غیرقانونی تعمیرات کا بہانہ، مسلمان ہے نشانہ!... نواب علی اختر

دہلی کے حالیہ واقعات سے ایسا لگ رہا ہے کہ سنگھ پریوار کے مظالم سے خود کی حفاظت کرنے کی جہانگیر پوری کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے۔

جہانگیر پوری، فائل تصویر یو این آئی
جہانگیر پوری، فائل تصویر یو این آئی
user

نواب علی اختر

’رام نومی‘ کی شوبھا یاتراؤں میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے برملا اظہار کے بعد سے ملک میں پیدا ہوئے انتہائی خطرناک حالات قریبی نسل کشی کا پیش خیمہ کہے جاسکتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں کسی مذہبی جلوس میں پہلی بار ایک ساتھ اور اتنے وسیع پیمانے پر مسلم مخالف اشتعال انگیزی اور تشدد واقع ہوئے جو ایک بڑے منصوبے کا پتہ دے رہے ہیں۔ ہندوتوا کی حمایت یافتہ بھیڑ کو مسلم محلوں میں لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی اور اب مسلمانوں کو محض اپنی حفاظت کی کوشش کرنے پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب سرکاری سرپرستی میں ہونے والا نسلی صفایا ہے، جس میں بی جے پی کی ریاستی و مرکزی حکومتیں شامل ہیں؟ دہلی کے حالیہ واقعات سے ایسا لگ رہا ہے کہ سنگھ پریوار کے مظالم سے خود کی حفاظت کرنے کی جہانگیر پوری کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے۔

قومی راجدھانی کے جہانگیر پوری میں جہاں کبھی صبح کے وقت مندر کی آرتی، شام کو مسجد کی اذان اور جھلسا دینے والی دوپہر میں ہارمونیم اور بانسری کی دھنیں سنائی دیتی تھیں، آج اسی جہانگیر پوری میں خوفناک سناٹا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور تارکول کی سڑکوں پرسفید خیمے ہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں، نقل و حرکت بہت کم ہے۔ 16 اپریل کو انتہا پسندوں کی ٹولی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو آگ لگا کر ایک دوسرے کی خوشی اورغم میں برابر کے شریک ہونے والے مختلف فرقوں کے لوگوں کو آپس میں ہی دشمن بنا دیا، جس کی وجہ سے ایک ہفتہ بعد بھی علاقے کے لوگ خوف کے عالم میں ہیں۔ پولیس کی تعیناتی کی وجہ سے آس پاس کے بیشتر راستے بند ہیں اور باہری لوگوں کے آنے جانے پر بھی پابندی ہے۔


جہانگیر پوری میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا ۔ یہاں پتھراﺅ اور تشدد کی وجہ بھی ہنومان جینتی میں شامل شرپسند عناصر تھے جنہوں نے عین نماز کے وقت مسجد کے پاس جاکر اشتعال انگیزی کی، مسجد کے گیٹ پر بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی، جس سے روکا گیا تو مسجد کے پاس کھڑے لوگوں پر پتھراﺅ کر دیا گیا، دفاع میں مسلمانوں نے بھی پتھراﺅ کیا جس کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ پتھراؤ اور آتش زنی کے چند دنوں بعد تجاوزات کے نام پر وہاں دکانوں پر بلڈوزر چلانا شروع ہو گئے جس کے بعد علاقے کے لوگ خوف میں مبتلا ہیں۔ جہانگیر پوری تشدد کے ذمہ دار چند ہی لوگ ہیں لیکن اس سے ایک بڑا کاروباری طبقہ اور مقامی باشندے متاثر ہو رہے ہیں۔ تشدد کے سبب ایک ہفتے سے دکانیں بند ہونے سے لوگ فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ مسلم مخالف تشدد کی آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ دکانوں اور مسجد کے گیٹ کو مسمار کرنے کی کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔ ’تجاوزارت‘ کے نام پرعلاقے میں کی گئی ’بلڈوزر سیاست‘ مکمل طور پر جانبدارانہ اور غیر منصفانہ ہے، انہدامی کارروائی کا مطلب بالکل واضح اور صاف ہے۔ ان یک طرفہ غیر قانونی کاروائیوں سے انتظامیہ کی متعصب ذہنیت صاف عیاں ہوتی ہے۔ اگر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنا مقصود ہوتا تو قانونی تقاضوں کی تکمیل کی جاتی، مگر یہاں انسانی ہمدردی اور عدالت عظمیٰ کے احکامات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ یکطرفہ کارروائی اس لیے بھی کہی جا رہی ہے کہ جن دکانوں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا، وہ ان لوگوں کی ہیں جو معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔


بی جے پی حکومت والے کارپوریشن کے یہ دعوے کہ یہ کارروائیاں معمول کی کارروائیاں ہیں اور ان کا فرقہ وارانہ تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس قدر مضحکہ خیز ہیں کہ کوئی کم عقل بھی ان پر یقین نہیں کرسکتا۔ کارروائی کے وقت سے صاف واضح ہے کہ یہ ایک قسم کی فرقہ وارانہ اور اقلیتوں میں ڈر اور خوف پیدا کرنے کے لیے کی گئی کاروائی ہے۔ اس طرح کی انہدامی کاروائیوں کا سلسلہ بی جے پی زیر حکمرانی مختلف ریاستوں میں بھی پچھلے دنوں انجام دیا گیا۔ انہدامی کارروائیوں کا یہ رجحان بہت خطرناک ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک فرقہ واریت کے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہو، یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو ختم کرنے اور سرکاری افسروں کی انارکی کو فروغ دینے کا رجحان ہے۔

در اصل بی جے پی اب بلڈوزر کو انتخابی ہتھیار بناتی جا رہی ہے۔ دہلی میں جو فسادات بھڑکائے گئے تھے وہ اچانک عوام کے درمیان کسی تنازعہ یا کشیدگی کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان فسادات کو منظم انداز میں بھڑکایا گیا تھا تاکہ بی جے پی اپنی انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھا سکے۔ اب تک کی تمام آزاد رپورٹوں میں یہی سامنے آیا ہے کہ دہلی میں رام نومی اور پھر ہنومان جینتی کے موقع پر عمداً فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات بھڑکائے گئے۔ عوام کو ایک بار پھر ہند و مسلم میں بانٹ دیا گیا۔ اب تو حد یہ ہوگئی کہ غیر قانونی تعمیر کے نام پر تو کہیں فسادات میں ملوث رہنے کے الزام عائد کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے گھر اور تجارت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔


یاد ہوگا کہ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل بھی فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے تھے اور اس وقت بھی مسلمانوں کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا تھا وہ سارے ملک نے دیکھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب ملک اور عوام صرف دیکھ رہے ہیں اور غلط کو غلط کہنے کی جرأت کھوتے جا رہے ہیں یا پھر حکومت کی بلڈوزر سیاست سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کے سارے انتہا پسند جنونیوں نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ مسلمانوں کو قتل کیا گیا، انہیں پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، ان کے گھر اور دکانوں کو نذرآتش کر دیا گیا۔ اس کے باوجود بی جے پی کو یہاں کامیابی نہیں ملی تھی۔ اب کارپوریشن انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر بی جے پی کی جانب سے آگ اور خون کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔