یوپی: بی جے پی کا کھدیڑا ہوگیا... اعظم شہاب

ابھی تک اتر پردیش سے رائے شماری کا جو رجحان سامنے آرہا ہے وہ واضح طور پر یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اترپردیش سے بی جے پی کا کھدیڑا تقریباً ہوچکا ہے۔

بی جے پی، تصویر آئی اے این ایس
بی جے پی، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

یوں تو پہلے مرحلے کی ووٹنگ کا رجحان ہی بی جے پی کا کس بل نکالنے کے اور یوگی جی کو 80 ؍اور20 فیصد کا مطلب سمجھانے کے لئے کافی تھا کہ دوسرا مرحلہ بھی کمل کی پتیاں بکھرنے کا اعلان کر رہا ہے۔ دوسرے مرحلے کی رائے شماری جاری ہے، مگر سہارنپور، بجنور، سنبھل و مرادآباد وغیرہ کے علاقوں سے جو خبریں آرہی ہیں انہیں کسی طور بی جے پی کے موافق نہیں کہا جاسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ جس طرح پہلے مرحلے کی رائے شماری کے بعد بی جے پی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ نے کمل کی آندھی میں سائیکل کے غائب ہونے کا اعلان کر دیا تھا اسی طرح ابھی سے سوشل میڈیا پر دوسرے مرحلے میں بی جے پی کے حق میں یکطرفہ ووٹنگ ہونے کی مصنوعی ہوا بنائی جا رہی ہے، لیکن ووٹنگ پیٹرن پر نظر رکھنے والے اس بات کا اشارہ ابھی سے دینے لگے ہیں کہ یہ دوسرا مرحلہ بھی بی جے پی کے لئے کسی ہزیمت سے کم نہیں ہوگا۔

اترپردیش کے انتخاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو پارٹی پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں بڑھت بنا لیتی ہے بازی اسی کے ہاتھ رہتی ہے۔ لیکن پہلے مرحلے کا جو رجحان سامنے آیا ہے وہ بی جے پی کے خیمے میں مایوسی پھیلانے کے لئے کافی ہے۔ پہلے مرحلے میں کل 58 سیٹوں پر انتخاب ہوا۔ 2017 کے انتخاب میں ان 58 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 53 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ یعنی بی جے پی کی کامیابی یک طرفہ تھی۔ لیکن اس بار جو ووٹنگ ہوئی ہے اس کا رجحان یہ بتا رہا ہے کہ بی جے پی کو اس علاقے سے اگر بہت زیادہ سیٹں ملیں تو بھی وہ 10؍ سے آگے نہیں جاپائے گی۔ بی جے پی کے لئے انتخابی حکمت عملی بنانے والے خود اس بار اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پہلے مرحلے کی سیٹوں میں سے بی جے پی کو 20 سے25 سیٹیں ملنے کی امید ہے جبکہ سماج وادی اتحاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لئے یہ تعداد 10؍سے بھی کم ہوگی۔


انتخابات سے متعلق اعدادوشمار کے تجزیہ کرنے والے ادارے سی ایس ڈی ایس کے سربراہ سنجے سنگھ نے تو پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد یہ صاف طور سے کہہ دیا تھا کہ بی جے پی کے خلاف آندھی چل رہی ہے اور یہ آندھی یوگی جی کی حکومت کو لے اڑے گی۔ یہ بات انہوں نے مختلف سیٹوں پر ایکزیٹ پول کرنے گئے اپنی ٹیم کے ممبران سے ملے فیڈبیک کی بنیاد پر کہیں تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا قلعہ زمیں بوس ہو رہا ہے، اس کی شروعات پہلے مرحلے کے انتخاب سے ہوچکا ہے۔ سی ایس ڈی ایس کا ایکزیٹ پول بہت حد تک سچ ثابت ہوتا ہے۔ 2017 میں اس نے بی جے پی کو 300 سے زیادہ سیٹیں ملنے کی پیشین گوئی کی تھی اور 2012 میں سماج وادی پارٹی کو225 سیٹیں ملنے کا اندازہ پیش کیا تھا، جو درست ثابت ہوا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سنجے سنگھ کے دعوے کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔

مغربی یوپی اور روہیل کھنڈ کے جن 55 سیٹوں پر آج ووٹنگ ہو رہی ہے، ان میں سے 38 سیٹوں پر 2017 میں بی جے پی نے قبضہ کیا تھا۔ جبکہ 15؍سیٹیں ایس پی کو ملی تھیں اور کانگریس کے حصے میں 2 آئی تھیں۔ بی ایس پی کا دامن یہاں سے خالی رہا تھا۔ لیکن اس بار یہاں بی جے پی کے لئے ہوا رائے شماری سے قبل ہی اکھڑی ہوئی نظر آرہی تھی۔ دوسرے مرحلے میں جن سیٹوں پر انتخاب ہو رہا ہے ان پر مسلم ووٹروں کا کافی اثر مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کرمی، لودھ، سینی، موریہ اور دلت ووٹر بھی ہیں جن کا جھکاوٴ اس بار ایس پی اتحاد کی جانب علانیہ نظر آرہا ہے۔ اس بار یہاں سے 77 مسلم امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں سے ایس پی اتحاد کے 18؍ بی ایس پی کے 23، کانگریس کے 21 ؍اور ایم آئی ایم کے 15؍ امیدوار شامل ہیں۔ لیکن اس بار یہاں مغربی بنگال کا پیٹرن نظر آرہا ہے۔ مغربی بنگال میں یہ ہوا تھا کہ مسلم رائے دہندگان نے مشترکہ طور پر بی جے پی کو شکست دے سکنے والے امیدواروں کے حق میں رائے دہی کی تھی بغیر اس امتیاز کے کہ وہ کس پارٹی سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی سے مقابلے کی پوزیشن میں وہاں ٹی ایم سی کے ہی امیدوار تھے۔ مسلمانوں کی اسی دانشمندی نے مغربی بنگال میں بی جے پی کو تاریخی ہزیمت سے دوچار کر دیا تھا۔ یہی پیٹرن اس بار یہاں بھی نظر آرہا ہے جس سے یوگی جی کی مسلم ووٹوں کی تقسیم کی کوشش بھی ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔


اس دوسرے مرحلے میں ایک نعرہ بہت زیادہ چل رہا ہے اور وہ ہے ’مہنت نہیں جینت چاہئے‘۔ اگر عین رائے شماری کے وقت یہ نعرہ مغربی یوپی و رہیل کھنڈ میں لگنے لگ جائیں تو اس کا مطلب بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ ایسے ہی نعروں کی بنیاد پر 2014 میں ہمارے پردھان سیوک جی کے سر پر تاج بندھا تھا۔ لیکن اس بار مغربی یوپی نے یہ نعرہ دے کر ظاہر کر دیا ہے کہ یوگی جی کے دن اب لد گئے ہیں۔ یوگی جی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں چونکہ یوگی ہوں اس لئے ووٹ نہیں مانگوں گا۔ لیکن یہ ٹوئٹ کرتے ہوئے یوگی جی شاید یہ بھول گئے تھے کہ یوگی کا کام سرکاری پیسوں سے عیش کرنا بھی نہیں ہے۔ یوگی کا کام کسی مندر یا مٹھ میں ہی ہوتا ہے اور اس کا گزر بسر لوگوں کے دئے ہوئے دان سے ہی ہوتا ہے۔ لیکن پہلے مرحلے اور اس دوسرے مرحلے کے رجحان نے یوگی جی کو واضح طور پر اشارہ دے دیا ہے کہ انہیں اب یوگیوں کے روایتی کام کی جانب لوٹ جانا چاہئے۔ اگر اس دوسرے مرحلے کا رجحان بھی پہلے مرحلے کی ہی مانند ہوا تو یہ بات یقینی کہی جاسکتی ہے کہ اترپردیش سے بی جے پی کا کھدیڑا ہوچکا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔