گجرات ماڈل چمکانے کے لئے عام لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ... نواب علی اختر

ریاستی انتظامیہ کی لاپرواہی کے دوران ہی احمد آباد کے کارپوریشن کمشنر وجے نہرا نے کہا کہ جس رفتار سے یہاں کیس ڈبل ہو رہے ہیں، اگر یہی رفتار رہی تو مئی کے آخر تک 8 لاکھ معاملے ہو جائیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

’کووڈ۔ 19‘ کو شکست دینے کے لیے ہندوستان سمیت دنیا کا ہر ملک اپنے اپنے طور پر جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آرہے ہیں مگر وبا کے خلاف ہندوستان کی جدو جہد کو بی جے پی کے زیر حکمرانی کچھ ریاستی حکومتیں پلیتا دکھاتی نظر آرہی ہیں۔ یہ ریاستیں اپنا ریکارڈ بہتر کرنے کے لیے کھلے طور پر اعداد و شمار چھپانے پر لگی ہوئی ہیں، جس سے متعلقہ ریاستوں کو بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا آبائی صوبہ گجرات اس وقت بڑے خطرے کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ ریاست میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر ’گجرات ماڈل‘ چمکانے کے لیے کووڈ۔19 ٹیسٹنگ گھٹا دی گئی ہے جو عام لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔

کووڈ۔ 19 معاملے میں گجرات دوسرے نمبر پر ہے، گجرات میں کووڈ -19 کے مریضوں کی تعداد 3071 ہو گئی ہے۔ ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔ گجرات میں اس بات کو لے کر سیاسی تنازعہ چل رہا ہے کہ کیا ریاستی حکومت نے ٹیسٹ کی تعداد کم کر دی ہے۔ خبروں کے مطابق ریاست میں دو روز پہلے تک روزآنہ 4000 ٹیسٹ ہو رہے تھے مگر اس کو گھٹا کر اب 2000 کردیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی لاپرواہی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 15 اپریل کو گجرات میں 2354 سیمپل کی جانچ ہوئی تھی۔ 20 اپریل کو 4212 سیمپل کی جانچ ہوئی لیکن جمعہ یعنی 24 اپریل کو محض 1438 ٹیسٹ کیے گئے۔

عالمی وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے جہاں ملک کی دیگر ریاستیں ٹیسٹ کیے جانے والے نمونے کی تعداد بڑھا رہی ہیں، وہیں گجرات حکومت گھٹا رہی ہے۔ اب تک گجرات نے 43,822 سیمپل ٹیسٹ کیے ہیں۔ قریب 7 کروڑ آبادی والی اس ریاست میں بینکوں کے آگے کئی دنوں سے بھیڑ جمع ہے، لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑ رہی تھیں، کسی نے توجہ نہیں دی۔ احمد آباد میں ایک بینک کے 5 اہلکاروں کو کووڈ -19 ہوا ہے۔ گجرات میں آگے رہ کر وبا سے لڑنے والے 70 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ 18 ڈاکٹروں کو انفیکشن ہوا ہے۔ گجرات میں ٹیسٹنگ گھٹانے پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ شاید بیماری پر بھی سیاست کی جا رہی ہے تاکہ ریاست میں انفیکشن کے معاملے بڑھنے سے بی جے پی کا ’گجرات ماڈل‘ متاثر نہ ہو۔

ریاستی انتظامیہ کی لاپرواہی کے دوران ہی احمد آباد کے کارپوریشن کمشنر وجے نہرا نے کہا کہ جس رفتار سے یہاں کیس ڈبل ہو رہے ہیں، اگر یہی رفتار رہی تو مئی کے آخر تک 8 لاکھ معاملے ہو جائیں گے۔ 28 اپریل تک احمد آباد میں تین دن کے اندر کووڈ -19 کی تعداد ڈبل ہو جا رہی تھی۔ لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ احمد آباد میں 8 دنوں میں ڈبل ہو، یعنی رفتار سست کرنی ہوگی۔ ہندوستان میں اب تک اس طرح کے جتنے بھی اندازے کیے گئے ہیں وہ صحیح ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اس لیے ریاستوں کو سیاست چھوڑ کر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اسی دوران یوپی کے مراد آباد میں کورونا کی روک تھام میں لگے محکمہ صحت کی بڑی لاپرواہی سے افراتفری مچ گئی۔ طبی اہلکاروں نے کورونا نگیٹو دو لوگوں کے بجائے ان کی جگہ دو پازیٹو مریضوں کو کوارنٹائن سینٹر سے گھر بھیج دیا۔ پازیٹو مریضوں اور نگیٹو نوجوانوں کے ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے یہ غلطی ہوئی۔ اب جب معاملے کا انکشاف ہوا ہے تو محکمہ صحت نے آناً فاناً دونوں پازیٹو مریضوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا ہے اور ان کے گھر جانے کے بعد ان کے رابطے میں آئے لوگوں کی دھڑ پکڑ کر کے کوارنٹائن کیا جارہا ہے جس سے علاقے میں دہشت پھیل گئی ہے۔اب رابطے میں آنے والے کتنے لوگ پریشان ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

ملک کے تقریباً سب سے بڑے صوبے اترپردیش کی یوگی حکومت شفافیت نہ برتنے کے لیے سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ ریاست میں کووڈ۔19 ٹیسٹنگ کو لے کر کافی لوگ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کورونا سے لڑائی میں شفافیت بڑے کام کی چیز ہے۔ سماج اور حکومت مل کر ہی اس وبا پر جیت حاصل کر سکتے ہیں۔ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ اچھے طریقے سے اور زیادہ ٹیسٹنگ ہی کورونا کی روک تھام کی کنجی ہے۔ اترپردیش حکومت نے دو دنوں سے جانچ کی تعداد بتانا بند کر دیا ہے۔ ٹیسٹنگ کے سلسلے میں پوری طرح سے شفافیت ہونی چاہیے تاکہ عوام کو معلومات ملتی رہے اور اس وبا کے خلاف سماج اور انتظامیہ متحد ہو کر مقابلہ کر سکیں۔ اعدادو شمار اور سچائی کو چھپانے سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ یو پی حکومت کو یہ جلد سے جلد سمجھنا ہوگا۔

ریاست کے کس لیب میں روز کتنے ٹیسٹ ہو رہے ہیں، کے جی ایم یو سمیت ریاست کے دیگر ٹیسٹنگ لیب کی یومیہ اہلیت کیا ہے، یہ اعداد وشمار عوام کے سامنے رکھنا ہی سب سے اہم ہے۔ اترپردیش میں پول ٹیسٹنگ کے نام سے کئی درجن لوگوں کے سواب ایک ساتھ ہی ایک کٹ کے ذریعہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جب کہ طبی ماہرین نے اس عمل کے لئے سخت اصول طے کیے ہیں جن پر صحیح طور سے عمل نہ کرنا نقصان کا باعث ہوسکتا ہے۔ حکومت کو پول ٹیسٹنگ کے لئے پوری احتیاط کرنی چاہیے اور اس بارے میں عوام کو اطلاع دینا چاہیے۔

ایسے وقت میں جب وبا کا قہر بڑھتا ہی جارہا ہے، قرنطینہ مراکز میں ڈبلیو ایچ او کی گائڈ لائن پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ ان مراکز پر کھانا اور ناشتہ کی دستیابی، طبی افراد کی جانب سے یومیہ جانچ اور مراکز کی صاف صفائی کی رپورٹ جاری ہونی چاہیے۔ قرنطینہ کی مدت پوری ہونے کے بعد مشتبہ فرد کو گھر بھیجے جانے کے بعد بھی دوبارہ جانچ کرنے کا منصوبہ عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔

Published: 26 Apr 2020, 5:11 PM