حکومت ظفر الاسلام کے خلاف لگائے الزامات پر نظر ثانی کرے... ظفر آغا

ہمیں پورا یقین ہے کہ ظفرالاسلام ایک سچے ہندوستانی شہری ہیں، وہ قطعاً عربوں سے ہندوستان پرحملے کی بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ ان کے پورے خاندان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ وطن پرست کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

لیجیے اب ظفر الاسلام پر حکومت ہند کا قہر، آپ واقف ہیں کہ چند روز قبل حکومت نے ان کے خلاف وطن سے غداری کا الزام عائد کر دہلی کے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفر الاسلام کے خلاف مقدمہ قائم کر دیا۔ کل یعنی 6 مئی کو روزہ افطار سے تھوڑا قبل دہلی پولیس ان کو اس معاملہ میں پوچھ گچھ کرنے کی غرض سے ان کے گھر پہنچ گئی۔ اوکھلا علاقہ میں واقع ان کے مکان پر یہ خبر سن کر ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ لوگوں میں اس بات پر غم و غصہ تھا کہ ایک انتہائی محترم شخصیت کے خلاف پولیس ان کے گھر پہنچ گئی۔ چنانچہ حالات بگڑنے کا اندیشہ لھا کر دہلی پولیس جلد ہی الٹے پاؤں لوٹ گئی، لیکن دہلی کے تمام اقلیتی حلقوں میں اس معاملہ پر غم و غصہ پھیل گیا۔ مختلف مسلم تنظیموں کے اکابر ان کے گھر اظہار ہمدردی کے طور پر پہنچ گئے۔ آج یعنی 7 مئی کو ظفر الاسلام صاحب اس معاملہ کو لے کر دہلی ہائی کورٹ چلے گئے۔ اس مضمون کے لکھے جانے تک عدالت کا فیصلہ نہیں آیا تھا۔

الغرض ظفر الاسلام نے ایسا کون سا جرم کر دیا کہ وہ ’غدار وطن‘ کے الزام میں پھنس گئے۔ وہ دہلی کے مسلم حلقہ کی ایک باعزت اور محترم شخصیات میں سے ہیں۔ فی الوقت وہ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ہیں اور عرصہ دراز سے صحافت کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ ’ملی گزٹ‘ نامی ایک انگریزی اخبار کے مالک، ایڈیٹر ہیں۔ ظفر الاسلام صاحب مشہور اسلامک اسکالر مولانا وحید الدین خان کے فرزند ارجمند ہیں اور خود ان کا شمار بھی اسلامی اسکالرس میں ہوتا ہے۔ ایسی برد بارو سنجیدہ شخصیت کو راتوں رات غدارِ وطن ٹھہرا دینا حیران کن ہے۔

لیکن ظفر الاسلام صاحب کا گناہ کیا ہے! انہوں نے چند روز قبل سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے کویت کا اس بات پر شکریہ ادا کیا تھا کہ کویت نے ہندوستانی مسلمانوں کی مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیا۔ پھر انہوں نے کٹر ہندو انتہا پسندوں کو یہ یاد دلایا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو عرب دنیا میں بہت عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان نے شاہ ولی اللہ دہلوی، علامہ اقبال، ابو الحسن ندوی، وحید الدین خان اور ذاکر نائیک جیسے مشہور عالم اسلامیات پیدا کیے، جن کا ساری عرب دنیا میں احترام ہوتا ہے۔ آخر میں انہوں نے فرقہ پرستوں کو ہوشیار کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے عربوں سے آج تک کبھی کوئی مدد نہیں مانگی، لیکن اگر کبھی مانگی تو ایک آفت بپا ہو جائے گی۔

ظفر الاسلام صاحب کے اس آخری جملے کو ایک ٹی وی چینل نے یہ رنگ دیا کہ وہ عرب ممالک کو ہندوستان پر حملہ کرنے کو اکسا رہے ہیں۔ بس دہلی پولیس کو وہ ’غدار وطن‘ نظر آنے لگے۔ اور پھر ان کے ساتھ جو ہوا اس سے تو آپ بخوبی واقف ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ظفر الاسلام واقعی غدار ہیں یا نہیں ہیں۔ ایک معمولی ٹوئٹ بھلا دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کو راتوں رات کیسے غدار ثابت کر سکتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی منشا کچھ اور ہے۔ حکومت دراصل اس ملک کی اقلیت کو ہر حال میں حیران و پریشان کرنے کا ایجنڈا بنا کر اس پر عمل کر رہی ہے۔ کبھی این پی آر تو کبھی این آر سی کی دھمکی، حد یہ ہے کہ کورونا وائرس کے طوفان کے درمیان جب کچھ نہیں ملا تو تبلیغی جماعت کو کورونا جہادی کا رنگ دے دیا گیا۔ ظفر الاسلام صاحب کے خلاف لگائے گئے بدترین الزامات اسی سازش کا اایک حصہ ہیں۔

ہمیں پورا یقین ہے کہ ظفرالاسلام ایک سچے ہندوستانی شہری ہیں۔ وہ قطعاً عربوں سے ہندوستان پر حملے کی بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ ان کے پورے خاندان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ وطن پرست کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتے۔ ایسی شخصیت کے خلاف حکومت وقت نے جو وطن کے خلاف غداری کا الزام لگایا ہے وہ بے معنی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت وقت اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور ظفر الاسلام صاحب جیسی باعزت شخصیت کے خلاف قائم کردہ مقدمہ کو واپس لے لے گی۔

Published: 7 May 2020, 8:38 PM