اپوزیشن کا اتحاد دیکھ کر برسراقتدار طبقہ کے پسینے کیوں چھوٹ جاتے ہیں!

’بھارت بند‘ کی کامیابی کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ملک کے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بند شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد پریس کانفرنس کر اس کو ’ناکام‘ قرار دے دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے میں آر ایس ایس فیملی کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ایسا ہی کچھ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت مئی 2014 کے بعد سے کر رہی ہے۔ لیکن اس کا ایک فائدہ بھی ہوا ہے اور وہ یہ کہ جس طرح غلامی کے دور میں برطانوی حکومت کے ظلموں کے خلاف ملک کے سبھی لوگ سیاسی اور سماجی نااتفاقی بھلا کر متحد ہوئے تھے، ویسے ہی اب ہو رہے ہیں۔ سیاسی، مذہبی، لسانی اور ذاتیاتی تفریق اور گلے شکوے بھلا کر لوگ ایک اسٹیج پر آ رہے ہیں تاکہ عام لوگوں کی زندگی پر ہو رہے سیدھے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور روپے میں بے حساب گراوٹ کے خلاف ہوئے بھارت بند میں اپوزیشن اتحاد کی طاقت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک بند کا اثر نظر آیا۔ بند کتنا کامیاب تھا، اس کا اندازہ لگانے کے لیے نہ تو کہیں سے تصویریں دیکھنے کی ضرورت پڑی اور نہ ہی کوئی کوئی خبر۔ یہ جانکاری تو خود ملک کے وزیر قانون نے دے دی جب انھوں نے بند شروع ہونے سے محض تین گھنٹے کے اندر ہی پریس کانفرنس کر کے بند کو ’ناکا‘ قرار دے دیا۔

یہ اپوزیشن اتحاد کی گونج تھی کہ جلد بازی میں وزیر قانون ایسی غلط بیانی کر گئے جس کی قلعی ان کی ہی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی حکومت والی ریاست بہار کے ایک افسر نے کھول دی۔ دراصل حکومت کی جلدبازی اس بات کو لے کر تھی کہ ایک دن پہلے ہی وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو میں اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن اتحاد ایک دھوکہ ہے۔ ان سے پہلے بی جے پی صدر نے بھی کہا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ لیکن جس طرح وزیر اعظم اور بی جے پی صدر نے یہ بات کہی، وہاں سے چند فرلانگ کی دوری پر ہی 24 گھنٹے کے اندر ہی مکمل اپوزیشن نے متحد ہو کر بتا دیا کہ نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ میں وزیر اعظم کے الفاظ میں پوشیدہ خوف کتنا حقیقی تھا۔

آزادی کی تحریک کے دوران پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ’’آزادی خطرے میں ہے، اور ہمیں اس کی پوری طاقت سے حفاظت کرنی ہے۔‘‘ آج یہی حالت ہے۔ ملک فاشسٹ نظریہ کے چنگل میں ہے۔ آئین ہمیں جس آزادی کا پیغام دیتا ہے وہ خطرے میں ہے۔ ایسے میں ضرورت پوری طاقت سے آئین کے تحت جمہوری حقوق کی حفاظت کرنے کی ہے۔

ملک کے سامنے صرف نظریاتی سوال ہی نہیں ہے۔ تشہیر کے تمام وسائل کا استعمال کر جھوٹے دلائل کے ساتھ ملک کو ورغلانے کی بھی لگاتار کوشش ہو رہی ہے۔ پیر کے روز ہی جب ملک بھر میں لوگ پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو لے کر سڑکوں پر اترے تھے، حکومت نے اعلان کیا کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ساتھ ہی برسراقتدار پارٹی نے بھی ادھورے اعداد و شمار پیش کر غلط فہمی پھیلانے کا کام کیا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ جب خام تیل کی قیمتیں ہندوستانی معیشت کے معقول ہیں تو گھریلو تیل کی قیمتیں سارے ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ اگر ہم یو پی اے حکومت اور موجودہ حکومت کے دور میں خام تیل کی قیمتوں، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں اور ان پر لگنے والے پروڈکشن چارج کا موازنہ کریں تو مرکزی حکومت کی منشا صاف نظر آ جاتی ہے۔

مئی 2014 سے اب تک خام تیل کی قیمتوں میں جہاں 32 فیصد کی کمی آئی ہے وہیں گھریلو تیل کی قیمت میں 28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کی سیدھی وجہ ہے پروڈکشن چارج کی شکل میں بہت زیادہ ٹیکس، جو پٹرول پر 111.70 فیصد اور ڈیزل پر 334.06 فیصد بڑھا ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی میں اس اضافہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ موجودہ حکومت کی خواہش یقینی طور پر عام لوگوں کو سہولت پہنچانے کی نہیں بلکہ کسی اور کو فائدہ پہنچانے کی ہے۔

اتنا ہی نہیں، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اثر روز مرہ استعمال ہونے والی چیزوں اور سروسز کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اس حکومت کی خواہش عام لوگوں کو سہولت دینے کی نہیں ہے تو پھر آخر یہ کس کی آسانی کے لیے کام کر رہی ہے؟ مرکزی حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر گزشتہ 52 مہینوں میں عام لوگوں کی جیب سے تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے نکالے ہیں۔ عام لوگوں کا تو بجٹ ہی گڑبڑا گیا، تو پھر فائدہ کس کا ہوا؟ کہا گیا اتنا سارا پیسہ؟ اس سوال پر برسراقتدار طبقہ کی خاموشی شبہات پیدا کرتی ہے۔

کئی بار سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ آخر آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت سماج کو کیوں بانٹنا چاہتی ہے؟ ملک کو دھیان رکھنا ہوگا کہ ہمارے مذہب،سیکٹر، ذات، زبان الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن جمہوریت کا دھاگہ ہمیں ایک دوسرے سے باندھتا ہے، اور یہی دھاگہ آر ایس ایس کو ناپسند ہے۔ آر ایس ایس سربراہ ان آوازوں کو ’کتّے‘ کا نام دیتے ہیں، تو وزیر اعظم نریندر مودی اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن اتحاد اور اجتماعی مخالفت کے سامنے ان کی گھگھی بندھ جاتی ہے۔ اس اتحاد کی بنیاد نئے سرے سے 10 ستمبر کو پڑ چکی ہے۔ اور اسی لیےبرسراقتدار پارٹی کی گھگھی بندھ چکی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول