مودی اور یوگی کی ’بدنامی‘ سے آر ایس ایس پریشان، خفیہ اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد!

جو لوگ مودی اور یوگی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کر رہے تھے وہی لوگ اب ان دونوں سے کھلے طور پر سوال پوچھ رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

نئی دہلی: اترپردیش میں کورونا وبا کے دوران ریاستی حکومت کی بد انتظامی کے سبب وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندرمودی کی بھی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو آنکھیں موند کر مودی اور یوگی کا قصیدہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے وہی اب ان دونوں رہنماؤں سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ ان حالات میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کو لے کربی جے پی کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پریشان ہو اٹھی ہے۔

اسی سلسلے میں آر ایس ایس نے اتوار کو نئی دہلی میں ایک ’خفیہ‘ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، آرایس ایس کے دتاتریہ ہوسبولے کے ساتھ یوپی بی جے پی ریاستی تنظیم کے جنرل سکریٹری سنیل بنسل بھی شامل ہوئے۔ میٹنگ میں مرکز اور یوپی کی بی جے پی حکومتوں کی تضحیک، نیز مودی اور یوگی کی بدنامی پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی میٹنگ میں طے کیا گیا ہے کہ ایک مہم چلا کرمودی اور یوگی کی بگڑتی شبیہ کو بہتر بنایا جائے۔

بی جے پی کے دونوں سینئر لیڈروں (مودی اور یوگی) کی شبیہ سدھارنے کے کام میں پارٹی کے ساتھ ساتھ آرایس ایس بھی میدان میں اترے گی۔ دہلی میں ہوئی اس میٹنگ کے بعد پارٹی اور تنظیمی سطح پر بڑے فیصلے لئے جاسکتے ہیں تاکہ اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل پارٹی کی شبیہہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں کورونا کے دور میں آکسیجن کی قلت اور وقت پر دوائیاں نہ ملنے سے ہوئی ہزاروں لوگوں کی موت کی وجہ سے بی جے پی کی جو تصویر بنی ہے، اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کورونا کی دوسری لہر کے دوران مودی پر ہو رہے براہ راست حملوں سے بی جے پی کافی پریشان ہے۔ دوسری لہر نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، صحت کی خدمات کے حوالے سے حکومت کی تیاریاں اجاگر ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ویکسین، آکسیجن، بیڈ اور دوائیوں کی کمی نے حکومت کی بد انتظامی کو بھی سامنے لا دیا ہے۔ اترپردیش کورونا سے بری طرح متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے۔ گنگا میں بہتی لاشوں نے تو ریاست میں ہونے والی اموات کے حقائق کو سب کے سامنے رکھ دیا ہے۔

ریاست میں کورونا کی صورتحال کو سنبھالنے کو لے کر یوگی حکومت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ کیا حکومت اتر پردیش میں ٹیسٹ اور کیسز کے اعداد و شمار واقعی صحیح بتا رہی ہے۔ گزشتہ 7 سالوں میں پہلی بار ایسا دیکھا جارہا ہے کہ عوام کھلے طور پر مودی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں اس بات پر فکرمندی کا اظہار کیا گیا کہ بی جے پی حکومت کے حوالے سے عوام ناراض ہیں۔ ایسے میں اس ناراضگی کو روکنا ہے اس کے لئے مودی اور یوگی کی شبیہ سدھارنے کے لئے ایک مہم چلائی جائے گی۔

غور طلب ہے کہ یوپی میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں لیکن کورونا کی وجہ سے تبدیل ہوئے حالات میں بی جے پی اگر سیدھے انتخابات میں اترتی ہے تو اسے بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔ دراصل گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں کورونا منیجمنٹ کے نام پر حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو جان گنوانی پڑی ہے۔ ان میں حکومت کے وزراء کے ساتھ ساتھ کئی بڑی شخصیات بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مودی اور یوگی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کر رہے تھے وہی لوگ اب ان دونوں کھلے طور پر سوال پوچھ رہے ہیں۔ کئی ممبران اسمبلی اور وزراء نے بد انتظامی پر حکومت کو خط بھی لکھا ہے۔ چونکہ اب انہیں بھی عوام کے درمیان ووٹ مانگنے جانا ہے اس لئے انہیں فکر ہونا فطری بات ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 May 2021, 12:40 PM