اسرائیلی جارحیت پر فلسطینی عزائم کی فتح... نواب علی اختر

اسرائیل جہاں آبادی کے لحاظ سے دہلی اور ممبئی سے بھی کم ہے، وہیں علاقائی رقبہ کے طور پر دیکھا جائے تو دنیا کی واحد یہودی ریاست ہمارے کیرالہ سے بھی چھوٹی ہے۔

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

ارض انبیاءؑ فلسطین پر اسرائیل کی جانب سے 11 روز تک جاری رہنے والی بہیمانہ جارحیت و دہشت گردی اور غزہ کے سرفروشوں کی دلیرانہ استقامت و پا مردی کے بعد آخر کار اسرائیل کو اندرونی و عالمی سطح پر رسوا ہونے کے بعد جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ جمعہ کوعلی الصبح غزہ میں جنگ بندی کا نفاذ کر دیا گیا۔ جنگ بندی پر اتفاق اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ پیشکش اسرائیل کی طرف سے کی گئی تھی۔ اسرائیل کی یہ پیش کش در اصل اپنی شکست کا واضح اعلان تھا جسے پوری دنیا نے سنا اور تسلیم کیا۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد فلسطینی عوام نے سڑکوں پر نکل کر’نعرہ تکبیر‘ کے ساتھ جشن منایا، وہیں اپنے دلیر اور جاں بکف دفاعی گروہوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

مغربی میڈیا اسرائیل کی کامیابی کے قصیدے پڑھ رہا ہے، لیکن اسرائیل میں ماتم کا ماحول ہے۔ ایسے میڈیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہارے ہوئے لوگ جشن نہیں مناتے۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی عوام زیر زمین پناہ گاہوں سے نکل کر اپنے گھروں کی طرف لوٹتی نظر آئی، لیکن اسرائیل میں کہیں بھی جشن کا ماحول دکھائی نہیں دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ فلسطینیوں نے اس فتح کو حاصل کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں، چھوٹے چھوٹے بچوں کے جنازے اٹھائے، نوجوانوں کی لاشوں کو کاندھا دیا، اپنے گھروں کو زمین دوز ہوتے ہوئے دیکھا، زخمیوں کی فلک شگاف چیخیں سنیں، مگر پیچھے نہیں ہٹے، کیونکہ فلسطینی بخوبی جانتے ہیں کہ بغیر قربانی اور شہادت کے فتح حاصل نہیں ہوتی۔

قابل غور امریہ ہے کہ جنگ کا آغاز یوم قدس کے فوراَ بعد ہوا، جو ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی کے لیے منایا جاتا ہے۔ اسی دن بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے جارحیت کا آغاز کیا جس میں 700 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کی اس جارحیت نے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کو حملے پر مجبور کر دیا۔ فلسطین کی طرف سے اسرائیلی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف یہ پہلا ایسا مؤثر حملہ تھا جس نے اسرائیلیوں کی نیند حرام کردی۔ یوم قدس کو جنگ کا آغاز ہوا اور ماہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی برکتوں نے جنگ کے نتائج کو فلسطین کے حق میں کر دیا۔

11 روزہ اس جنگ میں اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس دوران اسرائیل پر تابڑ توڑ فضائی اور زمینی حملے ہوئے جن میں بالعموم بچے اور خواتین نشانہ بنتے رہے۔ غزہ کے دلیر اور بہادر عوام نے کم از کم 235 شہیدوں کے خون کا نذرانہ پیش کیا، جن میں 100 سے زائد خواتین اور کمسن بچے شامل ہیں۔ قریب 1700 افراد زخمی بھی ہوئے، جبکہ سیکڑوں رہائشی مکانات، عمارتوں اور بنیادی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا، تاہم فلسطینی عوام نے اپنی عزت و شرف کا سودا نہیں کیا اور ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ قبلہ اول اور فلسطین پر قابضین کو سکون سے نہیں رہنے دیں گے۔ جس فلسطین کے پاس اپنی آرمی تک نہ ہو اس کی چھوٹی چھوٹی مزاحمتی تنظیموں نے جنگ کو 11 دنوں تک کامیابی کے ساتھ جاری رکھا، یہ آسان کام نہیں تھا۔

فلسطین کی استقامتی قوتوں کی اس بے مثال اور تاریخی جوابی اور دفاعی کارروائیوں کو دیکھ کر ساری دنیا حیران اور انگشت بدنداں رہ گئی ہے اور ماہرین کے بقول اس جنگ نے محض 52.5 لاکھ کی آبادی پر مشتمل فلسطین کے مقابلے 1948 میں جنم لینے والے تقریباً 90 لاکھ کی آبادی والے اسرائیل کی کمزوریوں کو بخوبی عیاں کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل جہاں آبادی کے لحاظ سے دہلی اور ممبئی سے بھی کم ہے وہیں علاقائی رقبہ کے طور پر دیکھا جائے تو دنیا کی واحد یہودی ریاست ہمارے کیرالہ سے بھی چھوٹی ہے۔ اس کے باوجود فلسطینیوں نے ہرمعاملے میں خود سے ’طاقتور‘ اسرائیل کا مقابلہ کیا۔ جنگ بندی پر اتفاق رائے سے ٹھیک پہلے آخری حملہ حماس نے ہی کیا تھا جو اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر اپنی برتری ثابت کر دی۔

اس بار یہودی شدت پسندی کے مرکز تل ابیب پر بھی تاریخ کا سب سے بڑا راکٹ حملہ کیا گیا جس کے بارے میں کبھی اسرائیل نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ یہودیوں کا دفاعی سسٹم آئرن ڈوم جس پر انہیں بڑا ناز تھا، وہ بھی مکمل طور پر مقبوضہ علاقوں میں رہائش پذیر یہودیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا اور یہودیوں کی بڑی تعداد اپنے شب و روز زیر زمین بنے ہوئے، بنکروں اور پناہ گاہوں میں گزارنے پر مجبور ہو گئی۔ اس طرح قدس، غرب اردن کا غزہ اور 1948 کے علاقوں نیز فلسطینی کیمپوں کے درمیان تعاون کے تجربے نے فلسطینیوں کی آئندہ حکمت عملی کو مشخص و معین کر دیا ہے۔ جرائم کا تسلسل اور جنگ بندی کی درخواست دونوں باتیں ہی اسرائیل کی شکست شمار ہوتی ہیں، وہ اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔

مصر کی کوششوں سے جمعہ کو علی الصبح اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی تو ہوگئی تاہم اب بھی کئی سوالات جواب طلب ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے امن کی گہری بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل میں بہت سارے لوگ امن کو خاموشی کے طور دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ فلسطینیوں کے لیے طویل ناانصافی کی صورت حال ہے۔ ان حالات میں عالم اسلام پر فلسطین کے تعلق سے کچھ ذمہ داری اور دینی فریضہ عاید ہوتا ہے، سیاسی شعور اور حکمرانی کا تجربہ بھی اس حکم کی تائید اور تاکید کرتا ہے۔ آج پہلے کی نسبت مسلم ممالک کو فلسطین کی حمایت میں پورے خلوص کے ساتھ میدان میں آجانا چاہیے۔ مسلمان ملکوں کو چاہیے کہ شجاع اور مدبرانہ قیادت کی تلاش کریں اور ملت اسلامیہ کے مفادات کی حفاظت کے لیے اسلام کے کھلے ہوئے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کریں۔

جب فلسطین کی مقاومتی تنظیمیں اسرائیل کو شکست دے سکتی ہیں تو مسلم ممالک کے دل و دماغ پر اس کا خوف کیوں طاری ہے؟ آخر انہوں نے اس جنگ میں کھل کر فلسطین کی حمایت کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ تمام مسلمان ممالک فلسطین کی حمایت کے زبانی دعوے کرتے رہے اور کسی نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا، یہ افسوس ناک ہے۔ او آئی سی کا اجلاس کسی اہم نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہا، کیونکہ او آئی سی میں شامل تمام ممالک اسلام دشمنوں کے احسانوں تلے دبے ہوئے ہیں اور وہ کسی بھی حال میں اسرائیل کے خلاف نہیں جاسکتے۔ اسی طرح اقوام متحدہ جس کا اب تک صرف قراردادیں پاس کرنے کا ریکار رہا ہے، وہ بھی فلسطینیوں کو انصاف دلانے میں اپاہیج نظر آیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔