یوگی آدتیہ ناتھ: یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں... اعظم شہاب

یوگی جی کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ ڈاکٹر کفیل کے معاملے میں خاموشی اختیار کرلیں ورنہ ہزیمت و رسوائی کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوسکتا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

ڈاکٹر کفیل خان کے ہاتھوں پھر ایک بار یوگی آدتیہ ناتھ کی ذلت و رسوائی پر بے ساختہ یہ مصرع یاد آگیا ’یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا‘۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ میری طرح ان دونوں کا تعلق بھی گورکھپور سے ہے، لیکن ان میں سے ایک اصلی گورکھپوری ہے اور دوسرا نقلی۔ کوئی اگر یہ سوچتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا آبائی وطن گورکھپور سے ہے تو اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ یوگی جی کا نام اور وطن دونوں جعلی ہیں۔ فاریسٹ رینجر آنند موہن بشٹ کے بیٹے یوگی آدتیہ ناتھ کا اصلی نام اجئے موہن بشٹ ہے۔ ان کی پیدائش اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال میں ہوئی اور وہیں سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ گورکھپور آکر مہنت اویدیہ ناتھ کے شاگرد بن گئے۔ اویدیہ ناتھ ہندو مہاسبھا کے رہنما تھے اور کئی بار پارلیمانی انتخاب جیت چکے تھے۔ جن سنگھ نے انہیں اپنی پارٹی میں لیا۔ اپنے گرو کی موت کے بعد آدتیہ ناتھ نے ان کی بنی بنائی سیاسی وراثت پر قبضہ کرلیا اور گورکھ ناتھ مندر کے نام پر انتخاب جیتنے لگے۔ راجناتھ کے اثرات کو زائل کرنے کی خاطر مودی اور شاہ نے ان کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ اس طرح ان کی حالت ’خدا مہربان تو بندہ پہلوان‘ کی ہے۔

گورکھپور کے اصلی باشندے ڈاکٹر کفیل کے والد شکیل احمد خان اترپردیش کے شعبہ آبپاشی میں انجینیئر تھے۔ ان کے ایک بھائی کاشف جمیل خان نے ایم بی اے اور ایم سی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور چھوٹا بھائی ڈاکٹر فضیل خان بھی ہڈیوں کے ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر کفیل خان کی ایک بہن مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں جبکہ دوسری بہن نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ ڈاکٹر خان نے منی پال سے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی اور 2013 میں واپس گورکھپور آ گئے۔ ان کے آنے کا مقصد شمالی مشرقی اترپردیش میں ڈپتھیریا، ڈائریا، خسرہ، چیچک اور فلو جیسے امراض سے لوگوں کو بچانا تھا۔ 2013 سے اپریل 2016 تک انہوں نے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد اپنے نجی اسپتال میں کام کیا اور اسی سال 8؍ اگست کو بی آر ڈی میں بچوں کے شعبہ امراض کے اندر اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے۔ اس پس منظر سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دونوں کی تعلیم و تربیت اور تہذیب و تمدن میں کتنا فرق ہے۔


10؍ اگست 2017 کی شب بی آر ڈی اسپتال میں چار سو بچے زیر علاج تھے ان میں سے 53 وینٹیلیٹر پر تھے۔ ان میں 70 بچے ہلاک ہوگئے مگر ڈاکٹر کفیل نے رات بھر دوڑ دھوپ کرکے 500 آکسیجن سلنڈرس کا بندوبست کیا۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان نامی ہندی اخبار نے ڈاکٹر کفیل کی تصویر شائع کرتے ہوئے انہیں مسیحا کے خطاب سے نوازا اور یوگی آدتیہ ناتھ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 13 ؍اگست کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اسپتال کے دورے پر آئے اور ڈاکٹر کفیل کو بلوا کر پوچھا 'تو، تو ہے ڈاکٹر کفیل؟ تو سلنڈر لایا تھا؟ تو سلنڈر لا کر سمجھتا ہے تو ہیرو بن جائے گا، دیکھتا ہوں تجھے'۔ اس یوگی کے چولے میں چھپے انا پرست کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا اور ڈاکٹر کفیل کی آزمائشوں کے دور کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر کفیل خان کو 2 ستمبر 2017 کو بی آر ڈی اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بچوں کی اموات کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔

نو مہینے بعد 25 ؍اپریل 2018 کو الہ باد ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت دےدی تو پھر سے 23 ستمبر 2018 کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ ہائی کورٹ نے پھر سے ضمانت دی تو 29 جنوری 2020 کو سی اے اے کے خلاف تقریر کے بہانے پھر گرفتار کرلیا گیا۔ اس معاملے میں جس دن ضمانت ہوئی اسی دن ان پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کرکے رہائی پر روک لگا دی گئی۔ اس کیس میں پچھلے سال یکم ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے قومی سلامتی کے اطلاق کو غیر قانونی قرار دیا تو اترپردیش اور مرکزی حکومت نے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے کی گہار لگائی، لیکن سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کے بغیر یہ کہہ دیا کہ ’ وہ اس میں مداخلت نہیں کریں گے‘۔ اس طرح ڈاکٹر کفیل کے ہاتھوں یوگی کے ساتھ ساتھ مودی کو بھی رسوا ہونا پڑا۔


ڈاکٹر کفیل پر لگائے گئے الزامات کی تفتیش کرکے چیف سکریٹری ہمانشو کمار نے 15 ؍اپریل 2019 کو جانچ رپورٹ پیش کی۔ اس میں بتایا گیا کہ وہ اسپتال کے سب سے جونیئر ڈاکٹر تھے۔ سانحے کے دن چھٹی پر ہونے کے باوجود انہوں نے بچوں کی جان بچانے کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ 500 سلنڈروں کا انتظام کیا اور اپنی ساری صلاحیت جھونک دی۔ ڈاکٹر کفیل کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کیونکہ وہ آکسیجن فراہمی کی ادائیگی/ حکم/ ٹنڈر/ رکھ رکھاؤ کے لیے ذمہ دار نہیں تھے۔ وہ تو وارڈ کے چیف بھی نہیں تھے۔ ان کے خلاف نجی پریکٹس، لاپروائی اور بدعنوانی کے سارے الزامات بے بنیاد اور غلط نکلے۔ اس کے باوجود ان سے معافی مانگ کر ملازمت بحال کرنے کے بجائے ریاستی حکومت نے 11 ؍مہینے تک کوئی کارروائی نہیں کی اور 24 فروری 2020 کو ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف پھر سے جانچ کا حکم دے دیا۔ اس کے خلاف ڈاکٹر کفیل نے عدالت سے رجوع کیا تو یوگی انتظامیہ ڈر گئی۔ نئی تفتیش واپس لے کر پرانی رپورٹ قبول کرلی جو ڈاکٹر کو بے قصور مانتی ہے۔ اس طرح یوگی جی چاروں خانے چت ہوگئے۔ اس طرح اس پورے معاملے میں یوگی جی کو مسلسل ہزیمت پر ہزیمت برداشت کرنی پڑ رہی ہے لیکن انا وتکبر کوئی ضروری تھوڑی ہے کہ کیسریا لبادے میں دب جائے۔ وہ تو عدالتوں کے فیصلوں کے درمیان بھی اپنی تسکین کی راہ تلاش کرلیتا ہے۔ اسی تسکین کے سبب وہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک گئے لیکن عدالت نے انہیں زوردار طمانچہ رسید کر دیا ہے۔ اب یوگی جی کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ ڈاکٹر کفیل کے معاملے میں خاموشی اختیار کرلیں ورنہ ہزیمت ورسوائی کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوسکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔