لئیق رضوی، کربلائی ادب اور دریافت کے نئے دریچے... معین شاداب

لئیق رضوی نے لوک مرثیے کی صدیوں پرانی روایت کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں جائزہ لیا ہے۔ عہد بہ عہد تبدیل ہوتی اس کی مختلف صورتوں سے آشنا کرایا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ ملک محمد جائسی کو شامل کیا گیا۔

تصویر معین شاداب
تصویر معین شاداب
user

معین شاداب

نوحے اور مرثیے پر تحقیقی اور تنقیدی کام کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی ادبی نقد و تحقیق کی روایت لیکن لئیق رضوی کی تصنیف ’عوامی مرثیے کی روایت‘ اس اعتبار سے اپنی نوعیت کی پہلی تحقیقی کاوش ہے کہ انہوں نے رثائی ادب کے ڈانڈے اردو کے وجود میں آنے سے قبل کی ہندوستانی بولیوں سے جوڑے ہیں۔ آثار وقرائن اس بات کی طرح اشارہ کرتے رہے ہیں کہ اردو مرثیے کی بنیادیں ہندوستانی مٹّی میں ہی پیوست ہیں۔ محققین عام طور پر ہندوستان میں مرثیے کا نکتہ آغاز ملّا وجہی اور قلی قطب شاہ وغیرہ کے یہاں تلاش کرتے ہیں لیکن یہ بنیادیں ذرا اور گہری ہیں۔ لئیق رضوی نے ہندوستان میں مرثیے کی جڑوں کو دریافت کیا ہے۔

ہندوستان میں مرثیے کا آغاز اردو زبان سے نہیں ہوتا بلکہ اردو کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کی مختلف زبانوں میں مرثیہ لوک گیتوں کی شکل میں موجود تھا۔ محققین کو اس کا اندازہ تھا لیکن اسے نہ جانے کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو عربی اور فارسی کا زور رہا، دوسرے اردو ادب کی نستعلیق تہذیب نے اس لوک ورثے کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ اس طرح یہ قدیم رثائی سرمایہ سمٹتا چلا گیا۔


جن لوگوں نے لوک گیتوں پر کام کیا ہے انہوں نے لوک رثائی ادب یا عوامی مرثیے کے خال خال اشارے ضرور دیئے ہیں۔ بعض لوگوں نے محرم کے گیت وغیرہ کے ضمن میں انہیں رکھا ہے لیکن ان پر کوئی منصوبہ بند تحقیقی یا تنقیدی کام نہیں ہوا۔ مرثیے اور نوحے کے ناقدین نے عوامی مرثیے کی اہمیت کا تذکرہ تو ضرور کیا ہے اور اس پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے لیکن کسی کویہ توفیق نہ ہو سکی۔ اظہر علی فاروقی نے اس پر تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ جو کچھ اور کام بھی لوک گیتوں پرسامنے آئے ہیں اس میں محرم کے گیت بھی مل جاتے ہیں۔ اظہر فاروقی کا کام اس لحاظ سے بہتر ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے کچھ چیزیں جمع کی ہیں۔ لیکن ان کا مقصد عوامی گیتوں پر کام کرنا تھا مرثیوں پر نہیں۔ کچھ برس قبل ایک اور کتاب دکنی لوک گیتوں پر آئی ہے جس میں دو دو چار چار مصرعوں کے ایک دو گیت شامل ہیں۔

تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لوک گیتوں کی ایک مضبوط روایت ہے۔ ان گیتوں میں رثائی مواد بھی موجود ہے لیکن وہ نظر انداز ہوتا رہا۔ جبکہ اسے منظر عام پر لانے کی ضرورت تھی۔ لئیق رضوی نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور سنجیدگی و تن دہی سے اس پر کام شروع کیا۔ اس تعلق سے ان کے کچھ مضمون ادھرادھر شائع ہوئے۔ سہ ماہی ’فکرو تحقیق‘ میں’دہے‘ پر ان کا تحقیقی مقالہ چھپا تھا۔ جس کا عنوان تھا ’عوامی مرثیہ دہا: روایت اور آداب‘۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے محرم نمبر میں لئیق رضوی کا ایک مضمون ’نوحہ حسین کے عوامی رنگ‘ شائع ہوا۔ اب اس اہم موضوع پر ان ایک پوی کتاب ’عوامی مرثیے کی روایت‘ شائع ہوگئی ہے۔


’عوامی مرثیے کی روایت‘ ایک پر مغز تصنیف ہے جو کربلائی ادب کے ذیل میں دریافت کے نئے دریچے بناتی ہے۔ یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس کا ہر باب اہمیت کا حامل ہے۔ پہلے باب میں ’ہندوستان میں عزاداری کی تاریخ‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ’عزاداری میں ہندوستان‘ کے مختلف رنگوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔ تیسرا باب ’غم حسین کے عوامی اظہارات‘ کا محاکمہ کرتا ہے۔ جبکہ چوتھے باب میں ’عوامی مرثیے کے ر نگ، روپ اور رویّے‘ سے بحث کی گئی ہے۔ پانچویں، چھٹے اور ساتویں باب میں بالترتیب شمالی ہند، بنگال اور دکن میں مرثیے کے آغاز اور ارتقا پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کا آٹھواں اور نواں حصہ ’دہے‘ اور ’زاری‘ پر مرکوز ہے۔ جس میں ان عوامی اصناف کے آثار ڈھونڈے گئے ہیں۔ دسویں باب میں ’اردو ررثائی شاعری پرعوامی اثرات‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ ’عوامی مرثیے‘ کا انتخاب ہے۔ انّیس صفحات پر مشتمل لوک مرثیوں کا یہ ذخیرہ اپنی مثال آپ ہے جسے لئیق رضوی نے برسوں کی تلاش و جستجوکے بعد جمع کیا ہے۔

لئیق رضوی اپنی اس کتاب میں ’ہندوستان میں عزاداری‘ کے ساتھ ساتھ’ عزاداری میں ہندوستان‘ کے پہلو کو بھی ابھارتے ہیں۔ اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کے زیر اثرمرثیے اور نوحے کے دیسی رنگوں سے بھی وہ متعارف کراتے چلتے ہیں۔ انہوں نے عربی فارسی کے قدیم عزائی متن کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بولیوں میں ترتیب دیئے جا رہے دیسی عزائی متن پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس ضمن میں دکن میں ’نوسرہار‘ (شہادت نامہ) اور شمالی ہندوستان میں فضلیؔ کی ’کربل کتھا‘ اور روشن ؔعلی کا ’عاشور نامہ‘ جیسی ابتدائی دیسی چیزوں کا بطور خاص حوالہ دیا ہے۔


ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے اور تہذیبی وثقافتی رنگا رنگی کا حامل ہے چناچہ یہاں کربلا کا غم مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں غم حسین الگ الگ شکلوں میں منایا جاتا ہے۔ غیر مسلموں میں عزاداری اور مراسم کے اپنے اطوار ہیں۔ مصنّف نے ماتمی رقص وموسیقی، سوانگ، اکھاڑے، جھنڈے، گروہ، لنگر، سینہ زنی، آگ اور زنجیری ماتم کی مختلف صورتوں کا ریاست وار تعارف کرایا ہے۔ اس باب میں ’حسینی برہمنوں‘ کا بھی خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔

لئیق رضوی نے لوک مرثیے کی صدیوں پرانی روایت کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں جائزہ لیا ہے۔ عہد بہ عہد تبدیل ہوتی اس کی مختلف صورتوں سے آشنا کرایا ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ ملک محمد جائسی کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ جائسی سے قبل بھاشا کے دیگر شعرا سیّد بھیکہ، قطبین اور تاج بخش کا بھی انہوں نے حوالہ دیا ہے۔


’شمالی ہند میں عوامی مرثیہ‘ ’بنگال میں عوامی مرثیہ‘ اور ’دکن میں عوامی مرثیہ‘ یہ تینوں ابواب اس کتاب کا مغز ہیں۔ مصنف نے ان خطّوں میں عوامی رثائی متن کا تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔عوامی مرثیے کے نام پر پہلے لوگ ’دہے‘ اور ’زاری‘ کو جانتے تھے۔ مرثیے کی اس نوع کی دیگر اصناف سے لوگ کم واقف تھے یا ناواقف تھے جو ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لئیق رضوی نے ساتھ ہی یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اردو مرثیوں اور نوحوں کا موجودہ تاثر اور کیفیت دہے اور زاری ہی کا مرہونِ منّت ہے۔

ہندوستان میں قدیم لوک گیتوں کی کم وبیش ہزار سال پرانی تاریخ ہے۔ عام مرثیے اور نوحے کی موجودگی کے با وجود ایک عوامی دھارا ایسا تھا جو لوک گیتوں میں مرثیہ اور نوحہ کہہ رہا تھا۔ اردو کی رثائی شاعری پر اس لوک ورثے کا کتنا اثر پڑا اس کا تفصیلی جائزہ بھی مصنف نے لیا ہے۔ اس لوک ورثے میں شامل برج بھاشا، اودھی، بھوج پوری، مگہی، پنجابی، بنگلہ، تیلگو، مراٹھی، کشمیری اور دوسری کئی ہندوستانی زبانوں میں عزائی ادب کے نقوش کو ابھارا گیا ہے۔


لئیق رضوی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو مرثیے کی جڑیں عربی فارسی میں کم فوک لٹریچر میں زیادہ ہیں۔ اردو میں رثائی تخلیقات آنے سے پہلے قدیم ہندوستانی بولیوں میں کربلائی گیت بن چکے تھے اور اردو کے وجود میں آنے کے بعد وہی گیت اردو میں منتقل ہوئے۔ بعد کے شعرا نے یہ لہجہ اپنے مرثیوں کی کیفیت بڑھانے کے لیے اختیار کیا۔ خلیفہ سکندرؔ اور سوداؔ نے دیہاتی پنجابی، مارواڑی اور برج بھاشا وغیرہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے مرثیوں میں چار مصاریع اردو میں کہے اور بیت ان دیسی زبانوں کی لگائی۔ ان شعرا نے عوامی بولیوں یا زبانوں سے استفادہ کرکے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں۔ بعد کے شعرا نے بھی اپنے کلام میں زور اور نشتریت پیدا کرنے کے لیے دیہاتی زبانوں سے اجالا لیا۔ بیسویں صدی میں بھی نجمؔ آفندی اور رجاؔ رام پوری (رضا رامپوری) وغیرہ نے اس روایت کی پیروی کی ہے۔ آج بھی اگر آپ دس نوحے یا مرثیے اردو کے پڑھتے ہیں تو وہیں ایک آدھ نوحہ علاقائی زبان میں بھی کہتے ہیں تاکہ بات کو پر اثر بنایا جاسکے۔ دراصل یہ ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی شاعری ہے جو ہمیں اپنے ماضی اور عزائی ادب کی روح سے جوڑتی ہے۔

نایاب اور کم یاب لوک گیتوں کا انتخاب اور یکجائی اس کتاب کا انتہائی اہم حصّہ ہے۔ قدیم دیسی زبانوں میں مختلف صورتوں میں موجود عوامی مرثیوں اور نوحوں کو محفوظ کرنے کی خاطر لئیق رضوی نے دیدہ ریزی کی ہے۔ ان میں بیشتر لوک گیت ایسے ہیں جو تحریری شکل میں دستیاب نہیں تھے لیکن سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے تھے اور ان میں سے کچھ جدید تکنیکی عہد میں ریکارڈنگ کے ضبط میں آگیے تھے۔ انہیں قلم بند کرنے کے لیے لئیق رضوی نے جاںفشانی کی ہے اور اس طرح یہ قدیم اہم سرمایہ پہلی بار تحریر کے ضابطے میں آگیا ہے اور یہ انمول بول محفوظ ہو گیے ہیں۔


یہ کتاب مصنف کی ربع صدی کی جانفشانی اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ان چیزوں کی تحقیق اور بازیافت کے ساتھ ان کی قدرو قیمت کے تعیّن کی قابل قدر کوشش کی ہے۔ یہ کتاب مرثیے کی تاریخ اوراس کی تحقیق کے شعبے میں ایک اضافہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔