’سپریم پہل‘ سے کٹ جائیں گے حکومت کے ہاتھ!... نواب علی اختر

صدیق کپن ہوں یا جگنیش میوانی، جب کسی مسئلے پر حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کرکے جیل میں رکھا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

نواب علی اختر

مرکز کی مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت ہو یا پھر اس کی فرمانبردار ریاستوں کی حکومتیں ہوں، موجودہ وقت میں تقریباً سبھی نے ایک نکاتی ایجنڈہ اختیار کرلیا ہے یعنی جو کوئی وزیر اعظم کو نشانہ بنائے گا، حکومت سے سوال کرے گا، حکومت پر تنقید کرے گا یا حکومت کی ناکامیوں اور دوغلی پالیسیوں کو عوام کے سامنے آشکار کرے گا اس کے خلاف ’غداری‘ کے مقدمات درج کئے جائیں گے اور انہیں جیلوں میں ٹھونس دیا جائے گا۔ عام آدمی ہو یا پھر سماجی جہد کار ہوں ایسے درجنوں لوگ ہیں جو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے پر مجبور ہیں اور کئی کئی مہینوں سے جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ صدیق کپن ہوں یا جگنیش میوانی، جب کسی مسئلے پر حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کر کے جیل میں رکھا جاتا ہے۔

اس جیسی بے شمار دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جب کھلے عام بندوق اور ریوالور لہرانے والوں کو اور مساجد کی بے حرمتی کرنے اور ان پر بھگوا جھنڈا لہرانے والوں کو کھلا اور آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب تو سیاسی قائدین کے خلاف بھی اسی طرح کی روش عام ہوتی جا رہی ہے۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی لیڈر اعظم خان اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ ان کا جرم یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کی ترقی کی ’سیاست‘ کر رہے تھے۔ اب گجرات کے کانگریس رکن اسمبلی جگنیش میوانی کو آسام کی پولیس یکے بعد دیگرے مقدمات میں گرفتار کرچکی ہے۔ میوانی کا جرم بھی یہی تھا کہ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس پر آسام کی پولیس نے انہیں جیل بھیج دیا، میوانی کو جب 25 اپریل کو عدالت سے ضمانت ملی تو فوری بعد پولیس اہلکار پر حملے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔


حالانکہ ریاستی انتظامی کی اس انتقامی کارروائی پرعدالت نے سخت پھٹکار لگاتے ہوئے 29 اپریل کو میوانی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اتنا ہی نہیں عدالت نے کہا کہ اگر پولیس کی منمانی نہیں روکی گئی تو ہمارا اسٹیٹ ایک پولیس اسٹیٹ بن جائے گا۔ عدالت نے میوانی کو ضمانت دینے کے اپنے حکم میں گوہاٹی ہائی کورٹ سے ریاست میں پولیس کی حالیہ زیادتیوں کے خلاف دائر درخواست پر غور کرنے کی بھی درخواست کی۔ ساتھ ہی کہا کہ آسام پولیس کو باڈی کیمرہ پہننے اور گاڑیوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دینا چاہئے تاکہ کسی ملزم کو حراست میں لینے پر واقعات کو قید کیا جا سکے۔ ضلع اینڈ سیشن جوڈیشیل کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ جگنیش کے خلاف پولیس نے جھوٹا کیس درج کیا ہے۔

اس طرح کے کئی معاملے ہیں جس میں حکومتوں کی جانب سے انتقامی کارروائی کی جاتی ہے لیکن اسے عوامی ہمدردی حاصل کرنے لیے غداری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مگر شاید اب زیادہ دنوں تک حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائے گی کیونکہ غداری کا قانون اب سپریم کورٹ برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ حال ہی میں غداری قانون کو منسوخ کرنے کی درخواستوں پر مزید تاخیر کو نامنظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت رواں ہفتے کے آخر تک اپنا جواب داخل کر دے۔ 5 مئی سے اس معاملے کی حتمی سماعت شروع ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔


یہ بات کافی عرصے سے کہی جا رہی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اپنے مشاہدات میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ نو آبادیاتی دور کے اس قانون کو اب جاری رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس کے باوجود کسی نہ کسی وجہ سے یہ معاملہ التوا کا شکار رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس قانون کو جاری رکھنے کے لیے دانشور اور عدالتی حلقوں میں کوئی اپیل التوا میں نہ رہ جانے کے باوجود جتنے دن بھی یہ قانون ہے، اس کے استعمال میں کوئی کمی نہیں محسوس کی جا رہی ہے۔ جہاں جس پارٹی کی حکومت ہے وہاں مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت یہ قانون بھی ایسا ہے کہ اسے اس مقصد سے استعمال کرنے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

آئی پی سی کی دفعہ 124-اے ان الفاظ اور افعال کے لیے تین سال سے لے کرعمر قید تک کی سزا کا التزام کرتی ہے جو حکومت کے خلاف نفرت، توہین اور بغاوت بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوں۔ ایک طرف نفرت، توہین اور بغاوت جیسے الفاظ بہت وسیع معنی رکھتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی طرح کی تقریر کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ غیر ضمانتی دفعہ کی وجہ سے اس کا شکار ہونے والوں کا طویل عرصے کے لیے جیل جانا تقریباً طے رہتا ہے۔ اگر برطانوی دور حکومت کے تناظر میں دیکھیں تو اس وقت کی حکومت کے لیے یہ قانون بڑے کام کی چیز تھا۔ اپنی تحریر اور تقریروں میں انگریز حکومت کی تلخ تنقید کے علاوہ مجاہدین آزادی کے خلاف کوئی دیگر مقدمہ قائم کرنا مشکل تھا۔ چنانچہ اس قانون کی مدد سے انگریزی حکومت مجاہدین آزادی کو طویل مدت کے لیے جیل بھیج دیا کرتی تھی۔


اب آزاد، جمہوری ملک میں حکومت پر تنقید کی سزا دینا حقیقت میں قانون کا غلط استعمال ہے۔ حتمی سماعت کی بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہی کہا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال سے وہ سب سے زیادہ فکر مند ہے۔ اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اب اس مرحلے پر آتے ہوئے قانون کا غلط استعمال کو روکنے سے متعلق التزام کرنے جیسے دلائل کے جال میں نہ پھنسا جائے۔ 1962 کے مشہور کیدار ناتھ سنگھ فیصلے میں اسی مقصد سے غداری کے معاملوں کا دائرہ کم کیا گیا تھا لیکن اب تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کے رویے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ بغاوت (غداری) کے قانون کو بغیر کسی تاخیر کے فوراً منسوخ کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔