اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے!... نواب علی اختر

…لیکن اب جب حکومت میں بیٹھے لوگوں کی’ دیوار‘ سے پورے ملک کی ماں ’ماری‘ جا رہی ہے تو دیش بھکتوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ہے۔

 نریندر مودی، تصویر پی آئی بی
نریندر مودی، تصویر پی آئی بی
user

نواب علی اختر

ہندوستانی سیاست میں سن 2014 سے پہلے تک ایک علاقائی پارٹی کی طرح اپنا وجود برقرار رکھنے کی جدوجہد کرنے والی بی جے پی کے کچھ خودساختہ ’دیش بھکتوں‘ نے آسمان سے تارے توڑ لانے جیسے خوش کن وعدے اور دعوے کرکے عوام کو اس قدرمتاثر کیا کہ انہیں کچھ سوچنے اور سمجھنے کے لائق ہی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے خود کو سب سے بڑا دیش بھکت، غریبوں کا مسیحا، بے روزگاروں کا ہمدرد، خواتین کا مالک ومختار اور طلباء کے لیے فکرمند ہونے کا یقین دلانے کے لیے کئی بار گھڑیالی آنسو بھی بہائے۔ چہرے کی اس مصنوعی معصومیت اور مظلومیت دیکھ کر اتحاد اور بھائی چارے پر یقین رکھنے والے لوگ سیاسی دیش بھکتی کے دام میں پھنستے گئے۔ چند روز قبل ہی نئے نئے ’دیش بھکت‘ بنے لوگوں کی آنکھوں پر پردے پڑگئے، دماغ پر جمود طاری ہوگیا، سوچنے اورسمجھنے کی صلاحیت زائل ہوگئی اور پھر چکنی چپڑی باتیں کرنے والوں کو ’بھائیو اور بہنوں‘ کی اکثریت نے آشیرواد‘ دے کر کرسی پر بٹھا دیا۔

مرکز میں بی جے پی زیر قیادت حکومت بننے کے بعد ’دیش بھکتوں‘ کو اس وقت پہلی مایوسی ہاتھ آئی جب مودی حکومت نے ’بھائیو اور بہنوں‘ کو نظرانداز کرکے سرمایہ داروں کو گلے لگانا شروع کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مہنگائی آسمان چھونے لگی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آگ لگ گئی، بے روزگاری کا گراف دن بہ دن چڑھنے لگا، انتہا پسندی پروان چڑھنے لگی، گائے کی حفاظت کے نام پر بے قصور لوگوں کا قتل کیا جانے لگا، لوجہاد کے نام پر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کھائی کھودی جانے لگی، وہیں لوگوں کے کھاتے میں 15-15 ہزار پہنچانے جیسے بڑے بڑے وعدوں پر بی جے پی لیڈروں کی خاموشی سے اب تمام دیش بھکت خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرنے لگے ہیں۔ یہی دیش بھکت اس وقت خوش تھے جب مسلمانوں پر ان کی زندگی کا قافیہ تنگ کیا جا رہا تھا-

حکومت کی اس مہم میں دیش بھکت بھی کافی حد تک متاثر ہو رہے تھے کیونکہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستا ہے! مگر یہ دیش بھکت محض اس لئے خاموش رہے کیونکہ مسلمان تباہ و برباد ہو رہا تھا۔ اس صورتحال میں مسلم دشمنی میں مرے جا رہے دیش بھکتوں پرایک ہی محاورہ فٹ بیٹھتا ہے کہ ’پڑوسی کی دیوارگرادی جائے چاہے اس میں دب کر ہماری ماں کیوں نہ مرجائے‘۔ لیکن اب جب حکومت میں بیٹھے لوگوں کی’ دیوار‘ سے پورے ملک کی ماں’ماری‘ جا رہی ہے تو دیش بھکتوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ہے۔ انتخابات سے پہلے فوجیوں کی لاشوں پر سیاست برداشت کرنے والے لوگ اب جب اپنوں کی لاشیں دیکھ رہے ہیں تب وہ مودی، یوگی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں-

یہ سچ ہے کہ عالمی وبا سے ایک سال پہلے کے مقابلے رواں سال کے تین ماہ میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی ہے جس کے لئے راست طور پر مرکزی حکومت کی بدانتظامی ذمہ دار ہے جو پہلی لہرکے بعد بے پروا ہوگئی تھی۔ حد تو تب ہوگئی جب موذی مرض میں کئی ریاستوں کے انتخابات بھی کرا دیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو علاقے وبا سے محفوظ تھے وہاں بھی کورونا پھیلنے کی خبر آنے لگی اوراس کے بعد لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔ یہ تب ہوا جب انتخابات ختم ہوگئے یا یوں سمجھیں کہ جب انتخابی ریلیوں میں سینکڑوں کی بھیڑ جمع ہو رہی تھی تب کورونا نہیں پھیلا اور انتخابات ختم ہوتے ہی کورونا کا قہر برپا ہونا شروع ہوگیا، جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا۔

اب جب کہ ملک میں کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ بلیک فنگس انفکشن بھی پھیل رہا ہے اور اسے روکنے کے لئے حکومت ضروری ادویات فراہم نہیں کر پا رہی ہے جس کی وجہ سے بی جے پی زیرقیادت حکومتوں کی شبیہ خراب ہوئی ہے اورعوام حکومت سے انتہائی ناراض ہوگئے ہیں خاص طور پراترپردیش کی یوگی حکومت کے خلاف تو لوگوں نے کھل کرمخالفت بھی شروع کر دی ہے۔ انہیں تمام حالات کے پیش نظر بی جے پی نے ریاست میں اپنا قلعہ بچانے کے لئے ابھی سے کسرت شروع کردی ہے۔ اسی سلسلے میں حالیہ دنوں آرایس ایس کے دہلی دفترمیں ایک میٹنگ بھی ہوئی جس میں آرایس ایس کے لیڈروں کے ساتھ وزیر اعظم نریندرمودی، وزیرداخلہ امت شاہ و دیگر کے ساتھ یوپی کے حوالے سے انتخابی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے موجودہ وقت میں مودی اور یوگی کی خراب ہوئی شبیہ کو سدھارنے پرمغزماری کی گئی۔ اس میٹنگ میں آرایس ایس کے دتاتریہ ہوسبولے، اترپردیش میں تنظیم کے سربراہ سنیل بنسل بھی موجود تھے۔

بی جے پی حکومت کی انتظامیہ کی نا اہلی اور شدید لاپرواہی کے سبب نہ تو علاج ٹھیک سے ہو پا رہا ہے اور نہ ہی لوگ احترام کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی کر پا رہے ہیں۔ پھر بھی بڑی بے شرمی کے ساتھ وزیر اعظم کے ساتھ ریاستی بی جے پی قیادت انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں سرکھپا رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں تو حالات بد سے بد تر ہیں ہی، راجدھانی سمیت دیگر شہروں میں بھی زندگی کو بچانے کی ضروری دوائیں اور انجکشن کی کمی میں مریض تڑپ رہے ہیں۔ ان کی سانسیں تھم رہی ہیں باوجود اس کے یوپی کے وزیراعلیٰ بڑے بڑے دعوے کرتے گھوم رہے ہیں، گھر میں لگی آگ انہیں دکھائی نہیں پڑ رہی ہے۔ زندگی کے ساتھ روزی کا راگ الاپنے والی بی جے پی حکومت زندگی اور روزی دونوں کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ وزیر اعلی صرف تیقن سے کام کر رہے ہیں۔

گھریلو معیشت کو بی جے پی نے پوری طرح سے بگاڑ دیا ہے۔ چھوٹے دوکاندار لاک ڈاون کے سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ راجدھانی لکھنو میں گھرکا خرچ چلانے کے لئے لو گ زیورات گروی رکھ رہے ہیں۔علاج کے مہنگے خرچ نے بھی لوگوں کی کمر توڑ دی ہے پھر بھی بی جے پی ’اترپردیش کو ’اُتم پردیش‘ بنانے کی بات کرتے نہیں تھک رہی ہے۔ بی جے پی کو ان سب سے زیادہ مفاد پرست سیاست اور جھوٹی تشہیر سے مطلب ہے۔ عوام کی زندگی سے زیادہ اسے اقتدار کی فکر ہے۔ اسے اترپردیش کے عوام کیسے بھول پائیں گے۔ فی الحال تو بی جے پی کو عوام نے کبھی نہ معاف کرنے کا من بنا لیا ہے۔

اترپردیش میں کورونا وبا کے دوران یوپی حکومت کی بدانتظامی کے سبب وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندرمودی کی بھی شبیہ خراب ہوئی ہے جس کی وجہ بی جے پی جو اب تک ہوا میں اُڑ رہی تھی، زمین پر آگئی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ بی جے پی کے لیڈر بشمول وزیراعظم، وزیرداخلہ جو عوام کو خاطر میں لانے کو تیار ہی نہیں تھے، انہیں اب ووٹروں کی ناراضگی سے ڈر لگنے لگا ہے۔ بی جے پی کی موجودہ حالت مثل ’اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے‘ جیسی ہوگئی ہے۔ دراصل گزشتہ ڈیڑھ ماہ کورونا منیجمنٹ کے نام پر حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو جان گنوانی پڑی ہے۔ ان میں حکومت کے وزراء کے ساتھ ساتھ کئی بڑی شخصیات بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سے پہلے جو لوگ مودی اور یوگی پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کر رہے تھے وہی لوگ اب ان دونوں سے کھلے طور پر سوال پوچھ رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔