گیان واپی مسجد، شاہی عیدگاہ اور میڈیا کی فرقہ واریت... سہیل انجم

گودی میڈیا کے صحافی گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ معاملوں کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں میں نفرت انگیزی بڑھے اور یہ سلسلہ 2024 کے پارلیمانی انتخابات تک چلتا رہے۔

تصویر بشکریہ ڈیکن ہیرالڈ
تصویر بشکریہ ڈیکن ہیرالڈ
user

سہیل انجم

فرقہ واریت کا زہر اب رفتہ رفتہ پورے ملک میں سرائت کرتا جا رہا ہے۔ اب تو تعلیم یافتہ افراد بھی واٹس ایپ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے لگے ہیں۔ صورت حال اتنی خطرناک ہو چکی ہے کہ ذہنی طور پر معذور ایک شخص کو محض اس لیے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے کہ اس پر مسلمان ہونے کا شبہ ہے حالانکہ وہ جین ہندو نکلا۔ گویا اب اس ملک میں مسلمان ہونا ایک ایسا جرم ہو گیا ہے کہ اگر کوئی خود کو مسلمان کہے تو اس کی شمع حیات گل کر دو۔ کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کی یہ بات بالکل بجا ہے کہ پورے ملک میں مٹی کا تیل چھڑک دیا گیا ہے۔ ایک چنگاری پورے ملک کو بھسم کر سکتی ہے۔ ان کی اس حقیقت بیانی پر بی جے پی رہنما بوکھلائے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتاہے کہ ان کے تلوؤں میں آگ لگی ہے اور سر تک پہنچی ہے۔ لیکن ملک کا ہر امن پسند اور سمجھدار شخص راہل گاندھی کی بات کی تائید کر رہا ہے۔

میڈیا کو پوری دنیا میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسے قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں وہاں کے صدر سے بھی چبھتے ہوئے سوالات کیے جا سکتے ہیں اور اگر صدر کسی صحافی کے خلاف کوئی ایکشن لے لے تو وہاں کی عدلیہ صدر کے فیصلے کو پلٹ دیتی ہے۔ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مثال سامنے کی ہے۔ ایوان صدر میں سی این این کے ایک رپورٹر نے ان سے ایسا چبھتا ہوا سوال کیا تھا کہ وہ بلبلا اٹھے تھے اور پھر انھوں نے اس کا پریس آئی کارڈ ضبط کر لیا تھا۔ سی این این نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے صدر کو صحافی کا کارڈ واپس کرنے کی ہدایت دی۔ گویا عدلیہ نے صحافی کے سوال کی تائید اور صدر کے ایکشن کی مخالفت کی۔


لیکن ہندوستان میں ایسا ناممکن ہے۔ عملی نمونہ تو الگ ہے ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ بلکہ اس کے برعکس یہاں کا میڈیا تو ہر معاملے میں حکومت کی حاشیہ برداری میں لگ جاتا ہے اور اس انداز میں حکمراں طبقے کی خوشامد کرنے اور ہاں میں ہاں ملانے لگتا ہے کہ حقیقی صحافی شرمندہ ہو جائیں۔ خاص طور پر جب کوئی معاملہ مسلمانوں سے متعلق ہو تو پھر نیوز چینلوں کے اینکروں اور ان کے رپورٹروں میں زبردست جوش آجاتا ہے اور وہ آگے بڑھ کر بلکہ کود کود کر ایسا ہنگامہ برپا کرتے ہیں کہ مانو اب اس ملک سے مسلمانوں کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی معاملہ سامنے آیا تو گودی میڈیا کے صحافی صحافی کے بجائے صافی بن جاتے ہیں۔ اور مذکورہ معاملے کی اس طرح رگڑائی کرتے ہیں کہ جیسے ایک بھی داغ رہنے نہیں دیں گے۔

ایسے ہر موقع پر وہ حکومت کے نمائندے تو بنتے ہی ہیں وشو ہندو پریشد، بی جے پی، بجرنگ دل، ہندو سینا اور پورے سنگھ پریوار کے بھونپو بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی غیر جانبدارانہ روش ترک کرکے ایک کٹر ہندو کا لباس زیب تن کر لیتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیتے ہیں۔ تازہ واقعہ بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کا ہے۔ جب بنارس کی سول عدالت نے چھ خواتین کی ایک درخواست پر گیان واپی مسجد کے سروے کا حکم دیا تو اسی وقت سے گودی میڈیا والے اچھلنے لگے اور ایسا باور کرانے لگے کہ بس اب گیان واپی مسجد کا وجود ختم ہونے والا ہے۔ حالانکہ مذکورہ خواتین نے مسجد کی مغربی دیوار پر گوری شرنگار کی شبیہ کی یومیہ پوجا کی اجازت مانگی تھی۔ لیکن عدالت نے کئی قدم آگے بڑھ کر مسجد کے سروے کا ہی حکم دے دیا۔


جب سروے کے دوران مسجد کے حوض کا پانی نکالا گیا اور وہاں ایک ٹوٹا ہوا فوارہ ملا تو اسے فوراً شیو لنگ بتا دیا گیا۔ حالانکہ شیو لنگ میں اور اس فوارہ میں بہت فرق ہے۔ بہت سے ہندو خود کہہ رہے ہیں کہ وہ شیو لنگ نہیں ہے۔ کیونکہ شیو لنگ کا آکار ویسا نہیں ہوتا۔ لیکن گودی میڈیا اسے شیو لنگ ثابت کرنے میں ہندو فریقوں سے بھی آگے بڑھ گیا۔ نیوز چینلوں کے اسٹوڈیو میں نام نہاد ماہرین بلا کر بٹھائے جانے لگے اور ان سب سے یہ کہلوانے کی کوشش کی جانے لگی کہ وہ شیو لنگ ہی ہے۔ جو لوگ اسے شیو لنگ ماننے سے انکار کرتے ہیں ان کی باتیں سنی نہیں جاتیں، ان کے منہ پر تالے جڑ دیئے جاتے ہیں۔

شروع ہی میں جب یہ افواہ اڑی کہ مسجد کے حوض میں شیو لنگ پایا گیا ہے تو گودی میڈیا کے اینکر چیخنے چلانے لگے کہ بابا مل گئے، بابا مل گئے، بھولے ناتھ مل گئے۔ بعض اینکروں نے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیا کہ بابا مل گئے لیکن وہاں جل ابھیشیک کب ہوگا۔ یعنی اس نام نہاد شیو لنگ پر جل کب چڑھایا جائے گا۔ یعنی وہاں پوجا کب ہوگی۔ گودی میڈیا والے ہندو فریق کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے گیان واپی مسجد کو گیان واپی مندر کہنے لگے ہیں۔ بالکل ایودھیا کی کہانی دوہرائی جا رہی ہے۔ وہاں بھی مسجد کو پہلے متنازع مسجد کہی گئی۔ پھر ڈھانچہ کہا گیا اور پھر مندر کہا گیا۔ اسی طرح گیان واپی مسجد کو بھی اب مندر کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔


نام نہاد شیو لنگ کے نام پر گودی میڈیا نے پورے ملک کے ہندوؤں کے جذبات مشتعل کر دیئے ہیں۔ اس نے اس سے پہلے کہ سروے رپورٹ عدالت میں داخل ہوتی اس کے حصوں کو عام کرنا شروع کر دیا۔ سروے کرنے والوں نے اندر اندر بہت سی چیزیں میڈیا کو لیک کر دیں۔ میڈیا نے اس کا فائدہ اٹھایا اور وہ اپنی ٹی آر پی بڑھانے اور مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرنے میں مصروف ہو گیا۔ بعض میڈیا اداروں نے یہ کہہ کر تصویریں اور ویڈیوز دکھانی شروع کر دیں کہ یہ ہماری ایکسکلیوسیو ہیں۔ یعنی ہم نے خود یہ تصویریں اور ویڈیوز لی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے تو پھر میڈیا کیسے اپنے طور پر یہ سب کچھ کر رہا ہے۔

جس طرح بابری مسجد معاملے میں کیا گیا تھا بالکل اسی طرح اس معاملے میں بھی کیا جا رہا ہے۔ وہاں رام جی کو قید خانے میں دکھایا جا رہا تھا یہاں شیو لنگ کو قید خانے میں دکھایا جا رہا ہے۔ وشوناتھ مندر میں نندی یعنی اس بیل کا مجسمہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شیو کی سواری ہے۔ اس بیل کا چہرہ مسجد کی دیوار کی طرف ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر اس انداز میں مجسمہ بٹھایا گیا تھا۔ اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نندی اور شیو لنگ کے درمیان کی دیوار توڑ دی جائے۔ بعض نیوز چینل اس معاملے کو اس طرح دکھا رہے ہیں کہ شیو لنگ لوہے کی جالیوں میں قید ہے اور اس پنجرے کے باہر نندی بیٹھا ہوا ہے اور حسرت بھری نظروں سے شیو لنگ کو دیکھ رہا ہے۔ اس طرح اسے پیش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک جذباتی ماحول بنایا جائے۔


اسی طرح جب متھرا کی ایک عدالت نے اس اپیل کو سماعت کے لیے منظور کر لیا جس میں کہا گیا ہے کہ شاہی عید گاہ مند رکو توڑ کر بنائی گئی تھی تو گودی میڈیا کا جوش دوگنا ہو گیا۔ اب وہ گیان واپی مسجد کے ساتھ ساتھ متھرا کی عیدگاہ کے بارے میں بھی ہفوات بکنے لگا ہے۔ ابھی تک یہ پوچھا جا رہا تھا کہ گیان واپی میں پوجا کی اجازت کب ملے گی اب کہا جا رہا ہے کہ متھرا کی شاہی عیدگاہ کب ہٹائی جائے گی اور وہاں کرشن مندر کب بنے گا۔ اس معاملے کو مزید جذباتی اور سنسنی خیز بنانے کے لیے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس جگہ شاہی عیدگاہ تعمیر کی گئی وہاں ماما کنس کی جیل تھی اور اسی جیل میں کرشن جی پیدا ہوئے تھے۔ گویا ایک نہیں دو دو جذباتی معاملے مل گئے ہیں اور ہندو فریقوں کے دعوؤں کو گودی میڈیا اپنی رپورٹوں کے توسط سے مزید تقویت فراہم کر رہا ہے۔

اس طرح گودی میڈیا اپنے فرض منصبی کو ترک کرکے وشو ہندو پریشد، بی جے پی، بجرنگ دل، ہندو سینا اور پورے سنگھ پریوار کے ایجنڈے کو مکمل کرانے میں لگ گیا ہے۔ بیشتر اینکروں اور رپوٹروں نے خود کو غیر جانبدار صحافی کے بجائے ہندو ایکٹیوسٹ بنا لیا ہے۔ وہ اب سماج کے نمائندے نہ رہ کر ایک مذہب کے نمائندے ہو گئے ہیں۔ اور ان دونوں معاملوں کو اس جذباتی انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں میں نفرت انگیزی بڑھے اور یہ سلسلہ 2024 کے پارلیمانی انتخابات تک چلتا رہے تاکہ بی جے پی کو اس سے انتخابی فائدہ حاصل ہو۔ گویا یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ گودی میڈیا کے صحافی اب سنگھ پریوار کے سیاسی کارکن بن گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔