راہل-پرینکا گاندھی سے مودی اور یوگی خوف زدہ کیوں؟... م۔ افضل

راہل گاندھی کے تعلق سے خود وزیراعظم اور ان کے حواریوں کا جو رویہ رہا ہے وہ ان کی گھبراہٹ کا مظہر ہے، کیونکہ راہل گاندھی وہ ایسے سوال کرتے ہیں جن کا سرکار کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

م. افضل

جمہوری سیاست میں اظہار رائے کی آزادی کو نہ صرف اولیت دی گئی ہے بلکہ اختلاف رائے کرنے والوں کو بھی اہمیت دینے کی بات کہی گئی ہے، آزادی کے بعد سے اب تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کو کبھی دشمن نہیں سمجھا گیا بلکہ پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر بھی اگر اپوزیشن کے کسی لیڈر نے کوئی مثبت بات کہی ہے تو صاحبان اقتدار نے اسے ٹھکرایا یا مسترد نہیں کیا بلکہ اسے تحسین کی نظرسے دیکھا گیا اور اہمیت دی گئی مگر اب جمہوری سیاست کا چہرہ یکسر بدل چکا ہے اس کی جگہ آمرانہ روش نے لے لی ہے، چنانچہ اب اگر اپوزیشن کا کوئی لیڈر کچھ کہتا ہے تو اقتدار میں بیٹھے لوگ پہلی فرصت میں نہ صرف اسے مسترد کر دیتے ہیں بلکہ اسے ذاتی حملہ سمجھنے لگتے ہیں۔

پچھلے چھ برس سے جو لوگ اقتدار میں ہیں آئین اور جمہوریت کی قسم وہ بھی کھاتے ہیں ہمارے موجودہ وزیراعظم جب غیر ملکی دورہ پر جاتے ہیں تو جمہوریت کے حوالہ سے ہی اپنی بات رکھتے ہیں اس ضمن میں مہاتماگاندھی کے نظریہ اور ان کے عدم تشدد کے فلسفہ کا حوالہ دینا بھی نہیں بھولتے مگر اندرون ملک ان کا رویہ اس کے قطعی برعکس ہوتا ہے، پچھلے کچھ برسوں کے دوران اس طرح کی سیاست کی گئی اورحکمرانی کا جو نیا نمونہ پیش کیا گیا ہے اس میں آمرانہ روش کا ہی غلبہ رہا ہے ڈر اور خوف کی سیاست کے سہارے مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوا دے کر اکثریت کی صف بندی کا جو خطرناک رویہ اپنایا گیا ہے اس نے آئین کے رہنما اصولوں کو ہی پامال نہیں کیا ہے بلکہ جمہوری قدروں کوبھی بہت اندر تک کھوکھلا کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

اکثریت کے غرور میں اپوزیشن پارٹیوں کی اہلیت اور اہمیت کو زیر کرنے کی سازش کا خاکہ بھی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار تیار ہوا اس کے لئے انتقامی سیاست کا افسوسناک آغاز کیا گیا، اپوزیشن لیڈروں کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی جیسے اداروں کا کھل کر استعمال ہوا ایسے میں بیشتر لوگ نفسیاتی طور پر ڈر گئے اور پھر انہوں نے یا تو اقتدار کے سامنے خود سپردگی کردی یا پھر اپنی زبانیں بند کرلینا ہی مناسب سمجھا، ایسے مایوس کن دورمیں تنہا کانگریس ہی ایسی پارٹی ہے جس نے ڈر اور خوف کی سیاست کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ہر موقع پر سرکار کے سامنے سوال بھی کھڑے کیے اگرچہ کانگریس لیڈروں کو بھی خوف زدہ کرنے کی نت نئی سازشیں ہوتی رہیں مگر کانگریس کی قیادت کے حوصلوں کو پسپا کرنے میں سرکار ناکام رہی ہے۔

کانگر کی صدرسونیا گاندھی ہوں، راہل گاندھی یا پھر پرینکا گاندھی یہ تینوں شخصیتیں مسلسل سرکار کے نشانہ پر رہی ہیں، سونیا گاندھی کے تعلق سے جس طرح کے نازیبا تبصرے ہوتے رہے ہیں اس سے ہر کس وناکس واقف ہے، افسوسناک بات تویہ ہے کہ دوسرے لیڈروں کے ساتھ اس طرح کے ناجائز تبصرہ کرنے والوں میں خود وزیراعظم نریندرمودی بھی شامل ہیں جہاں تک راہل گاندھی کا تعلق ہے انتہائی نامواقف اورحوصلہ شکن سیاسی حالات میں بھی انہوں نے خود کو منوانے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے، اس پورے عرصہ میں سرکار کی غلط پالیسیوں اور اس کے غیر آئینی فیصلوں کے خلاف پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر بھی مسلسل اٹھنے والی آواز راہل گاندھی کی رہی ہے، راہل گاندھی کو خاموش رکھنے کے لئے سرکارکی طرف سے وہ ہر حربہ استعمال کیا گیا جو کسی بھی شخص کے حوصلوں کو توڑ سکتا تھا مگر راہل گاندھی نے اپنی سیاسی بصیرت سے سرکار کے ہر حربہ کو اب تک ناکام کرتے آئے ہیں اور اب تو حال یہ ہے کہ راہل گاندھی کے ہر بیان اور ہر ٹوئٹ پر اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بے چینی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پھر عوام کی توجہ اس طرف سے ہٹانے کے لئے پوری آئی ٹی سیل اور پارٹی ترجمانوں کو میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نریندرمودی اپنی پہلی مدت کار میں بری طرح ناکام رہے مگر اس کے باوجود میڈیا اور پروپیگنڈے کے سہارے جب انہیں دوسری بار اقتدار مل گیا تو انہیں یہ خوش فہمی بھی لاحق ہوگئی کہ عوام نے اقتدار نہیں بلکہ ان کے ہاتھ میں اس بات کا پروانہ تھما دیا ہے کہ جو چاہیں کریں، انہیں روکنے اور ٹوکنے کا اختیار اب کسی کے پاس نہیں رہا، بی جے پی کے بیشتر لیڈر اس بات کا وقفہ وقفہ سے اظہار کرتے آئے ہیں کہ ملک کے لوگوں نے ان کی پارٹی کو اکثریت دیکر اس بات کی مکمل آزادی دیدی ہے کہ وہ ملک کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ جس طرح چاہیں کھلواڑ کریں، اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا اب اختیارنہیں رہ گیا ہے، درحقیقت یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے بی جے پی قیادت کے سیاسی رویہ کو آمریت میں تبدیل کر دیا ہے۔ مودی جی کو دوبارہ اقتدارمیں آئے ابھی ایک سال کی ہی مدت ہوئی ہے مگر اس دوران انہوں نے متعدد آئین مخالف اور غیر جمہوری فیصلے کیے ہیں، مایوس کن بات یہ ہے کہ ان فیصلوں میں ان لوگوں نے بھی سرکار کا ساتھ دیا جو خود کو سیکولر کہتے ہیں اورمودی سرکارمیں شامل ہیں، اس سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دوسری سیکولر پارٹیوں نے بھی ان فیصلوں کی اس طرح سے مخالفت نہیں کی جس طرح کی جانی چاہیے تھی، ایسے گہرے سیاسی خاموشی کے ماحول میں جو آواز مسلسل اٹھتی رہی وہ راہل گاندھی کی ہی آواز ہے۔

Published: 5 Jul 2020, 4:11 PM
next