مودی حکومت گھپلے بازوں پر انتی مہربان کیوں!... نواب علی اختر

اس بارے میں حکومت کو وضاحت کر کے ملک کو جواب دینا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بتانا چاہیے کہ ملک کے مفرور گھپلے بازوں کا کس بنیاد پر ہزاروں کروڑ روپئے کا قرض معاف کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

ایسے وقت میں جب لاک ڈاؤن کے سبب ملک کی معیشت کو لے کر انتہائی ڈراؤنی پیشین گوئیاں کی جارہی ہیں اور پورا ملک کورونا بحران سے متحد ہو کر لڑ رہا ہے تو مودی حکومت نے ہندوستانی بینکوں کے 50 گھپلے باز قرض داروں کا 68 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض معاف کرکے عام لوگوں کے تئیں اپنی بے حسی کو ظاہر کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے مفرور شراب تاجر وجے مالیا، ہیرا تاجر نیرو مودی، میہل چوکسی اور جتن مہتہ جیسے گھپلے بازوں سمیت 50 بڑے قرض داروں کی چونکا دینے والی رقم کو معاف کیے جانے سے ایک بار پھر اشارہ دیا ہے کہ سرمایہ دار ہی مودی حکومت کے ’مائی باپ‘ ہیں اور انہیں نوازنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ 50 بڑے قرضدار آئی ٹی سیکٹر، بجلی، سونے، ہیرے کے زیورات، فارما وغیرہ سمیت معیشت کے مختلف علاقے سے وابستہ ہیں۔

یہ انکشاف بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے حق اطلاعات قانون کے تحت دیئے گئے جواب میں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ 16 فروری کو یہ معاملہ تب سرخیوں میں آیا تھا جب کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں حکومت سے بینک گھپلے بازوں کے نام پوچھے تھے۔ راہل گاندھی نے وزیر خزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے ملک کے 50 سب سے بڑے بینک چوروں کے نام بتائیے، جنہوں نے جان بوجھ کر بینکوں کے کروڑوں روپئے کا قرض نہیں چکایا، لیکن وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، انوراگ ٹھاکر نے پارلیمنٹ میں جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب آر بی آئی کے مرکزی اطلاعات افسر نے وزیر خزانہ کی ’چوری‘ کو بے نقاب کر کے وہ کر دکھایا جو حکومت نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اب ریزرو بینک نے بی جے پی کے ’منظور نظر‘ گھپلے بازوں کے نام بینک چوروں کی فہرست میں ڈالے ہیں۔

ریزرو بینک نے 24 اپریل کو حق اطلاعات (آر ٹی آئی) کے تحت معلومات فراہم کی کہ یہ رقم جس میں بقایا اور تکنیکی طریقے سے تحریری رقم شامل ہے، 30 ستمبر 2019 تک معاف کی گئی ہے۔ بینکوں کا قرض نہ لوٹانے والے جن بڑے قرضداروں اور بھگوڑوں کا قرض معاف کیا گیا ہے ان میں میہل چوکسی کی گھپلے میں شامل کمپنی گیتانجلی جیمس لمیٹیڈ شامل ہے جس پر 5492 کروڑ روپئے کا قرض ہے، اس کی دیگر کمپنیوں پر تقریباً 2500 کروڑ روپئے کا قرض ہے۔ آر ای آئی 4,314 کروڑ روپے کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور ون سم ڈائمنڈ 4076 کروڑ روپئے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ روٹومیک گلوبل پرائیویٹ لمیٹڈ کے 2,850 کروڑ روپے، کدوس کے می لمیٹڈ کے 2,326 کروڑ روپے اور زوم ڈویلپرز کے 2,012 کروڑ روپے رائٹ آف (بٹے کھاتے) میں ڈالے گئے ہیں۔

موجودہ حالات میں حکومت کے اس فیصلے کو بے تکا اور بے جواز قدم کہا جائے گا، جس کے بارے میں حکومت کو وضاحت کر کے ملک کو جواب دینا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بتانا چاہیے کہ مفرور لوگوں کو کس بنیاد پر یہ ’تحفہ‘ دیا گیا ہے۔ کیونکہ اتنا بڑا کام حکومت کے سربراہ کی رضا مندی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ اس کے پاس کورونا سے لڑنے کے لئے پیسے کی کمی ہے اس لئے اس نے مرکزی ملازمین کا مہنگائی بھتہ اور راحت بھتہ میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کا قرض معاف کیا جا رہا ہے جنہوں نے ملک کے بینکوں کو چونا لگایا ہے اور پیسے واپس کیے بغیر فرار ہوگئے ہیں۔ حکومت کو اس کا جواز ضرور بتانا چاہیے۔

اگر ریزور بینک نے آر ٹی آئی کے تحت صحیح اطلاع دی ہے تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ جو قرضدار پیسہ لوٹانے کے بجائے غیر ممالک بھاگ گئے ہیں ان کے قرض کو کس بنیاد پر معاف کیا گیا ہے۔ ریزرو بینک کی طرف سے دی گیٔی گھپلے بازوں کی فہرست پر حکومت کو بتانا چاہیے کہ یہ فہرست غلط ہے یا صحیح۔ ملک کو بھٹکانے کے بجائے وزیر خزانہ کو سچ بتانا چاہیے کیونکہ یہی راج دھرم کی کسوٹی ہے۔ اس معاملے کو اپوزیشن پارٹیاں بالخصوص کانگریس بڑے زور و شور سے اٹھا رہی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس محکمہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ

’تو ادھر ادھر کی بات نہ کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لوٹا

مجھے رہزنوں سے گلا نہیں، تری رہبری کا سوال ہے‘

مودی حکومت ملک کا پیسہ لے کر بھاگے گھپلے بازوں اور اپنے’دوستوں‘ کا قرض کیوں رائٹ آف کر رہی ہے۔

حکومت میں بینکوں کے اتنے بڑے قرض کو رائٹ آف کرنے کی اجازت کس نے دی اور وزیر خزانہ اس بھاری بھر کم قرض رائٹ آف کو’سسٹم کی صفائی‘ نہیں، بینک میں ’جمع عوام کی گاڑھی کمائی کی صفائی‘ کیوں کہتے ہیں۔ حکومت نے یہ غیر ذمہ دارانہ قدم تب اٹھایا ہے جب چند روز قبل ہی وزیر اعظم مودی نے ملک کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کورونا کی صورتحال اور لاک ڈاؤن سے متعلق بات چیت کی، جس میں کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے اقتصادی ناگفتہ بہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کورونا سے لڑائی کے لئے مرکز سے اقتصادی مدد کرنے اور اقتصادی پیکج اعلان کرنے کی مانگ کی جس پر مودی نے خاموشی اختیار کرلی۔ مگر دوسری طرف یہی حکومت ان لوگوں کا قرض معاف کر رہی ہے جو بینکوں کا بقایہ ادا کیے بغیر بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔

Published: 3 May 2020, 7:40 PM