہوں اور جہاں تک انتظامیہ نہیں پہنچا، وہاں جمعیۃ علماء کے لوگ پہنچے، حالانکہ سرکار ہمیشہ الرٹ پر رہتی ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ آپ لوگ الرٹ پر ہیں، ہم اسی طرح مل جل کر کام کرتے رہیں گے تو نفرت پھیلانے والے خود کمزور ہوجائیں گے۔


صدر بلدیہ اسنیہا دیدی جگتاپ نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ علماء کے درمیان بیٹھی ہوں مولانا ارشد مدنی کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارہ اٹوٹ رہے گا کیونکہ جمعیۃ نے ذات پات نہ دیکھ کر انسانیت کی بنیاد پر کام کیا ہے، میں اس جماعت کے لئے جو بھی ممکن ہوگا کرتی رہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں صدر بلدیہ ہوں مگر یہ ہمارے اختیار میں بھی نہیں تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی تباہی کو جھیل سکیں اور سب کی مدد کر سکیں یہ تو جمعیۃ علماء کی ہمت اور قوت تھی کہ وہ پہلے دن سے آج تک مسلسل کام کر رہی ہے میں ان کی شکر گذار ہوں اور ان کے کام سے مجھے یہ توانائی ملی ہے کہ نفرت پھیلانے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

مقامی ایم ایل اے بھرت سیٹھ گوگاولے نے کہا کہ مولانا مدنی کو دیکھ کر مجھے قوت ملتی ہے کہ 90 سال کی عمر ہونے کے باوجود یہ کس قدر لوگوں کی مدد کے لئے فکر مند رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب جس طرح بھیانک تھا اور تباہی جتنی بڑی تھی اسے دیکھ کر یہ نہیں لگتا تھا کہ متاثرین اتنے جلدی پھر کھڑے ہوجائیں گے مگر یہ جمعیۃ علماء ہی ہے جس نے دن رات محنت کر کے انہیں کھڑا کیا ہے، انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ ہندو ہے یا مسلمان، بلکہ سب کی ایک طرح سے مدد کی، یہ دیکھ کر مجھے فخر ہوتا ہے کہ ہمارا مہاراشٹر امن و شانتی اور آپسی بھائی چارہ کا گہوارہ ہے۔ نظامت کے فرائض مفتی اصغر کھوپٹکر نے انجام دیئے، جبکہ پروگرام میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی ضلعی کمیٹیاں بھی شریک تھیں، ان میں رائے گڑھ جمعیۃ علماء نے مہاراشٹر جمعیۃ علماء کا بھر پور تعاون کیا۔ پروگرام میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سبھی عہدیداران بھی موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔